- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
18- بَاب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ
۱۸-باب: کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان
4711- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سُئِلَ عَنْ أَوْلادِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۹۲ (۱۳۸۳)، والقدر ۳ (۶۵۹۷)، م/القدر ۶ (۲۶۶۰)، ن/الجنائز ۶۰ (۱۹۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۵، ۳۲۸، ۳۴۰، ۳۵۸) (صحیح)
۴۷۱۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا: ''اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ زندہ رہتے تو کیا عمل کرتے''۔
4712- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ(ح) وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ وَكَثِيرُ ابْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، الْمَعْنَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: < [هُمْ] مِنْ آبَائِهِمْ > فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِلا عَمَلٍ؟ قَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ > قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَذَرَارِيُّ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: <مِنْ آبَائِهِمْ> قُلْتُ: بِلا عَمَلٍ؟ قَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ؟ >
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۸۴) (صحیح الإسناد)
۴۷۱۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مومنوں کے بچوں کا کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:'' وہ اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے''، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! بغیر کسی عمل کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیاعمل کرتے''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور مشرکین کے بچے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے''، میں نے عرض یا: بغیر کسی عمل کے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال ان بچوں کے متعلق تھا جو قبل بلوغت انتقال کرگئے تھے، رسول اکرمﷺ کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہی رہیں گے، اگرچہ ان سے کوئی کفر یا نیک عمل صادر نہ ہوا، لیکن اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اگر زندہ رہتے تو کیا کرتے۔
4713- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِصَبِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ يُصَلِّي عَلَيْهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! طُوبَى لِهَذَا لَمْ يَعْمَلْ شَرًّا وَلَمْ يَدْرِ بِهِ، فَقَالَ: < أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلا، وَخَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلا، وَخَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ >۔
* تخريج: م/القدر ۶ (۲۶۶۲)، ن/الجنائز ۵۸ (۱۹۴۹)، ق/المقدمۃ ۱۰ (۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۱، ۲۰۸) (صحیح)
۴۷۱۳- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ کے پاس انصار کا ایک بچہ صلاۃ پڑھنے کے لئے لایا گیا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زندگی کے مزے تو اس بچے کے لئے ہیں، اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی وہ اسے ( گناہ کو) سمجھتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: '' عائشہ! کیا تم ایسا سمجھتی ہو حالاں کہ ایسا نہیں ہے؟ اللہ تعالی نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لئے لوگ بھی پیدا کئے اور جنت کو ان لوگوں کے لئے جب بنایا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لئے لوگ بھی پیدا کئے گئے اور جہنم کو ان لوگوں کے لئے پیدا کیا جب کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کامطلب یہ تھا کہ چونکہ اس بچے نے کوئی گناہ نہ کیا اس لئے یہ تو یقینا جنتی ہے، رسول اکرم ﷺ نے اس یقین کی تردید فرمائی کہ بلا دلیل کسی کو جنتی کہنا درست نہیں، جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ تو اللہ نے انسان کے دنیا میں آنے سے قبل ہی کر دیا ہے، اور وہ ہمیں معلوم نہیں تو ہم کسی کو حتمی اور یقینی طور پر جنتی یا جہنمی کیسے کہہ سکتے ہیں، یہ حدیث مندرجہ بالا حدیث سے معارض معلوم ہوتی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان بچے جو بچپن ہی میں مرجائیں گے اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے، نیز علماء کا اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، اس حدیث کا یہ جواب دیا گیا کہ حضرت عائشہ کو جنتی یا جہنمی کا فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے روکنا مقصود تھا اور بس، بعض نے کہا :یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اکرمﷺ کو بتایا نہیں گیا تھا کہ مسلم بچے جنتی ہیں۔
4714- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تَنَاتَجُ الإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ؟ > قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ؟ قَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۹۲ (۱۳۸۳)، والقدر ۳ (۶۵۹۲)، م/القدر ۶ (۲۶۵۸)، ن/الجنائز ۶۰ (۱۹۵۱)، ت/القدر ۵ (۲۱۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۵۷)، وقد أخرجہ: ط/الجنائز ۱۶ (۵۲)، حم (۲/۲۴۴، ۲۵۳، ۲۵۹، ۲۶۸، ۳۱۵، ۳۴۷، ۳۹۳، ۴۷۱، ۴۸۸، ۵۱۸) (صحیح)
۴۷۱۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہو تا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہو دی یا نصرانی بنا ڈالتے ہیں ، جیسے اونٹ صحیح و سالم جانور سے پیدا ہوتا ہے تو کیا تمہیں اس میں کوئی کنکٹا نظر آتا ہے؟''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا اس کے با رے میں کیا خیال ہے جو بچپنے میں مر جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے''۔
4715- قَالَ أَبو دَاود: قُرِءَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا أَسْمَعُ: أَخْبَرَكَ يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، قِيلَ لَهُ: إِنَّ أَهْلَ الأَهْوَاءِ يَحْتَجُّونَ عَلَيْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مَالِكٌ: احْتَجَّ عَلَيْهِمْ بِآخِرِهِ، قَالُوا: أَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ، قَالَ: < اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۵۳) (صحیح الإسناد)
۴۷۱۵- ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا: اہل بدعت ( قدریہ ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلا ف استدلال کرو، اس لئے کہ اس میں ہے: صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا:''اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے''۔
4716- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ يُفَسِّرُ حَدِيثَ < كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ > قَالَ: هَذَا عِنْدَنَا حَيْثُ أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ حَيْثُ قَالَ {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا بَلَى}۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۵۹۱) (صحیح الإسناد)
۴۷۱۶- حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حما د بن سلمہ کو ''كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ'' (ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہو تا ہے) ۱؎ کی تفسیر کرتے سنا ، آپ نے کہا: ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا ، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا: کیا میں تمہارا رب(معبود) نہیں ہوں؟ تو انہوں نے کہا تھا : کیوں نہیں، ضرور ہیں۔
وضاحت ۱؎ : فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی تاویل اس طرح بیان فرمائی کہ چونکہ میثاق الٰہی کے مطابق ہر ایک نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا تھا، لہٰذا اسی اقرار پر وہ پیدا ہوتا ہے، بعد میں لوگ اس کو یہودی، نصرانی ، مجوسی یا مشرک بنا لیتے ہیں۔
4717- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى [الرَّازِيُّ]، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الْوَائِدَةُ وَالْمَوْئُودَةُ فِي النَّارِ >.
قَالَ يَحْيَى [بْنُ زَكَرِيَّا]: قَالَ أَبِي: فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۶۶) (صحیح)
۴۷۱۷- عا مر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''وائدہ ( زندہ در گور کر نے والی) اور مؤودہ ( زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں'' ۱؎ ۔
یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں : میرے والد نے کہا: مجھ سے ابو اسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامرشعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت ۱؎ : ''وائدة'' اور ''موؤودة'' سے کیا مراد ہے؟بعض محدثین نے ''وائدہ'' سے زندہ درگور کرنے والی عورت، اور ''موؤودۃ'' سے زندہ درگور کی گئی بچی مراد لی ہے ،اس صورت میں ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ ایک خاص بچی کے بارے میں فرمایا، یہ حکم عام نہیں ہے، بعض محدثین کے نزدیک ''وائدہ'' سے مراد زندہ درگور کرنے والی عورت، اور ''موؤودۃ'' سے مراد وہ عورت ہے جو اپنی بچی کو زندہ درگور کرنے پر راضی ہو، اس صورت میں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
4718- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: < أَبُوكَ فِي النَّارِ > فَلَمَّا قَفَّى قَالَ: < إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۸۸ (۲۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۹، ۲۶۸) (صحیح)
۴۷۱۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا:اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارے والد جہنم میں ہیں ''، جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا :'' میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : امام نووی فرماتے ہیں کہ اس سے صاف ظاہر ہے اہل فترہ (عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اور نبی اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے کے لوگ) اگر مشرک ہیں تو جہنمی ہیں، کیونکہ ان کو دعوت ابراہیمی پہنچی تھی، نبی اکرمﷺ کے والد کے بارے میں یہ حدیث نص صریح ہے، علامہ سیوطی وغیرہ نے جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ زندہ فرمایا، یا وہ ایمان لائے اور پھر مرگئے ،تو یہ محض موضوع من گھڑت روایات پر مبنی ہے،ائمہ حدیث مثلا دارقطنی، جورقانی، ابن شاہین، ابن عساکر، ابن ناصر، ابن الجوزی، سہیلی، قرطبی، محب الطبری، ابن سیدالناس، ابراہیم الحلبی وغیرہم نے ان احادیث کومکذوب مفتری اور موضوع قرار دیا ہے،علامہ ابراہیم حلبی نے اس بارے میں مستقل کتاب لکھی ہے، اسی طرح ملاعلی قاری نے شرح فقہ اکبر میں اور ایک مستقل کتاب میں یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے والدین کے ایمان کی بات غلط محض ہے،علی کل حال اس مسئلہ میں زیادہ نہیں پڑنا چاہیئے بلکہ اپنی نجات کی فکر کرنی چاہیئے۔
4719- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ >۔
* تخريج: م/السلام ۹ (۲۱۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۲۵، ۱۵۶، ۲۸۵) (صحیح)
ٍ ۴۷۱۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شیطان ابن آدم (انسان)کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کر تا ہے''۔
4720- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَعَمْرُو ابْنُ الْحَارِثِ وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ،وَلا تُفَاتِحُوهُمُ الْحَدِيثَ >.
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۷۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۶۹) (ضعیف)
(اس کے راوی ''حکیم بن شریک ہذلی''مجہول ہیں)
۴۷۲۰- عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے بات چیت میں پہل کرو''۔