149 - بَاب فِي السَّلامِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
۱۴۹-باب: اہل ذمہ ( معاہد کافروں ) کو سلام کرنے کا بیان
5205- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ بِصَوَامِعَ فِيهَا نَصَارَى فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ أَبِي: لاتَبْدَئُوهُمْ بِالسَّلامِ؛ فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لاتَبْدَئُوهُمْ بِالسَّلامِ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ >۔
* تخريج: م/السلام ۴ (۲۱۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۸۲)، وقد أخرجہ: ت/الاستئذان ۱۲ (۲۷۰۰)، حم (۲/۳۴۶، ۴۵۹) (صحیح)
۵۲۰۵- سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ:میں اپنے والد کے ساتھ شام گیا تو وہاں لوگوں ( یعنی قافلے والوں) کا گزر نصاریٰ کے گرجا گھروں کے پاس سے ہونے لگا تو لوگ انہیں ( اور ان کے پجاریوں کو ) سلام کرنے لگے تو میرے والد نے کہا: تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بیان کی ہے، آپ نے فرمایا ہے:'' انہیں ( یعنی یہود ونصاریٰ کو ) سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستہ پر چلنے پر مجبور کرو''، (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو وہ کونے کنارے سے ہو کر چلیں )۔
5206- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ فِيهِ: < وَعَلَيْكُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۲۲)، وقد أخرجہ: خ/الاستئذان ۲۳ (۲۶۵۷)، واستتابۃ المرتدین ۴ (۶۹۲۸)، م/السلام ۴ (۲۱۶۴)، ت/السیر ۴۱ (۱۶۰۳)، ط/السلام ۲ (۳)، حم (۲/۱۹)، دي/الاستئذان ۷ (۲۶۷۷) (صحیح)
۵۲۰۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے اور وہ
''السَّامُ عَلَيْكُمْ'' (تمہارے لئے ہلاکت ہو ) کہے تو تم اس کے جواب میں '' وعليكم'' کہہ دیا کرو'' (یعنی تمہارے اوپر موت و ہلاکت آئے )۔
ابو داود کہتے ہیں:اسے مالک نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری نے بھی عبداللہ بن دینار سے
''وعَلَيْكُمْ'' ہی کا لفظ روایت کیا ہے ۔
5207- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ قَالُوا لِلنَّبِيِّ ﷺ : إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: <قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَائِشَةَ وَأَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَةَ يَعْنِي الْغِفَارِيَّ۔
* تخريج: م/السلام ۴ (۲۱۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۰)، وقد أخرجہ: خ/الاستئذان ۲۲ (۶۲۵۷)، استتابۃ المرتدین ۴ (۶۹۲۶)، ت/تفسیرالقرآن ۵۸ (۳۳۰۱)، ق/الأدب ۱۳ (۳۶۹۷)، ن/الیوم واللیلۃ (۳۸۶، ۳۸۷)، حم (۳ /۹۹، ۲۱۲، ۲۱۸، ۲۲۲، ۲۷۳، ۲۷۷، ۳۰۹) (صحیح)
۵۲۰۷- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا:اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں؟ آپ نے فرمایا:'' تم لوگ ''وعليكم'' کہہ دیا کرو''، ابو داود کہتے ہیں : ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں ۔