- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
3- بَاب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ
۳-باب: امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟
4496- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أُصِيبَ بِقَتْلٍ أَوْ خَبْلٍ فَإِنَّهُ يَخْتَارُ إِحْدَى ثَلاثٍ: إِمَّا أَنْ يَقْتَصَّ، وَإِمَّا أَنْ يَعْفُوَ، وَإِمَّا أَنْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، وَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ >۔
* تخريج: ق/الدیات ۳ (۲۶۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۵۹)، وقد أخرجہ: حم ( ۴/۳۱)، دي/الدیات ۱ (۲۳۹۶) (ضعیف)
۴۴۹۶- ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' جس شخص کو (اپنے کسی رشتہ دار کے) قتل ہونے، یا زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی ہو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہوگا : یا تو قصاص لے لے، یا معاف کر دے، یا دیت لے لے ، اگر وہ ان کے علاوہ کوئی چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو ، اور جس نے ان ( اختیارات) میں زیادتی کی تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے''۔
4497- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ رُفِعَ إِلَيْهِ شَيْئٌ فِيهِ قِصَاصٌ إِلا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ۔
* تخريج: ن/القسامۃ ۲۳ (۴۷۸۷، ۴۷۸۸)، ق/الدیات ۳۵ (۲۶۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۱۳، ۲۵۲) (صحیح)
۴۴۹۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی نبی اکرمﷺ کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ(پہلے )آپ اس میں معاف کر دینے کا حکم دیتے ۔
4498- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ ، فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِلْوَلِيِّ: < أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ > قَالَ: فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ، فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ۔
* تخريج: ت/الدیات ۱۳ (۱۴۰۷)، ن/القسامۃ ۳ (۴۷۲۶)، ق/الدیات ۳۴ (۲۶۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۰۷) (صحیح)
۴۴۹۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کے زمانے میں ایک شخص قتلکر دیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرمﷺ کی عدالت میں پیش کیا گیا،آپ نے اس (قاتل ) کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا، قاتل کہنے لگا: اللہ کے رسول!اللہ کی قسم! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے وارث سے فرمایا:'' سنو! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا، تو تم جہنم میں جائو گے'' ، یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے ، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑگیا۔
4499- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ جِيئَ بِرَجُلٍ قَاتِلٍ فِي عُنُقِهِ النِّسْعَةُ، قَالَ: فَدَعَا وَلِيَّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ: < أَتَعْفُو >؟ قَالَ: لا، قَالَ: < أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟ > قَالَ: لا، قَالَ: < أَفَتَقْتُلُ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < اذْهَبْ بِهِ > فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: < أَتَعْفُو؟ > قَالَ: لا، قَالَ: < أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟ > قَالَ: لا، قَالَ: < أَفَتَقْتُلُ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < اذْهَبْ بِهِ >، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ: < أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِهِ > قَالَ: فَعَفَا عَنْهُ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ النِّسْعَةَ ۔
* تخريج: م/القسامۃ ۱۰ (۱۶۸۰)، ن/القسامۃ ۳ (۴۷۲۸)، القضاء ۲۵ (۵۴۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۶۹)، وقد أخرجہ: دي/الدیات ۸ (۲۴۰۴) (صحیح)
۴۴۹۹- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لا یا گیا، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا، اور اس سے پوچھا: ''کیا تم معاف کرو گے؟''، اس نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو کیا دیت لوگے؟''، اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' تو کیا تم قتل کروگے؟''، اس نے کہا: ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اچھا لے جائو اسے''، چنانچہ جب وہ ( اسے لے کر) چلا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا:'' کیا تم اسے معاف کرو گے؟''، اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' کیا تم دیت لوگے؟''، اس نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' کیا تم قتل کرو گے؟''، اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' اسے لے جائو''، چو تھی بار میں آپ ﷺ نے فرمایا:'' سنو! اگر تم اسے معاف کردو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا''، یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا۔
وائل کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا۔
4500- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۶۹)
۴۵۰۰- اس سند سے بھی علقمہ بن وائل سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ۔
4501- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ بِحَبَشِيٍّ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا قَتَلَ ابْنَ أَخِي قَالَ: < كَيْفَ قَتَلْتَهُ ؟ > قَالَ: ضَرَبْتُ رَأْسَهُ بِالْفَأْسِ وَلَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ، قَالَ: < هَلْ لَكَ مَالٌ تُؤَدِّي دِيَتَهُ؟ > قَالَ: لا، قَالَ: <أَفَرَأَيْتَ إِنْ أَرْسَلْتُكَ تَسْأَلُ النَّاسَ تَجْمَعُ دِيَتَهُ؟ > قَالَ: لا، قَالَ: < فَمَوَالِيكَ يُعْطُونَكَ دِيَتَهُ؟ > قَالَ: لا، قَالَ لِلرَّجُلِ: < خُذْهُ > فَخَرَجَ بِهِ لِيَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَمَا إِنَّهُ إِنْ قَتَلَهُ كَانَ مِثْلَهُ > فَبَلَغَ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ يَسْمَعُ قَوْلَهُ، فَقَالَ: < هُوَذَا فَمُرْ فِيهِ مَا شِئْتَ > فَقَالَ رَسُولُ اللَّه ﷺ : < أَرْسِلْهُ [وَقَالَ مَرَّةً دَعْهُ] يَبُوءُ بِإِثْمِ صَاحِبِهِ وَإِثْمِهِ فَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ > قَالَ: فَأَرْسَلَهُ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۴۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۶۹) (صحیح)
۴۵۰۱- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو لے کرنبی اکرمﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا:'' تم نے اسے کیسے قتل کر دیا؟''، وہ بولا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر گیا، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا، آپ نے پوچھا:'' کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کرسکو''،اس نے کہا:نہیں، آپ نے فرمایا:''بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کر سکتے ہو؟''، اس نے کہا: نہیں ، آپ نے فرمایا:'' کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کر دیں گے؟''، اس نے کہا : نہیں، تب آپ نے اس شخص (مقتول کے وارث ) سے فرمایا:''اسے لے جائو''، جب وہ اسے قتل کر نے کے لئے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا:'' اگر یہ اس کو قتل کردے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا''، وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا: وہ یہ ہے، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''اسے چھوڑ دو ، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہو گا''، چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔
4502- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ابْنِ سَهْلٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلامَ مَنْ عَلَى الْبَلاطِ، فَدَخَلَهُ عُثْمَانُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونَنِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، قَالَ: قُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! قَالَ: وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ: كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلامٍ، أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ > فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلا فِي إِسْلامٍ قَطُّ، وَلاأَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ، وَلا قَتَلْتُ نَفْسًا فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي؟.
قَالَ أَبو دَاود: عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْهمَا تَرَكَا الْخَمْرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ۔
* تخريج: ت/الفتن ۱ (۲۱۵۸)، ن/المحاربۃ ۶ (۴۰۲۴)، ق/الحدود ۱ (۲۵۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۶۱، ۶۲، ۶۵، ۷۰)، دی/ الحدود ۲ (۲۳۴۳) (صحیح)
۴۵۰۲- ابو امامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، آپ گھر میں محصور تھے ، گھر میں داخل ہونے کا ایک راستہ ایسا تھا کہ جو اس میں داخل ہو جاتا وہ باہر سطح زمین پرکھڑے لوگوں کی گفتگو سن سکتا تھا ، عثمان اس میں داخل ہوئے اور ہمارے پاس لوٹے تو ان کا رنگ متغیر تھا، کہنے لگے: ان لوگوں نے ابھی ابھی مجھے قتل کر نے کی دھمکی دی ہے ، تو ہم نے عرض کیا: امیرالمومنین !آپ کی ان سے حفا ظت کے لئے اللہ کا فی ہے ، اس پر انہوں نے کہا: آخر یہ مجھے کیوں قتل کر نا چا ہتے ہیں؟میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے:'' تین باتوں کے بغیر کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں:ایک یہ کہ اسلام لا نے کے بعد وہ کفر کا ارتکاب کرے،دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہو کر زناکرے،اورتیسرے یہ کہ ناحق کسی کوقتل کر دے'' ، تو اللہ کی قسم ! میں نے نہ تو جاہلیت میں، اور نہ اسلام لا نے کے بعد کبھی زنا کیا ، اور جب سے اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہے میں نے کبھی نہیں چا ہا کہ میرا دین اس کے بجائے کوئی اور ہو، اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے ، تو آخر کس بنیاد پر مجھے یہ قتل کریں گے؟!۔
ابو داود کہتے ہیں: عثمان اور ابو بکر رضی اللہ عنہما نے تو جا ہلیت میں بھی شراب سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔
4503- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ الضُّمَرِيَّ (ح) و أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ - وَهَذَا حَدِيثُ وَهْبٍ وَهُوَ أَتَمُ - يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُوسَى: وَجَدِّهِ - وَكَانَا شَهِدَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حُنَيْنًا، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى حَدِيثِ وَهْبٍ - أَنْ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلا مِنْ أَشْجَعَ فِي الإِسْلامِ، وَذَلِكَ أَوَّلُ غِيَرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَتَكَلَّمَ عُيَيْنَةُ فِي قَتْلِ الأَشْجَعِيِّ لأَنَّهُ مِنْ غَطَفَانَ، وَتَكَلَّمَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ دُونَ مُحَلِّمٍ لأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ، فَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يَا عُيَيْنَةُ أَلا تَقْبَلُ الْغِيَرَ؟ > فَقَالَ عُيَيْنَةُ: لا، وَاللَّهِ حَتَّى أُدْخِلَ عَلَى نِسَائِهِ مِنَ الْحَرْبِ وَالْحُزْنِ مَا أَدْخَلَ عَلَى نِسَائِي، قَالَ: ثُمَّ ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يَا عُيَيْنَةُ! أَلا تَقْبَلُ الْغِيَرَ؟ > فَقَالَ عُيَيْنَةُ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا، إِلَى أَنْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ عَلَيْهِ شِكَّةٌ وَفِي يَدِهِ دَرِقَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَجِدْ لِمَا فَعَلَ هَذَا فِي غُرَّةِ الإِسْلامِ مَثَلا إِلا غَنَمًا وَرَدَتْ فَرُمِيَ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا، اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < خَمْسُونَ فِي فَوْرِنَا هَذَا، وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ > وَذَلِكَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَمُحَلِّمٌ رَجُلٌ طَوِيلٌ آدَمُ وَهُوَ فِي طَرَفِ النَّاسِ، فَلَمْ يَزَالُوا حَتَّى تَخَلَّصَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي بَلَغَكَ، وَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَقَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الإِسْلامِ، اللَّهُمَّ لاتَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ > بِصَوْتٍ عَالٍ، زَادَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقَامَ وَإِنَّهُ لَيَتَلَقَّى دُمُوعَهُ بِطَرَفِ رِدَائِهِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَقَ: فَزَعَمَ قَوْمُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ اسْتَغْفَرَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ .
[قَالَ أَبو دَاود: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ الْغِيَرُ: الدِّيَةُ ]۔
* تخريج: ق/الدیات ۴ (۲۶۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۲۴)، وقد أخرجہ: حم ( ۵/۱۱۲، ۶/۱۰) (ضعیف)
۴۵۰۳- زبیربن عوام اور ان والدعوام رضی اللہ عنہما ( یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے) سے روایت ہے کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کردیا، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے کیا، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لئے کہ وہ قبیلہ عظفان سے تھا، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لئے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں، اور شوروغل بڑھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''عیینہ ! کیا تم دیت قبول نہیں کرسکتے؟''، عیینہ نے کہا: نہیں ،اللہ کی قسم، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج وغم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچا یا ہے ، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شوروغل بڑھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کرسکتے؟''،عیینہ نے پھراسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہو ا جسے مکیتل کہا جاتا تھا، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لئے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے ، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو، اور پچا س مدینے لوٹ کر دینا''۔
اور یہ واقعہ ایک سفرکے دوران پیش آیا تھا ،محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا ، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا ، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے آبیٹھا،اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے، اب میں توبہ کرتا ہوں، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے بہ آواز بلند فرمایا:'' کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے ، اے اللہ! محلم کونہ بخشنا'' ،ابو سلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کرمحلم کھڑا ہوا، وہ اپنی چادر کے کو نے سے اپنے آنسو پو نچھ رہا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں: محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد اس کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی ۔
ابو داود کہتے ہیں:نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ غیر کے معنی دیت کے ہیں۔