الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
حضرت ان کے منکر ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ حضور کا بنو اسماعیل کی نسل سے پیدا ہونا ہے۔تو اگر حضور بنی اسراءیل میں پیدا ہوتے تو وہ مان لیتے تو بات ذات کی ہی ہے اگر اس کا تعلق ان کے قبیلے سے ہوتا کیوں کہ انکار بھی تو ذات کا ہی کیا ہے۔
شکر ہے یار سند مکمل ہوئی اچھا بھلی محنت کروا ڈالی اور پھر کہتے ہو سند ضعیف ہے ۔راوی کے مجہول ہونے سے اشد ضعف نہیں آتا اور اس قسم کی ضعیف روایات فضائل میں معتبر ہوتی ہیں۔(کتاب اذلار از نووی)
اس کے جواب میں اتنا عرض ہے کہ مدد اللہ ے مانگتے تھے یہ کس نے کہا کہ وہ حضور سے مدد مانگتے تھے؟دیکھیں...
اچھا دیکھیں میں احادیث ضعیف سے بھی ظنی عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔اور یہ سارے عقائد ظنی ہیں۔اور فضائل کے باب میں ہے جن میں ضعیف روایات معتبر ہیں۔جیسا کہ امام نووی نے کتاب الازکار میں ذکر کیا
1۔تدلیس اعمش پر کچھ گزارشات از خان قادری
دوسری بات امام بخاری نے اعمش سے مروی معنعن روایت سے استدلال کیا ہے ۔امام بخاری نے باب الصلوۃفی مسجد السوق میں اپنی سند سے روایت کیا کہ جماعت کی نماز اکیلے پڑھنے سے ازروئے ثواب میں زیادہ ہوتی ہے
امام بخاری کوئی متابع نہیًں لائے تا کہ سماع ثابت کریں۔بلکہ...
وہ ٹھیک ہے کہ اکیلا یستفتحون ہے مگر آگے ہے کہ جب وہ آئے تو وہ منکر ہو گئے۔اب آپ خود بتائیے کیا اگلے فقرے کا تعلق پچھلے سے ہے کہ نہیں؟ یعنی جو شخصیت آئی ہے اس کا ان کی فتح مانگنے سے تعلق ہے۔اب تعلق کے مختلف اقوال ہیں۔جن میں ایک قول ابن عباس سے ہے کہ وہ حضور کے وسیلہ سے ذریعہ سے مانگتے تھے۔
دوسری دلیل کی سند پر مندرجہ ذیل اعتراضات ہیں۔
أولاً ـ عدم تصريح الأعمش بالسماع من أبي صالح ، وهو مدلس ، وعليه يحكم على الإسناد بالانقطاع ، كما هو مقرر في علم مصطلح الحديث.
ثانياً ـ إن قولَ الحافظ (بإسناد صحيح من رواية أبي صالح السمان عن مالك الدار) ليس نصاً في تصحيح جميع السند ، بل إلى أبي...
اب اس دلیل کے بعد دوسری دلیل
روى ابن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح السمان عن مالك الداري - وكان خازن عمر - قال " أصاب الناس قحط في زمن عمر فجاء رجل إلى قبر النبي صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا , فأتى الرجل في المنام فقيل له : ائت...
حضرت پہلی حدیث بخاری کی ہے ؟کیا بخاری کی احادیث غیر ثابت ہیں؟اور پھر ان کو غیر ثابت کریں۔ان کے کس راوی پر آپ کو کونسا اعتراض ہے پیش کریں۔اگر ہمارے ناقص علم میں جواب ہوا تو دیں دے گے
حضرت مفسرین کی ایک کثیر تعداد اس بات کی قائل ہے کہ یہاں حضور کا ذکر۔آگے اس کے دو احتمال ہیں۔ایک کہ یہودی حضور کا وسیلہ لیا کرتے تھے اوردوسرا وہ مشرکین سے کہتے تھے کہ ایک نبی آخر الزماں آئے گا اور اس کے ساتھ مل کر ہم تمہیں شکست دیں گے۔اور آپ اسی بات کے انکاری ہیں؟
میں نے اس چیز کا دعوی کب کیا...
اور بعض اوقات کچھ لوگ قرآن و احادیث کو تو چھوڑ دیتے ہیں مگر مولویوں کو نہیں۔جیسے اگر ایک چیز کو ان کے مطابق قرآن نے شرک قرار دیا ہے تو اگر وہی چیز ان کے گھر کے مولوی نے کی ہو تو مرتے مر جائے گے اسے مشرک نہیں کہیں گئے ؟ایسے لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے۔