• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب فِي التَّحْلِيلِ
۱۶- باب: نکاحِ حلالہ کا بیان​

2076- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَأُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ > ۔
* تخريج: ت/النکاح ۲۷ (۱۱۱۹)، ق/النکاح ۳۳ (۱۹۳۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۷، ۱۰۷، ۱۲۱، ۱۵۰، ۱۵۸) (صحیح)

۲۰۷۶- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح بہ نیت حلالہ باطل ہے اور ایسا کرنے والا اللہ کے غضب کا مستحق ہے۔

2077- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: فَرَأَيْنَا أَنَّهُ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلام عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۳۴) (صحیح)
(پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں)
۲۰۷۷- حارث الاعور ایک صحابیٔ رسول رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب فِي نِكَاحِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ
۱۷- باب: غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کے حکم کا بیان​

2078- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَذَا لَفْظُ إِسْنَادِهِ، وَكِلاهُمَا عَنْ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ عَاهِرٌ >۔
* تخريج: ت/النکاح ۲۰ (۱۱۱۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۳۶۶)، وقد أخرجہ: ق/النکاح ۴۳ (۱۹۵۹)، حم (۳/۳۰۱، ۳۷۷، ۳۸۲)، دي/النکاح ۴۰ (۲۲۷۹) (حسن)

۲۰۷۸- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے وہ زانی ہے''۔

2079- حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِذَا نَكَحَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلاهُ فَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ >.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ رَضِي اللَّه عَنْهُمَا ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۷۷۲۸) (ضعیف)
(اس کے راوی ''عبد اللہ بن عمرعمری'' ضعیف ہیں، انہوں نے موقوف کو مرفوع بنا ڈالا ہے)
۲۰۷۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے''۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور مو قوف ہے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ
۱۸- باب: آدمی کا اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام بھیجنا مکروہ ہے​

2080- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ >۔
* تخريج: خ/البیوع ۵۸ (۲۱۴۰)، الشروط ۸ (۲۷۲۳)، النکاح ۴۵ (۵۱۴۴)، م/النکاح ۶ (۱۴۱۲)، ت/النکاح ۳۸ (۱۱۳۴)، ن/النکاح ۲۰ (۳۲۴۱)، ق/النکاح ۱۰ (۱۸۶۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۳)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۱(۱)، حم (۲/۲۳۸، ۲۷۴، ۳۱۱، ۳۱۸، ۳۹۴، ۴۱۱، ۴۲۷، ۴۵۷، ۴۶۲، ۴۶۳، ۴۸۷، ۴۸۹، ۵۵۸)، دي/النکاح ۷ (۲۲۲۱) (صحیح)

۲۰۸۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے''۔

2081- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلا يَبِعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، إِلا بِإِذْنِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۸۰۰۹، ۸۱۸۵)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۵۸ (۲۱۴۰)، النکاح ۴۵ (۵۱۴۲)، م/النکاح ۶ (۱۴۱۲)، البیوع ۸ (۱۴۱۲)، ت/البیوع ۵۷ (۱۱۳۴)، ن/النکاح ۲۰ (۳۲۴۰)، ق/النکاح ۱۰ (۱۸۶۸)، ط/النکاح ۱(۲)، والبیوع ۴۵(۹۵)، حم (۲/۱۲۲، ۱۲۴، ۱۲۶، ۱۳۰، ۱۴۲، ۱۵۳)، دي/النکاح ۷ (۲۲۲۲)، البیوع ۳۳ (۲۶۰۹) (صحیح)

۲۰۸۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی جب ایک مسلمان کی کسی جگہ شادی طے ہو، تو دوسرے کے لئے وہاں پیغام دینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی نسبت طے نہیں ہے، تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ و حرج نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب فِي الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ وَهُوَ يُرِيدُ تَزْوِيجَهَا
۱۹- باب: جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اسے دیکھ لینے کا بیان​

2082- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ >، (قَالَ): فَخَطَبْتُ جَارِيَةً فَكُنْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا، حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا (وَتَزَوُّجِهَا) فَتَزَوَّجْتُهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۱۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۳۴) (حسن)

۲۰۸۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغام نکاح دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے'' ۱؎ ۔
راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ بات دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا، میں نے اس سے شادی کر لی۔

وضاحت ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس عورت سے آدمی نکاح کرنا چاہے وہ اسے دیکھ سکتا ہے، یہ مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب فِي الْوَلِيِّ
۲۰- باب: ولی کا بیان​

2083- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ (مَوَالِيهَا) فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ -ثَلاثَ مَرَّاتٍ- فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ >.
* تخريج: ت/النکاح ۱۴ (۱۱۰۲)، ق/النکاح ۱۵ (۱۸۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۶۲)، وقد أخرجہ: ن/الکبری/ النکاح (۵۳۹۴)، حم (۶/۶۶، ۱۶۶، ۲۶۰)، دي/النکاح ۱۱ (۲۲۳۰) (صحیح)

۲۰۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے''، آپ ﷺ نے اسے تین بار فرمایا، (پھر فرمایا) ''اگر اس مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لئے اس کا مہر ہے اور اگر ولی اختلاف کریں ۱؎ تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو'' ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: مثلاً ایک عورت کے دو بھائی ہوں ایک کسی کے ساتھ اس کا نکاح کرنا چاہے دوسرا کسی دوسرے کے ساتھ اور عورت نابالغ ہو اور یہ اختلاف نکاح ہونے میں آڑے آئے اور نکاح نہ ہونے دے تو ایسی صورت میں یہ فرض کرکے کہ گویا اس کا کوئی ولی ہی نہیں ہے سلطان اس کا ولی ہو گا ورنہ ولی کی موجودگی میں سلطان کو ولایت کا حق حاصل نہیں ۔
وضاحت ۲؎ : اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے، خواہ عورت بالغ ہو یا نابالغ، یہی ائمہ حدیث کا مذہب ہے۔

2084- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرٍ -يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ- عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمَعْنَاهُ.
قَالَ أَبو دَاود: جَعْفَرٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ، كَتَبَ إِلَيْهِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۶۲) (صحیح)

۲۰۸۴- اس سند سے بھی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔

2085- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ يُونُسَ وَإِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: <لانِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَهُوَ يُونُسُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ۔
* تخريج: ت/النکاح ۱۴ (۱۱۰۱)، ق/النکاح ۱۵ (۱۸۸۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۱۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹۴، ۴۱۳، ۴۱۸)، دي/النکاح ۱۱ (۲۲۲۹) (صحیح)

۲۰۸۵- ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے''۔

2086- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ ابْنِ جَحْشٍ فَهَلَكَ عَنْهَا، وَكَانَ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ (وَهِيَ عِنْدَهُمْ)۔
* تخريج: ن/النکاح ۶۶ (۳۳۵۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۲۷) (صحیح)

۲۰۸۶- ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ابن حجش کے نکاح میں تھیں، ان کا انتقال ہو گیا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سرزمین حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی تو نجاشی ( شاہ حبش) نے ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کر دیا، اور وہ انہیں لوگوں کے پاس (ملک حبش ہی میں) تھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب فِي الْعَضْلِ
۲۱- باب: عورتوں کو نکاح سے روکنے کا بیان​

2087- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَيّ، فَأَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لِي، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا طَلاقًا لَهُ رَجْعَةٌ، ثُمَّ تَرَكَهَا، حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلَيَّ أَتَانِي يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ: لا وَاللَّهِ لا أُنْكِحُهَا أَبَدًا، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} الآيَةَ، قَالَ: فَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ۔
* تخريج: خ/التفسیر ۴۰ (۴۵۲۹)، النکاح ۶۰ (۵۱۳۰)، الطلاق ۴۴ (۵۳۳۰، ۵۳۳۱)، ت/التفسیر ۳ (۲۹۸۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۶۵)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ النکاح (۱۱۰۴۱) (صحیح)

۲۰۸۷- معقل بن یسار کہتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی جس کے نکاح کا پیغام میرے پاس آیا، اتنے میں میرے چچا زاد بھائی آگئے تو میں نے اس کا نکاح ان سے کر دیا، پھر انہوں نے اسے ایک طلاق رجعی دے دی اور اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، پھر جب اس کے لئے میرے پاس ایک اور نکاح کا پیغام آگیا تو وہی پھر پیغام دینے آ گئے، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں کبھی بھی ان سے اس کا نکاح نہیں کروں گا، تو میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} ۱؎ راوی کا بیان ہے کہ میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیا، اور ان سے اس کا نکاح کر دیا۔
وضاحت۱؎: ''اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو'' (سورۃ البقرۃ: ۲۳۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ
۲۲- باب: جب دو ولی ایک عورت کا نکاح کر دیں تو اس کے حکم کا بیان​

2088- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا >۔
* تخريج: ت/النکاح ۲۰ (۱۱۱۰)، ن/البیوع ۹۴ (۴۶۸۶)، ق/التجارات ۲۱ (۲۱۹۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۸،۱۱، ۱۲، ۱۸، ۲۲)، دي/النکاح ۱۵ (۲۲۳۹) (ضعیف)
(حسن بصری مدلس ہیں اور ''عنعنہ'' سے روایت ہے )
۲۰۸۸- سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو وہ اس کی ہو گی جس سے پہلے نکاح ہوا ہے اور جس شخص نے ایک ہی چیزکو دو آدمیوں سے فروخت کر دیا تو وہ اس کی ہے جس سے پہلے بیچی گئی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب قَوْلِهِ تَعَالَى: {لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ}
۲۳- باب: آیت کریمہ: {لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًاوَلاتَعْضُلُوهُنَّ} کی تفسیر​

2089- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ (بْنُ مُحَمَّدٍ)، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: وَذَكَرَهُ عَطَائٌ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيّ:ُ وَلا أَظُنُّهُ إِلا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الآيَةِ: {لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ}، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ، كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ مِنْ وَلِيِّ نَفْسِهَا: إِنْ شَائَ بَعْضُهُمْ زَوَّجَهَا أَوْ زَوَّجُوهَا، وَإِنْ شَائُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ۔
* تخريج: خ/تفسیر النساء ۶ (۴۵۷۹)، الإکراہ ۶ (۶۹۴۸)، ن/ الکبری/ التفسیر (۱۱۰۹۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۱۰۰، ۶۲۵۶) (صحیح)

۲۰۸۹- عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے آیت کریمہ: {لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ} ۱؎ کی تفسیر کے سلسلہ میں مروی ہے کہ جب آدمی کا انتقال ہو جاتا تو اس (آدمی) کے اولیاء یہ سمجھتے تھے کہ اس عورت کے ہم زیادہ حق دار ہیں بہ نسبت اس کے ولی کے، اگر وہ چاہتے تو اس کا نکاح کر دیتے اور اگر نہ چاہتے تو نہیں کرتے، چنانچہ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: ''تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھو اور نہ ہی تم انہیں نکاح سے اس لئے روک رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ لے لو'' (سورۃ البقرۃ: ۱۹)
وضاحت۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی مر جائے تو اس کی عورت کو اپنے نکاح کا اختیار ہے، میت کے رشتہ داروں کو اسے زبردستی اپنے نکاح میں لینا جائز نہیں، اور نہ انہیں یہ حق ہے کہ وہ اسے نکاح سے روکیں۔

2090- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ (بْنِ وَاقِدٍ)، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: {لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلاتَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ}، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَرِثُ امْرَأَةَ ذِي قَرَابَتِهِ، فَيَعْضُلُهَا حَتَّى تَمُوتَ أَوْ تَرُدَّ إِلَيْهِ صَدَاقَهَا، فَأَحْكَمَ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۲۵۶) (حسن صحیح)

۲۰۹۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: {لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} ۱؎ کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مر جاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالی نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
وضاحت۱؎: ''اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو'' (سورۃ البقرۃ: ۲۳۲)

2091- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ مَوْلَى عُمَرَ، عَنِ الضَّحَّاكِ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَوَعَظَ اللَّهُ ذَلِكَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود (صحیح)

۲۰۹۱- ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اللہ تعالی نے اس کی نصیحت فرمائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب فِي الاسْتِئْمَارِ
۲۴- باب: نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینے کا بیان​

2092- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < لا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلا الْبِكْرُ إِلا بِإِذْنِهَا >، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَمَاإِذْنُهَا؟ قَالَ: < أَنْ تَسْكُتَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۵۸)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۴۱ (۵۱۳۶)، والحیل ۱۱ (۶۹۷۰)، م/النکاح ۹ (۱۴۱۹)، ت/النکاح ۱۸ (۱۱۰۷، ۱۱۰۸)، ن/النکاح ۳۴ (۳۲۶۹)، ق/النکاح ۱۱ (۱۸۷۱)، حم (۲/۲۲۹، ۲۵۰، ۴۲۵، ۴۳۴)، دي/النکاح ۱۳ (۲۲۳۲) (صحیح)

۲۰۹۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''غیر کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے، اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''(اس کی اجازت یہ ہے کہ) وہ خاموش رہے''۔

2093- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -الْمَعْنَى- حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلا جَوَازَ عَلَيْهَا >.
وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، وُمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۱۴، ۱۵۱۱۳)، وقد أخرجہ: ت/النکاح ۱۹ (۱۱۰۹)، ن/النکاح ۳۶ (۳۲۷۲)، حم (۲/۲۵۹، ۳۸۴) (حسن صحیح)

۲۰۹۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے لئے اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبردستی نہیں''۔

2094- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، زَادَ فِيهِ قَالَ: < فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ >، زَادَ: < بَكَتْ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ < بَكَتْ > بِمَحْفُوظٍة، وَهُوَ وَهْمٌ فِي الْحَدِيثِ، الْوَهْمُ مِنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاءِ.
قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ، قَالَ: < سُكَاتُهَا إِقْرَارُهَا >.
* تخريج: حدیث محمد بن العلاء قد تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۳۵)، وحدیث أبو عمر وذکوان عن عائشۃ، قد رواہ خ/النکاح ۴۱ (۵۱۳۷)، م/النکاح ۹(۱۴۲۰)، ن/ النکاح ۳۴ (۳۲۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۵، ۱۶۵، ۲۰۳) (صحیح)
(مگر ''بکت'' کا لفظ شاذ ہے)
۲۰۹۴- اس سند سے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے اس میں ''فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ'' (اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے) یعنی ''بَكَتْ'' (رو پڑے) کا اضافہ ہے، ابو داود کہتے ہیں ''بَكَتْ'' (رو پڑے) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ابو عمرو ذکوان نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول! باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے''۔


2095- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۸۵۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴) (ضعیف)
(اس کی سند میں ایک راوی ''الثقۃ'' مبہم ہے)
۲۰۹۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب فِي الْبِكْرِ يُزَوِّجُهَا أَبُوهَا وَلا يَسْتَأْمِرُهَا
۲۵- باب: کنواری لڑکی کا نکاح اس سے پوچھے بغیر اس کا باپ کر دے تو کیا حکم ہے؟​

2096- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَارِيَةً (بِكْرًا) أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ ﷺ ۔
* تخريج: ق/النکاح ۱۲ (۱۸۷۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۰۰۱، ۱۹۱۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۷۳) (صحیح)

۲۰۹۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر دیا ہے، نبی اکرم ﷺ نے اسے اختیار دیا ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: کہ چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کر لے۔

2097- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
قَالَ أَبو دَاود : لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلا مَعْرُوفٌ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۰۰۱، ۱۹۱۰۳) (صحیح)

۲۰۹۷- اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مر سلاً مروی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے۔
 
Top