- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
12- بَاب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ
۱۲-باب: عیادت (بیمار پر سی) کے وقت مریض کے لئے دعا کرنے کا بیان
3106- حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ عِنْدَهُ سَبْعَ مِرَارٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ، إِلا عَافَاهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَرَضِ >۔
* تخريج: ت/الطب ۳۲ (۲۰۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۹، ۲۴۳) (صحیح)
۳۱۰۶- عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اوراس کے پاس سا ت مر تبہ یہ دعا پڑھے: ''أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ '' (میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفا دے) تو اللہ اسے اس مر ض سے شفا دے گا''۔
3107- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ [أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ] الْحُبُلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم: < إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ >.
[قَالَ أَبو دَاود: وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِلَى صَلاةٍ]۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۲) (صحیح)
۳۱۰۷- عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لئے جائے تو اسے چاہئے کہ وہ کہے: ''اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ '' (اے اللہ! اپنے بندے کو شفا دے تا کہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یاتیری خوشی کی خا طر جنا زے کے سا تھ جائے) ''۔
ابو داود کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں ' 'إِلَى جَنَازَةٍ'' کے بجائے ''إِلَى صَلاةٍ '' کہا ہے یعنی صلاۃِ جنازہ پڑھنے جائے۔