8- بَاب فِي التَّقَدُّمِ
۸-باب: رمضان کے استقبال کا بیان
2328- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِرَجُلٍ: < هَلْ صُمْتَ مِنْ شَهْرِ شَعْبَانَ شَيْئًا؟ > قَالَ: لا، قَالَ: < فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمًا > وَقَالَ أَحَدُهُمَا: < يَوْمَيْنِ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۶۲(۱۹۸۳تعلیقًا)، م/الصوم ۳۷ (۱۱۶۱)، (عندالجمیع: ''من سرر شعبان'')، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۴۴، ۱۰۸۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۳۲، ۴۳۴، ۴۴۲، ۴۴۳، ۴۴۶)، دي/الصوم ۳۵ (۱۱۸۳) (صحیح)
۲۳۲۸- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا: ''کیا تم نے شعبان کے کچھ صیام رکھے ہیں ۱؎ ؟''، جواب دیا: نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: '' جب( رمضان کے) صیام رکھ چکو تو ایک صیام اور رکھ لیا کرو''، ان دونوں میں کسی ایک راوی کی روایت میں ہے: '' دو صیام رکھ لیا کرو''۔
وضاحت ۱؎ : مؤلف کے سوا ہر ایک کے یہاں
''شهر'' (مہینہ) کی بجائے
''سرر'' (آخرماہ) کا لفظ ہے ، بلکہ خود مؤلف کے بعض نسخوں میں بھی یہی لفظ ہے، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ : ''اُس آدمی کی عادت تھی کہ ہر مہینہ کے اخیر میں صیام رکھا کرتا تھا، مگر رمضان سے ایک دو دن برائے استقبالِ رمضان صیام کی ممانعت '' سن کر اس نے اپنے معمول والا یہ صیام نہیں رکھا، تو آپ ﷺ نے اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ایسا فرمایا، یعنی : رمضان سے ایک دو دن قبل صیام رکھنے کا اگر کسی کا معمول ہو تو وہ رکھ سکتا ہے ، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معمول کی عبادت اگر کسی سبب سے چھوٹ جائے تو اس کی قضا کرلینی چاہئے۔
2329- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ، عَنْ أَبِي الأَزْهَرِ -الْمُغِيرَةِ بْنِ فَرْوَةَ- قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ فِي النَّاسِ بِدَيْرِ مِسْحَلٍ الَّذِي عَلَى بَابِ حِمْصَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا قَدْ رَأَيْنَا الْهِلالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَأَنَا مُتَقَدِّمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَفْعَلَهُ فَلْيَفْعَلْهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ، فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، أَشَيْئٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَمْ شَيْئٌ مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < صُومُوا الشَّهْرَ وَسِرَّهُ >.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۴۴) (ضعیف)
(اس کے راوی ''مغیرہ بن فروہ'' لین الحدیث ہیں)
۲۳۲۹- ابو ازہرمغیرہ بن فر وہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیر مسحل پر( جو کہ حمص کے دروازے پر واقع ہے )، کھڑے ہوکر لوگوں سے کہا: لوگو! ہم نے چاند فلاں فلاں دن دیکھ لیا ہے اور میں سب سے پہلے صیام رکھ رہا ہوں، جو شخص صیام رکھنا چاہے رکھ لے ، مالک بن ہبیرہ سبئی نے کھڑے ہو کران سے کہا: معاویہ! یہ بات آپ نے رسول ﷺ سے سن کر کہی ہے، یا آپ کی اپنی را ئے ہے؟ جواب دیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: '' رمضان کے مہینے کے صیام رکھو اور آخر شعبان کے''۔
2330- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: قَالَ الْوَلِيدُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو -يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ- يَقُولُ: سِرُّهُ أَوَّلُهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۹۶۶) (شاذ مقطوع) (کیونکہ صحیح معنی : اواخرماہ ہے)
۲۳۳۰- سلیمان بن عبد الرحمن نے اس حدیث کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ ولید کہتے ہیں:میں نے ابو عمرو یعنی اوزاعی کو کہتے سنا ہے کہ سرہ کے معنی اوائل ماہ کے ہیں۔
2331- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ: كَانَ سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِالْعَزِيزِ- يَقُولُ: سِرُّهُ أَوَّلُهُ.
[قَالَ أَبودَاود: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: سِرُّهُ وَسَطُهُ، وَقَالُوا: آخِرُهُ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۹۶۶، ۱۸۶۹۳) (شاذ)
۲۳۳۱- ابو مسہر کہتے ہیں :سعید یعنی ابن عبد العزیز کہتے ہیں
'' سِرُّهُ '' کے معنی
''أَوَّلُهُ '' کے ہیں۔
ابوداود کہتے ہیں:
''سِرُّهُ'' کے معنی کچھ لوگ
''وَسَطُهُ'' کے بتاتے ہیں اور کچھ لوگ
'' آخِرُهُ ''کے ۔