• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ
۱۸-باب: کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان​


4711- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سُئِلَ عَنْ أَوْلادِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۹۲ (۱۳۸۳)، والقدر ۳ (۶۵۹۷)، م/القدر ۶ (۲۶۶۰)، ن/الجنائز ۶۰ (۱۹۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۵، ۳۲۸، ۳۴۰، ۳۵۸) (صحیح)
۴۷۱۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا: ''اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ زندہ رہتے تو کیا عمل کرتے''۔


4712- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ(ح) وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ وَكَثِيرُ ابْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، الْمَعْنَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: < [هُمْ] مِنْ آبَائِهِمْ > فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِلا عَمَلٍ؟ قَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ > قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَذَرَارِيُّ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: <مِنْ آبَائِهِمْ> قُلْتُ: بِلا عَمَلٍ؟ قَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ؟ >
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۸۴) (صحیح الإسناد)
۴۷۱۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مومنوں کے بچوں کا کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:'' وہ اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے''، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! بغیر کسی عمل کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیاعمل کرتے''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور مشرکین کے بچے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے''، میں نے عرض یا: بغیر کسی عمل کے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال ان بچوں کے متعلق تھا جو قبل بلوغت انتقال کرگئے تھے، رسول اکرمﷺ کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہی رہیں گے، اگرچہ ان سے کوئی کفر یا نیک عمل صادر نہ ہوا، لیکن اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اگر زندہ رہتے تو کیا کرتے۔


4713- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِصَبِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ يُصَلِّي عَلَيْهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! طُوبَى لِهَذَا لَمْ يَعْمَلْ شَرًّا وَلَمْ يَدْرِ بِهِ، فَقَالَ: < أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلا، وَخَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلا، وَخَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ >۔
* تخريج: م/القدر ۶ (۲۶۶۲)، ن/الجنائز ۵۸ (۱۹۴۹)، ق/المقدمۃ ۱۰ (۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۱، ۲۰۸) (صحیح)
۴۷۱۳- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ کے پاس انصار کا ایک بچہ صلاۃ پڑھنے کے لئے لایا گیا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زندگی کے مزے تو اس بچے کے لئے ہیں، اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی وہ اسے ( گناہ کو) سمجھتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: '' عائشہ! کیا تم ایسا سمجھتی ہو حالاں کہ ایسا نہیں ہے؟ اللہ تعالی نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لئے لوگ بھی پیدا کئے اور جنت کو ان لوگوں کے لئے جب بنایا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لئے لوگ بھی پیدا کئے گئے اور جہنم کو ان لوگوں کے لئے پیدا کیا جب کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کامطلب یہ تھا کہ چونکہ اس بچے نے کوئی گناہ نہ کیا اس لئے یہ تو یقینا جنتی ہے، رسول اکرم ﷺ نے اس یقین کی تردید فرمائی کہ بلا دلیل کسی کو جنتی کہنا درست نہیں، جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ تو اللہ نے انسان کے دنیا میں آنے سے قبل ہی کر دیا ہے، اور وہ ہمیں معلوم نہیں تو ہم کسی کو حتمی اور یقینی طور پر جنتی یا جہنمی کیسے کہہ سکتے ہیں، یہ حدیث مندرجہ بالا حدیث سے معارض معلوم ہوتی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان بچے جو بچپن ہی میں مرجائیں گے اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے، نیز علماء کا اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، اس حدیث کا یہ جواب دیا گیا کہ حضرت عائشہ کو جنتی یا جہنمی کا فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے روکنا مقصود تھا اور بس، بعض نے کہا :یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اکرمﷺ کو بتایا نہیں گیا تھا کہ مسلم بچے جنتی ہیں۔


4714- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تَنَاتَجُ الإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ؟ > قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ؟ قَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۹۲ (۱۳۸۳)، والقدر ۳ (۶۵۹۲)، م/القدر ۶ (۲۶۵۸)، ن/الجنائز ۶۰ (۱۹۵۱)، ت/القدر ۵ (۲۱۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۵۷)، وقد أخرجہ: ط/الجنائز ۱۶ (۵۲)، حم (۲/۲۴۴، ۲۵۳، ۲۵۹، ۲۶۸، ۳۱۵، ۳۴۷، ۳۹۳، ۴۷۱، ۴۸۸، ۵۱۸) (صحیح)
۴۷۱۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہو تا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہو دی یا نصرانی بنا ڈالتے ہیں ، جیسے اونٹ صحیح و سالم جانور سے پیدا ہوتا ہے تو کیا تمہیں اس میں کوئی کنکٹا نظر آتا ہے؟''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا اس کے با رے میں کیا خیال ہے جو بچپنے میں مر جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے''۔


4715- قَالَ أَبو دَاود: قُرِءَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا أَسْمَعُ: أَخْبَرَكَ يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، قِيلَ لَهُ: إِنَّ أَهْلَ الأَهْوَاءِ يَحْتَجُّونَ عَلَيْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مَالِكٌ: احْتَجَّ عَلَيْهِمْ بِآخِرِهِ، قَالُوا: أَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ، قَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۵۳) (صحیح الإسناد)
۴۷۱۵- ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا: اہل بدعت ( قدریہ ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلا ف استدلال کرو، اس لئے کہ اس میں ہے: صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا:''اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے''۔


4716- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ يُفَسِّرُ حَدِيثَ < كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ > قَالَ: هَذَا عِنْدَنَا حَيْثُ أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ حَيْثُ قَالَ {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا بَلَى}۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۵۹۱) (صحیح الإسناد)
۴۷۱۶- حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حما د بن سلمہ کو ''كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ'' (ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہو تا ہے) ۱؎ کی تفسیر کرتے سنا ، آپ نے کہا: ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا ، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا: کیا میں تمہارا رب(معبود) نہیں ہوں؟ تو انہوں نے کہا تھا : کیوں نہیں، ضرور ہیں۔
وضاحت ۱؎ : فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی تاویل اس طرح بیان فرمائی کہ چونکہ میثاق الٰہی کے مطابق ہر ایک نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا تھا، لہٰذا اسی اقرار پر وہ پیدا ہوتا ہے، بعد میں لوگ اس کو یہودی، نصرانی ، مجوسی یا مشرک بنا لیتے ہیں۔


4717- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى [الرَّازِيُّ]، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الْوَائِدَةُ وَالْمَوْئُودَةُ فِي النَّارِ >.
قَالَ يَحْيَى [بْنُ زَكَرِيَّا]: قَالَ أَبِي: فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۶۶) (صحیح)
۴۷۱۷- عا مر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''وائدہ ( زندہ در گور کر نے والی) اور مؤودہ ( زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں'' ۱؎ ۔
یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں : میرے والد نے کہا: مجھ سے ابو اسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامرشعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت ۱؎ : ''وائدة'' اور ''موؤودة'' سے کیا مراد ہے؟بعض محدثین نے ''وائدہ'' سے زندہ درگور کرنے والی عورت، اور ''موؤودۃ'' سے زندہ درگور کی گئی بچی مراد لی ہے ،اس صورت میں ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ ایک خاص بچی کے بارے میں فرمایا، یہ حکم عام نہیں ہے، بعض محدثین کے نزدیک ''وائدہ'' سے مراد زندہ درگور کرنے والی عورت، اور ''موؤودۃ'' سے مراد وہ عورت ہے جو اپنی بچی کو زندہ درگور کرنے پر راضی ہو، اس صورت میں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔


4718- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: < أَبُوكَ فِي النَّارِ > فَلَمَّا قَفَّى قَالَ: < إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۸۸ (۲۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۹، ۲۶۸) (صحیح)
۴۷۱۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا:اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارے والد جہنم میں ہیں ''، جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا :'' میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : امام نووی فرماتے ہیں کہ اس سے صاف ظاہر ہے اہل فترہ (عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اور نبی اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے کے لوگ) اگر مشرک ہیں تو جہنمی ہیں، کیونکہ ان کو دعوت ابراہیمی پہنچی تھی، نبی اکرمﷺ کے والد کے بارے میں یہ حدیث نص صریح ہے، علامہ سیوطی وغیرہ نے جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ زندہ فرمایا، یا وہ ایمان لائے اور پھر مرگئے ،تو یہ محض موضوع من گھڑت روایات پر مبنی ہے،ائمہ حدیث مثلا دارقطنی، جورقانی، ابن شاہین، ابن عساکر، ابن ناصر، ابن الجوزی، سہیلی، قرطبی، محب الطبری، ابن سیدالناس، ابراہیم الحلبی وغیرہم نے ان احادیث کومکذوب مفتری اور موضوع قرار دیا ہے،علامہ ابراہیم حلبی نے اس بارے میں مستقل کتاب لکھی ہے، اسی طرح ملاعلی قاری نے شرح فقہ اکبر میں اور ایک مستقل کتاب میں یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے والدین کے ایمان کی بات غلط محض ہے،علی کل حال اس مسئلہ میں زیادہ نہیں پڑنا چاہیئے بلکہ اپنی نجات کی فکر کرنی چاہیئے۔


4719- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ >۔
* تخريج: م/السلام ۹ (۲۱۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۲۵، ۱۵۶، ۲۸۵) (صحیح)
ٍ ۴۷۱۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شیطان ابن آدم (انسان)کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کر تا ہے''۔


4720- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَعَمْرُو ابْنُ الْحَارِثِ وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ،وَلا تُفَاتِحُوهُمُ الْحَدِيثَ >.
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۷۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۶۹) (ضعیف)
(اس کے راوی ''حکیم بن شریک ہذلی''مجہول ہیں)
۴۷۲۰- عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے بات چیت میں پہل کرو''۔
 
شمولیت
مارچ 14، 2013
پیغامات
22
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
19
* تخريج: ت/الصوم ۳۸ (۷۳۸)، ق/الصیام ۵ (۱۶۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۵۱)، وقد أخرجہ: دي/الصوم ۳۴ (۱۷۸۱) (صحیح)
مجھے سمجھ نہیں آئی یہ ریفرنس کے ساتھ "تخریج" کیوں لکھا ہے ؟؟؟ کیا ان احادیث کی تخریج ہوئی ہے ؟؟؟؟؟؟ براہ مہربانی واضح کر دیں
مجھے جواب نہیں ملا اس سوال کا
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
* تخريج: ت/الصوم ۳۸ (۷۳۸)، ق/الصیام ۵ (۱۶۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۵۱)، وقد أخرجہ: دي/الصوم ۳۴ (۱۷۸۱) (صحیح)
مجھے سمجھ نہیں آئی یہ ریفرنس کے ساتھ "تخریج" کیوں لکھا ہے ؟؟؟ کیا ان احادیث کی تخریج ہوئی ہے ؟؟؟؟؟؟ براہ مہربانی واضح کر دیں
یہ پڑھیں۔
سنن ابی داود میں استعمال ہونے والے رموز وعلامات
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب فِي الْجَهْمِيَّةِ
۱۹-باب: جہمیہ کا بیان ۱ ؎​


4721- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَائَلُونَ حَتَّى يُقَالَ هَذَا: خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ >۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۱۱ (۳۲۷۶)، م/الإیمان ۶۰ (۱۳۴)، ن/ الیوم واللیلۃ (۶۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۳۱) (صحیح)
۴۷۲۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگ ایک دوسرے سے برا برسوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا : اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے : میں اللہ پر ایمان لا یا '' ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : جہمیہ:اہل بدعت کا ایک مشہور فرقہ ہے جواللہ کی صفات کا منکر ہے اور قرآن کو مخلوق کہتا ہے ، ائمہ دین کی بہت بڑی تعداد نے ان کی تکفیرکی ہے۔
وضاحت ۲؎ : اگر آدمی کو کوئی اس طرح کا شیطانی وسوسہ لاحق ہو تو اس کو دور کرنے اور ذہن سے جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لا چکا ہوں، صحیحین کی روایت میں ہے: میں اللہ و رسول پر ایمان لاچکا ہوں۔


4722- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ- قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ- قَالَ: حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَميْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: < فَإِذَا قَالُوا ذَلِكَ فَقُولُوا: {اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} ثُمَّ لِيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثًا وَلْيَسْتَعِذْ مِنَ الشَّيْطَانِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، ن/ عمل الیوم واللیۃ (۶۶۱)، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۷۸) (حسن)
۴۷۲۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ، پھر اس جیسی روایت ذکر کی ، البتہ اس میں ہے ، آپ نے فرمایا: ''جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: {اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} ( اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎ ، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ) پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھو کے اور شیطان سے پناہ مانگے''۔
وضاحت ۱؎ : احد وہ ہے جس کا کوئی مثیل و نظیر نہ ہو ، صمد وہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں۔


4723- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: < مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟ > قَالُوا: السَّحَابَ، قَالَ: < وَالْمُزْنَ > قَالُوا: وَالْمُزْنَ، قَالَ: <وَالْعَنَانَ > قَالُوا: وَالْعَنَانَ- قَالَ أَبو دَاود: لَمْ أُتْقِنِ الْعَنَانَ جَيِّدًا- قَالَ: $ هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ؟ > قَالُوا: لا نَدْرِي، قَالَ: < إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ أَوِ اثْنَتَانِ أَوْ ثَلاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، ثُمَّ السَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ > حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ: <ثُمَّ فَوْقَ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَائٍ إِلَى سَمَائٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلافِهِمْ وَرُكَبِهِمْ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَائٍ إِلَى سَمَائٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِمُ الْعَرْشُ مَا بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَائٍ إِلَى سَمَائٍ، ثُمَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ ۔
* تخريج: ت/تفسیر الحاقۃ ۶۷ (۳۳۲۰)، ق/المقدمۃ ۱۳ (۱۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۰۶، ۲۰۷) (ضعیف)
( اس کے راوی ''عبداللہ بن عمیرہ'' لین الحدیث ہیں)
۴۷۲۳- عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحا ء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ،جس میں رسول اللہ ﷺ بھی موجود تھے ، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: ''تم اسے کیا نام دیتے ہو؟ ''، لوگوں نے عرض کیا: سحاب( بادل )،آپ ﷺ نے فرمایا : ''اور مزن بھی''، لوگوں نے کہا: ہاں مزن بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اورعنان بھی''، لوگوں نے عرض کیا: اورعنان بھی، (ابو داود کہتے ہیں: عنان کو میں اچھی طرح ضبط نہ کرسکا) آپ ﷺ نے پوچھا: ''کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے ؟'' ، لوگوں نے عرض کیا : ہمیں نہیں معلوم، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسا فت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے'' ، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سات آسمان گنائے ، ''پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے ، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے ، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے ، جس کے نچلے حصہ اور اوپر ی حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی ، پھر اس کے اوپر اللہ تعالی ہے''۔
وضاحت ۱؎ : یعنی فرشتے ان کی شکل میں ہیں۔


4724- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالا: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۴) (ضعیف)
۴۷۲۴- اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔


4725- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۷۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۴) (ضعیف)
۴۷۲۵- اس سند سے بھی سماک سے اسی لمبی حدیث کا مفہوم مروی ہے ۔


4726- حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍالرِّبَاطِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ أَحْمَدُ: كَتَبْنَاهُ مِنْ نُسْخَتِهِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جُهِدَتِ الأَنْفُسُ، وَضَاعَتِ الْعِيَالُ، وَنُهِكَتِ الأَمْوَالُ، وَهَلَكَتِ الأَنْعَامُ، فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا، فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < وَيْحَكَ!! أَتَدْرِي مَا تَقُولُ؟ > وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: < وَيْحَكَ!! إِنَّهُ لا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ!! أَتَدْرِي مَا اللَّهُ، إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا > وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ: < وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ > قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: < إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ > وَسَاقَ الْحَدِيثَ، و قَالَ عَبْدُالأَعْلَى وَابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الصَّحِيحُ، وَافَقَهُ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ كَمَا قَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا، وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِالأَعْلَى وَابْنِ الْمُثَنَّى وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۹۶) (ضعیف)
(ابن اسحاق مدلس ہیں، نیز سند میں اختلاف ہے)
۴۷۲۶- جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اورکہا : اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے ، گھر بار تبا ہ ہو گئے ، مال گھٹ گئے ، جا نور ہلا ک ہو گئے ، لہٰذا آپ ہمارے لئے با رش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اوراللہ کو سفا رشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارا برا ہو، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟''، پھر رسول اللہ ﷺ سبحا ن اللہ کہنے لگے، اور برا بر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ ﷺ کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا: ''تمہارا برا ہو اللہ کواس کی مخلوق میں سے کسی کے دربارمیں سفارشی نہیں بنایا جاسکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے ، تمہارا برا ہو! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے ، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے (آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طو ر پر اشارہ کیا) اور وہ چر چر اتا ہے جیسے پالا ن سوا ر کے بیٹھنے سے چر چرا تا ہے، ( ابن بشار کی حدیث میں ہے) اللہ تعالی اپنے عرش کے اوپر ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے ۲؎ ''، اور پھر پوری حدیث ذکر کی ۔
عبدالا علی، ابن مثنّٰی اور ابن بشا رتینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمدبن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے ۔
البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے ، اس پر ان کی مو افقت ایک جماعت نے کی ہے ، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے ، اور عبدالاعلی ، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے ، ایک ہی نسخے سے ہے۔


4727- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۸۶) (صحیح)
۴۷۲۷- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: '' مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فر شتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : عمدہ گھوڑے کی چال سے جیسا کہ دوسری حدیث میں مروی ہے،اس حدیث کا مقصود حاملین عرش کا طول وعرض اور عظمت وجثہ بتانا ہے، اور ستر کاعدد بطور تحدید نہیں ہے بلکہ اس سے کثرت مراد ہے۔


4728- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ -يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ- حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {سَمِيعًا بَصِيرًا} قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: قَالَ الْمُقْرِءُ: [يَعْنِي {إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ} يَعْنِي أَنَّ لِلَّهِ سَمْعًا وَبَصَرًا] .
قَالَ أَبو دَاود: وَهَذَا رَدٌّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۶۷) (صحیح الإسناد)
۴۷۲۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیرکہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کوآیت کریمہ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا}۔۔۔ {سَمِيعًا بَصِيرًا} ۱؎ تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، (یعنی شہادت کی انگلی کو) ، ابو ہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔
ابن یونس کہتے ہیں :عبداللہ بن یزید مقری نے کہا: یعنی {إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ} پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ جہمیہ کا ردّ ہے ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو ۔۔۔۔۔۔اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے'' (سورۃ النساء : ۵۸)
وضاحت ۲؎ : اس حدیث میں جہمیہ کا رد بلیغ ہے، جہمیہ اللہ کے لئے صفت سمع وبصر کی نفی کرتے ہیں، رسول اکرمﷺ نے انگوٹھا اور انگلی رکھ کر ان کی تردید فرمادی، جہمیہ تشبیہ سے بچنے کے لئے ایسا کہتے ہیں، جب کہ اس میں تشبیہ ہے ہی نہیں، مقصود صفت سمع (سننا) صفت بصر(دیکھنا) کا اثبات ہے، یہ مقصود نہیں کہ اس کی آنکھ وکان ہماری آنکھ اور کان جیسے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ کان اس کی عظمت وجلال کے لائق ہیں، بلا کسی کیفیت تشبیہ، وتمثیل اور تعطیل کے سبحانہ تعالیٰ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب فِي الرُّؤْيَةِ
۲۰-باب: رؤیت باری تعالی کا بیان​


4729- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَوَكِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ جُلُوسًا، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ [لَيْلَةَ الْبَدْرِ] لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَقَالَ: <إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاتُغْلَبُوا عَلَى صَلاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا > ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا}۔
* تخريج: خ/المواقیت ۱۶ (۵۵۴)، التوحید ۲۴ (۷۴۳۵)، م/المساجد ۳۷ (۶۳۳)، ت/صفۃ الجنۃ ۱۶ (۲۵۵۱)، ق/المقدمۃ ۱۳ (۱۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۴ /۳۶۰، ۳۶۲، ۳۶۵) (صحیح)
۴۷۲۹- جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں شب کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: ’’تم لوگ عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے ، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو ، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی زحمت نہ ہو گی ، لہٰذا اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ تم فجر اور عصر کی صلاۃ میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو‘‘ ، پھر آپ نے یہ آیت {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} ۱؎پڑھی ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اور اپنے رب کی تسبیح کرو ، سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے (سورۃ طہ : ۱۳۰)
وضاحت ۲؎ : قیامت میں موحدین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا، اہل سنت وجماعت اور صحابہ و تابعین کا یہی مسلک ہے، جہمیہ ومعتزلہ اور بعض مرجئہ اس کے خلاف ہیں، ان کے پاس کوئی دلیل قرآن وسنت سے موجود نہیں ہے، محض تاویل اور بعض بے بنیاد شبہات کے بل بوتے پر انکار کرتے ہیں، اس باب میں ان کی تردید مقصود ہے۔


4730- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: < هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ، لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟ > قَالُوا: لا، قَالَ: < هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟ > قَالُوا: لا، قَالَ: < وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، إِلا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا>۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۶۶)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۲۹ (۸۰۶)، والرقاق ۵۲ (۶۵۷۳)، والتوحید ۲۴ (۷۴۳۷)، م/الإیمان ۸۱ (۱۸۲) والزھد ۱ (۲۹۶۶)، ت/صفۃ الجنۃ ۱۷ (۲۵۵۴)، دي/الرقاق ۸۱ (۲۸۴۳) (صحیح)
ٍ ۴۷۳۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں دوپہرکے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ ‘‘، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو ؟‘‘، لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدا ر میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اور چونکہ ان کے دیکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی اسی طرح اللہ کے دیدار میں بھی دقت نہ ہوگی۔


4731- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ(ح) وحَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، الْمَعْنَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءِ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ مُوسَى: ابْنِ عُدُسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ مُوسَى: الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ- قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ:- مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: < يَا أَبَا رَزِينٍ! أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ؟ >- قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ:- لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ- ثُمَّ اتَّفَقَا:- قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: < فَاللَّهُ أَعْظَمُ > قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: قَالَ: < فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ، فَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ >۔
* تخريج: ق/المقدمۃ ۱۳ (۱۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱، ۱۲) (حسن)
۴۷۳۱- ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو (قیامت کے دن) بلارکاوٹ دیکھے گا؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ اے ابور زین! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے؟‘‘ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے‘‘،( ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو اللہ کی مخلو قات میں سے ایک مخلوق ہے ، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے)‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مطلب یہ ہے کہ جب اس کی مخلوق کو ہر ایک بلا روک ٹوک دیکھ لیتا ہے تو اللہ کو جو اس سے بہت ہی بڑا ہے کیوں نہیں دیکھ سکتا ؟۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب فِي الرَّدِّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ
۲۱-باب: جہمیہ کے رد کا بیان​


4732- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الأَرَضِينَ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ >- قَالَ ابْنُ الْعَلاءِ: < بِيَدِهِ الأُخْرَى- ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ >۔
* تخريج: خ/التوحید ۱۹ (۷۴۱۴تعلیقًا)، م/صفۃ القیامۃ (۲۷۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۷۴)، وقد أخرجہ: ق/المقدمۃ ۱۴ (۱۹۸) (صحیح)
(شمال (بایاں ہاتھ) کے ذکر میں عمر بن حمزۃ متفرد ہیں، جبکہ صحیح احادیث میں رب کے دونوں ہاتھ کو دایاں ہاتھ کہا گیا ہے، ملاحظہ ہو: الصحيحة 3136 تراجع الألباني 124)
۴۷۳۲- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا ، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں اترانے والے؟‘‘۔


4733- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ وَعَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۳۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۶۳، ۱۵۲۴۱) (صحیح)
۴۷۳۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے ، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے : کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی پکار کو قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کردوں‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : دونوں احادیث میں اللہ کی صفات کا ذکر ہے جن کا جہمیہ انکار کرتے ہیں، علماء سلف کا مسلک اس بارے میں یہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ جس طرح قرآن وسنت میں وارد ہیں ان کو جوں کا توں باقی رکھا جائے نہ ان کا انکار کیا جائے، اور نہ ان کی تاویل کی جائے، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کی کتاب شرح حدیث النزول دیکھیے جو اس بارے میں دلائل سے پُر اور اپنے باب میں عدیم النظیر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب فِي الْقُرْآنِ
۲۲-باب: قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان​


4734- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ ابْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْقِفِ، فَقَالَ: < أَلارَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلامَ رَبِّي >۔
* تخريج: ت/فضائل القرآن ۲۴ (۲۹۲۵)، ق/المقدمۃ ۱۳ (۲۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۹۰)، دی/فضائل ۵ (۳۳۹۷) (صحیح)
۴۷۳۴- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خود کو مو قف (عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ ) میں لوگوں پر پیش کرتے تھے اور فرماتے: ’’کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے، قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے رو ک دیا ہے ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : رسول اکرمﷺ موسم حج میں مختلف قبائل کے پاس جاتے اور ان میں دین اسلام کی تبلیغ کرتے تھے، اسی کی طرف اشارہ ہے، اس حدیث میں قرآن کو کلام اللہ فرمایا گیا ہے جس سے معتزلہ وغیرہ کی تردید ہوتی ہے جو کلام اللہ کو اللہ کی صفت نہ مان کر اس کو مخلوق کہتے تھے، سلف صالحین نے قرآن کو مخلوق کہنے والے گروہ کی تکفیر کی ہے، جب کہ قرآنی نصوص ، احادیث شریفہ اور آثار سلف سے قرآن کا کلام اللہ ہونا ، اور کلام اللہ کا صفت باری تعالیٰ ہونا ثابت ہے، اور اس پر سلف کا اجماع ہے۔


4735- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، قَالَتْ: وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى۔
* تخريج: خ/الشھادت ۱۵ (۲۶۶۱)، المغازي ۱۲ (۴۰۲۵)، ۳۴ (۴۱۴۱)، م/التوبۃ ۱۰ (۲۷۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۲۶، ۱۶۱۲۸، ۱۶۳۱۱، ۱۶۵۷۶، ۱۷۴۰۹، ۱۷۴۱۲) (صحیح)
۴۷۳۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام کرے، اور قرآن میں اس کو نازل فرمادے جو ہمیشہ تلاوت کیا جائے، ان کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا۔


4736- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ [يَعْنِي الشَّعْبِيَّ] عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَقَرَأَ ابْنٌ لَهُ آيَةً مِنَ الإِنْجِيلِ، فَضَحِكْتُ، فَقَالَ: أَتَضْحَكُ مِنْ كَلامِ اللَّهِ؟.
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۸، ۴۲۹، ۴/۲۶۰) (صحیح)
۴۷۳۶- عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ ان کے ایک لڑ کے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی ، تو میں ہنس پڑا انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کے کلام پر ہنستے ہو؟۔


4737- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ < أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لامَّةٍ > ثُمَّ يَقُولُ: كَانَ أَبُوكُمْ يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ .
[قَالَ أَبو دَاود: هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ]۔
* تخريج: خ/أحادیث الأنبیاء ۱۰ (۳۳۷۱)، ت/الطب ۱۸ (۲۰۶۰)، ق/الطب ۳۶ (۳۵۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۶، ۲۷۰) (صحیح)
۴۷۳۷- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺحسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لئے(ان الفاظ میں ) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے ’’أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لامَّةٍ‘‘ (میں تم دونوں کے لئے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے (سانپ بچھو وغیرہ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے، پھر فرماتے : تمہارے باپ (ابراہیم) اسماعیل و اسحاق کے لئے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔


4738- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ابْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا تَكَلَّمَ اللَّهُ بِالْوَحْيِ سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا، فَيُصْعَقُونَ، فَلا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ، حَتَّى إِذَا جَائَهُمْ جِبْرِيلُ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ > قَالَ: فَيَقُولُونَ: يَا جِبْرِيلُ! مَاذَا قَالَ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: الْحَقَّ، فَيَقُولُونَ: الْحَقَّ، الْحَقَّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۸۰)، وقد أخرجہ: خ/التوحید ۳۱ (عقیب ۷۴۸۰تعلیقًا) (صحیح)
۴۷۳۸- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جب اللہ تعالی وحی کے لئے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو ، پھر وہ بے ہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبریل آتے ہیں، جب جبریل ان کے پاس آ تے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں: اے جبریل ! تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں:حق ( فرمایا) تو وہ سب کہتے ہیں حق (فرمایا) حق (فرمایا) ‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب فِي الشَّفَاعَةِ
۲۳-باب: شفاعت کا بیان ۱؎​


4739- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا بَسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۱۳) (صحیح)
۴۷۳۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہے‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ باب خوارج اور بعض معتزلہ کے رد میں ہے جوشفاعت رسول ﷺ کے منکر ہیں، اہل حدیث واہل سنت شفاعت کے قائل ہیں۔
وضاحت ۲؎ : یعنی جن لوگوں کے کبیرہ گناہ ان کے جنت میں جانے سے مانع ہوں گے جبکہ وہ موحد تھے تو ان کے لئے میری شفاعت جنت میں جانے کا ذریعہ ہوگی، لیکن یہ شفاعت اللہ کے حکم اور ا س کے اِذْن سے ہوگی جیسا کہ آیت الکرسی میں نیز اس آیت میں ہے {يَوْمَئِذٍ لا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلا} (سورۃ طہ: ۱۰۹) کسی مشرک کو شفاعت نصیب نہ ہوگی، اس لئے ہر آدمی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ شرک و بدعت کو سمجھے، اور اس بات کی پوری کوشش کرے کہ وہ ان سب سے دور رہے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بچائے، تا کہ رسول اکرم ﷺ کی شفاعت کا مستحق ہو۔


4740- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ ابْنُ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ >۔
* تخريج: خ/الرقاق ۵۱ (۶۵۶۶)، ت/صفۃ جہنم ۱۰ (۲۶۰۰)، ق/الزھد ۳۷ (۴۳۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۳۴) (صحیح)
۴۷۴۰- عمرا ن بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ کچھ لوگ جہنم سے محمد(ﷺ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے ،وہ جنت میں داخل ہوں گے ، اور وہ جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے‘‘۔


4741- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ >۔
* تخريج: م/الجنۃ وصفۃ نعیمھا ۷ (۲۸۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۱۶، ۳۶۴) دي/الرقاق ۱۰۷ (۲۸۷۲) (صحیح)
۴۷۴۱- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺکو فرماتے سنا: ’’جنت والے اس میں کھائیں گے پیئیں گے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حدیث کا باب سے کوئی تعلق نہیں لیکن وہ اس کے متعلقات سے ہے جنت کی نعمتوں سے جنتی کھائیں گے پیئیں گے لیکن وہ کبھی ختم نہ ہوں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب فِي ذِكْرِ الْبَعْثِ وَالصُّورِ
۲۴-باب: قیامت اور صور کا بیان​


4742- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْلَمُ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: <الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ>۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۸ (۲۴۳۰)، تفسیر القرآن۴۰ (۳۲۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۲، ۱۹۲)، دي/الرقاق ۷۹ (۲۸۴۰) (صحیح)
۴۷۴۲- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''صور ایک سنکھ ہے ، جس میں پھونک ماری جائے گی''۔


4743- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < كُلَّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُ الأَرْضُ؛ إِلا عَجْبَ الذَّنَبِ: مِنْهُ خُلِقَ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ >۔
* تخريج: ن/الجنائز ۱۱۷ (۲۰۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۳۵)، وقد أخرجہ: خ/تفسیر الزمر ۴ (۴۸۱۴)، تفسیر النبأ ۱ (۴۹۳۵)، م/الفتن ۲۸ (۲۹۵۵)، ق/الزھد ۳۲ (۴۲۶۶)، ط/الجنائز ۱۶ (۴۸)، حم (۲ /۳۱۵، ۳۲۲، ۴۲۸، ۴۹۹) (صحیح)
۴۷۴۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''زمین ابن آدم(انسان) کے تمام اعضاء(جسم) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لئے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ۱؎ ،اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا '' ۔
وضاحت ۱؎ : تخلیق انسان کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے، اور شاید وہ بہت چھوٹی ہوتی ہے جو لوگوں کو محسوس نہیں ہوتی، اس حدیث کے حکم سے انبیاء کرام مستثنیٰ ہیں کیونکہ''إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء'' ان کے بارے میں وارد ہے،اللہ نے زمین پر حرام قرار دے دیا ہے کہ وہ انبیاء(علیہم السلام) کے اجسام کو کھائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب فِي خَلْقِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ
۲۵-باب: جنت ا ور جہنم کی تخلیق کا بیان​


4744- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ> قَالَ: <فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: [أَيْ رَبِّ]! وَعِزَّتِكَ لا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: يَاجِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، [ثُمَّ جَاءَ] فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لا يَبْقَى أَحَدٌ إِلادَخَلَهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۱۵)، وقد أخرجہ: ن/الأیمان والنذور ۲ (۳۷۹۴)، حم (۲/۲۵۴، ۳۳۲، ۳۷۳) (حسن صحیح)
۴۷۴۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبریل سے فرمایا: جائو اور اسے دیکھو ، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے : اے میرے رب !تیری عزت کی قسم ، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضر ور داخل ہو گا،پھر( اللہ نے ) اسے مکروہات (ناپسندیدہ)(چیزوں) سے گھیردیا ، پھر فرمایا: اے جبریل ! جائو اور اسے دیکھو ، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبر ئیل ! جائو اور اسے دیکھو ، وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم!جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہوگا، تو اللہ نے اسے مرغوب اور پسندیدہ چیز وں سے گھیردیا ، پھر فرمایا: جبریل ! جائو اور اسے دیکھو ، وہ گئے ،جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ باب معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقوں کے رد وابطال میں ہے، جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جنت وجہنم ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں جب کہ اہل حدیث و سنت کایہ عقیدہ ہے کہ دونوں پیدا کی جاچکی ہیں۔
 
Top