4- بَاب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
۴-باب: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے
2319- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ- عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لا نَكْتُبُ، وَلا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا > وَخَنَسَ سُلَيْمَانُ أُصْبُعَهُ فِي الثَّالِثَةِ، يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ، وَثَلاثِينَ۔
* تخريج: خ/الصوم ۱۳(۱۹۱۳)، م/الصوم ۲ (۱۰۸۰)، ن/الصیام ۸ (۲۱۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۷۵)، وقد أخرجہ: ق/الصیام ۶ (۱۶۵۴)، حم (۲/۱۲۲) (صحیح)
۲۳۱۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: '' ہم ان پڑھ لوگ ہیں نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اورنہ حساب و کتاب، مہینہ ایسا ، ایسا اور ایسا ہوتا ہے ،( آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بتایا)''، راوی حدیث سلیمان نے تیسری بار میں اپنی انگلی بند کر لی ، یعنی مہینہ انتیس اور تیس دن کا ہوتا ہے۔
2320- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ [ثَلاثِينَ] > قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَظَرَ لَهُ فَإِنْ رُئِيَ فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلا قَتَرَةٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا، فَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلا يَأْخُذُ بِهَذَا الْحِسَابِ ۔
* تخريج: م/الصوم ۲(۱۰۸۰)،(تحفۃ الأشراف: ۷۵۳۶، ۱۹۱۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵) (صحیح)
(مگرابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کا بیان صحیح نہیں ہے اور نہ ہی یہ مؤلف کے سوا کسی کے یہاں ہے)
۲۳۲۰- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' مہینہ انتیس دن کا(بھی) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ صیام رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر صیام چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو''۔
راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آجاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن صیام نہ رکھتے اوراگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے ۔
راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی صیام رکھنا چھوڑتے تھے، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے۔
2321- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ: بَلَغَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، زَادَ: < وَإِنَّ أَحْسَنَ مَا يُقْدَرُ لَهُ [أَنَّا] إِذَا رَأَيْنَا هِلالَ شَعْبَانَ لِكَذَا وَكَذَا فَالصَّوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لِكَذَا وَكَذَا، إِلا أَنْ تَرَوُا الْهِلالَ قَبْلَ ذَلِكَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۳۶ و ۱۹۱۴۶) (صحیح)
۲۳۲۱- ایوب کہتے ہیں:عمر بن عبد العزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے متعلق معلوم ہوا ہے ۔۔۔، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمررضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے :''اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو صیام ان شاء اللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں(تو چاند دیکھنے ہی سے صیام رکھیں)''۔
2322- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَا صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا مَعَهُ ثَلاثِينَ۔
* تخريج: ت/الصوم ۶ (۶۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۴۱، ۳۹۷، ۴۰۵، ۴۰۸، ۴۴۱، ۴۵۰) (صحیح)
۲۳۲۲- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تیس دن کے صیام کے مقابلے میں انتیس دن کے صیام زیادہ رکھے ہیں۔
2323- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < شَهْرَا عِيدٍ لا يَنْقُصَانِ: رَمَضَانُ، وَذُو الْحِجَّةِ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۱۲(۱۹۱۲)، م/الصوم ۷ (۱۰۸۹)، ت/الصوم ۸ (۶۹۲)، ق/الصیام ۹ (۱۶۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸، ۴۷، ۵۰) (صحیح)
۲۳۲۳- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ''عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہو تے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی دونوں ایک ہی سال میں انتیس انتیس دن کے نہیں ہوتے، ایک اگر انتیس ہے تو دوسرا تیس کا ہوگا، ایک مفہوم یہ بتایا جاتا ہے کہ ثواب کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے اگر انتیس دن کے ہوں تب بھی پورے مہینے کا ثواب ملے گا۔