- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
34- بَاب فِي النِّسَاءِ يَغْزُونَ
۳۴-باب: عورتیں جہاد میں جا سکتی ہیں
2531- حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ مُطَهِّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ، وَنِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ لِيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى۔
* تخريج: م/الجھاد ۴۷ (۱۸۱۰)، ت/السیر ۲۲ (۱۵۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۱)، وقد أخرجہ: خ/الجھاد ۶۵ (۲۸۸۰)، والمغازي ۱۸( ۴۰۶۴ مطولاً) (صحیح)
۲۵۳۱- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو اور انصار کی کچھ عورتوں کو جہاد میں لے جاتے تھے تا کہ وہ مجاہدین کو پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا جہاد میں شریک ہونا جائز ہے، حالانکہ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جہاد پر نکلنے والی عورتوں کو آپ ﷺ نے واپس لوٹ جانے کا حکم دیا، اس کے دو اسباب بیان کئے جاتے ہیں :
۱- آپ کو دشمنوں کی قوت وضعف کا صحیح اندازہ نہ ہوسکا اور خطرہ تھا کہ مسلمان دشمن سے مغلوب ہوجائیں گے اس لئے آپ نے انہیں واپس کردیا۔
۲- ممکن ہے یہ عورتیں نوجوان اور نئی عمر کی رہی ہوں جن سے میدان جہاد میں فتنہ کا خوف رہا ہو اس لئے آپ نے انہیں واپس کر دیا ہو، واللہ اعلم ۔