الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
علماء کے مابین اس طرح اختلاف ہو جاتا ہے ۔ جہاں معاصرانہ چشمک محسوس ہو ، وہاں دونوں بزرگوں کے ایک دوسرے کے خلاف غیر درست فتاوی پر توجہ نہیں دینی چاہیے ۔
شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے یا پھر علماء سے صحیح طرح واقفیت نہیں ، دین پر عمل کرنے کے لیے عوام انہیں علماء سے رہنمائی لے رہی ہے ، کسی کو الہام...
وہ میری آئیڈل شخصیات میں سے ایک تھا
دنیا فانی ہے ۔۔۔ تین روز قبل سماجی ویب سائٹس کے ذریعہ یہ اطلاع پائی کہ مورخ اہلحدیث جناب رمضان یوسف سلفی رحمہ اللہ دار فانی کو خیر باد کہتے ہوئے ابدی زندگی کی طرف کوچ کر گئے ہیں، یہ اطلاع کیا آئی میرے سامنے ماضی کے دریچے سے کھل گئے ایک خوبصورت ہنستا مسکراتا...
محترم ابن عثمان بھائی !
آپ نے جو باتیں کہی ہیں ، اور جس نوعیت کا مسئلہ زیر بحث ہے ، مجھے ایسے لگا ہے کہ ایسی سوچ مسلکی اختلافات کم نہیں ، بلکہ ایک نیا مکتبہ فکر کی داغ بیل ڈال رہی ہے ۔
خواب آسکتا ہے ۔ پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ، ساری بنیاد اس خواب کی خبر دینے والے کی شخصیت ہے ۔
جو اسے درست سمجھتے ہیں ، وہ اس کے مضمون کو بھی درست سمجھیں گے ، جن کے نزدیک ان کی صداقت مشکوک ہے ، ظاہر ہے وہ اس کی بیان کی گئی خواب کو بھی رد کرنے میں حق بجانب ہوں گے ۔
خواب تو طارق جمیل صاحب کو...
دو اڑھائی سال پہلے یہ انٹرویو دیتے ہوئے اندازہ نہیں تھا کہ بعد میں بہت کام آئے گا ۔
جو بھی کوئی تعارف پوچھے ، اس تھریڈ کا لنک حاضر کردیتا ہوں ۔
ایک دن ایک بھائی نے کہا ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ایک طالبعلم کا انٹرویو کرنا ہے ، کچھ سوالات بتائیں ، میں نے لنک دے کر کہا ، یہاں دیکھ لیں ، سوال...
پی آئی اے حادثہ میں لوگ اس قدر مصروف ہوئے کہ مسلک اہل حدیث کا یہ حادثہ کسی کو یاد ہی نہ رہا ، جس دن فوت ہوئے ، اسی دن ان کی خبر لگ جانی چاہیے تھی ، خیر اللہ نے توفیق دی ، ایک مختصر تحریر کے ذریعے ، اس کا مداوا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اپنے محسنین کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔...
مورخ اہل حدیث کے سوانح نگار بھی چل بسے !
چترال سے روانہ ہو کر راولپنڈی ایئرپورٹ کیطرف گامزن پی آئی اے کے جہاز فلائٹ نمبر661 کی تباہی کی ہولناک خبریں ابھی گردش میں تھیں کہ ساتھ ہی واٹس ایپ پر ایک اور حادثہ کی خبر کانوں پر ہی نہیں بلکہ دل و دماغ پر صاعقہ بن کر گری ۔
سینکڑوں شخصیات کے حالات زندگی...
اس حدث کا معنی و مفہوم بالکل واضح ہے ۔
شاید آپ کو اشکال یہ ہے کہ ہم تو کہتے ہیں کہ اسلام میں کوئی تیسری عید نہیں تو پھر فطر اور اضحی کے علاوہ جمعہ کو کیوں عید کہا جاتا ہے ؟
وہ بڑی عیدیں ہیں ، جو سال بعد آتی ہیں ، اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں دو ہی کہا ہے ۔
جمعہ کا دن...
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جس’عوام‘ کے لیے ایسے کام کیے جاتے ہیں ان کو ’ علماء ‘ کا موقف جاننے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟!
لکھنے والے نے جن کو تبصرے کے لیے بھیجا ہے ، ان میں کوئی عالم دین نظر آتا ہے ؟
علماء سے پوچھنے والی عوام اس طرح کی چیزوں سے دھوکہ نہیں کھاتے ، الحمد للہ ۔
حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ کی شاہ مقوقس کے دربار میں تقریر :
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عمرو بن العاص مصر فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے ، قلعہ کا محاصرہ کیا ، جب کئی مہینے اسی طرح گزر گئے ، شاہ مقوقس نے تنگ آگر مسلمانوں کو دھمکی اور لالچ دونوں طرح ٹالنا چاہا ، کہا ،...
محمد عامر یونس بھائی ! صرف تقریروں کے اقتباسات نقل کریں ، عمومی روئیدادیں نقل کرنا شروع کردیں تو اس تھریڈ کی خصوصیت نہیں رہے گی ۔
بطور مثال ، غزوہ موتہ سے میں نے ایک تقریر کا اقتباس نقل کیا ہے ، ورنہ تو پوری جنگ ہی جرأت و بہادری کی اعلی مثال تھی ۔
جس طرح کالم کو اقتباسات سے ’پُر‘ کیا گیا ہے ، غالبا گمان یہی ہے کہ حسن نثار صاحب نے بھی اس کو پڑھنے کی زحمت نہیں کی ، ورنہ یہ جس طبیعت کے آدمی ہیں ، مرتب یا کسی تبصرہ نگار کے الفاظ پر یا قرآنی آیات نقل کرنے پر اکتفا کبھی نہ کرتے ۔
اس میں وہی سرچ کریں گے ، جو پہلے سے ہی سلفی غیر سلفی کا فرق سمجھتے ہیں ۔
مزہ تب ہے ، عام گوگل میں بھی سرچ ہو تو سلفی اور اہل حق کا مواد نمایاں طور پر سامنے آئے ۔
بہر صورت ایک اچھی کوشش ہے ۔
اس حدیث کی اسنادی حیثیت اور معنی و مفہوم پر ایک تفصیلی مضمون شیخ @کفایت اللہ کا پڑھا تھا ، غالبا ان کے رسالے اہل السنۃ میں ۔ اگر وہ ان کے پاس ٹیکسٹ کی شکل میں موجود ہو ، تو یہاں لگادیں ، یا اگر پہلے سے موجود ہے تو لنک دے دیں ۔
غزوہ موتہ (8ھ) کے موقعہ پر جب مسلمان کی تعداد تین ہزار تھی ، جبکہ مد مقابل رومی لشکر ایک لاکھ تھا ، تو حضرت عبد اللہ بن رواحۃ رضی اللہ عنہ نے اس وقت تقریر فرمائی :
وَاَللهِ مَا كُنّا نُقَاتِلُ النّاسَ بِكَثْرَةِ عَدَدٍ، وَلَا بِكَثْرَةِ سِلَاحٍ، وَلَا بِكَثْرَةِ خُيُولٍ، إلّا بِهَذَا الدّينِ...