گُفتگو کے لمحوں میں
دیکھ ہی نہیں پاتے
ہم تمھارے چہرے کو
تم ہماری آنکھوں کو
آج ایسا کرتے ہیں
چشم و لب کو پڑھتے ہیں
بات چھوڑ دیتے ہیں
جانے کیا لمحہ ہوگا
جب یہ ہاتھ ہاتھوں سے
گر کھبی جُدا ہوگا
آج ایسا کرتے ہیں
ضبطِ جاں پرکھتے ہیں
ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں
کاش کوئی سمجھا دے
لوگ کِس طرح دِل کی
منزلیں الگ کر...