(بسمہ الاعلی) اسے بندہ خود آغاز کرے
سرنگوں خامہ کوتاہ ہے، کیا ناز کرے
رب کی تعریف میں کتنی بھی تگ و تاز کرے
کیا حقیقت کہ ذرا حد سے وہ پرواز کرے
رب کی تعریف میں وہ وسعت و پہنائی ہے
ساری مخلوق ہے عاجز، یہ ندا آئی ہے
روشنائی میں سمندر سبھی، ضم ہو جائیں
ساری دنیا کے یہ اشجار قلم ہو جائیں
اور پھر...