19- بَاب فِي نَسْخِ نَفِيرِ الْعَامَّةِ بِالْخَاصَّةِ
۱۹- باب: جہاد کے لئے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی
2505- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: {إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} وَ{مَاكَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ} إِلَى قَوْلِهِ: {يَعْمَلُونَ} نَسَخَتْهَا الآيَةُ الَّتِي تَلِيهَا: {وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً}۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۵۸) (حسن)
۲۵۰۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:{إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا}۱؎ اور {مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ۔۔۔ ۔يَعْمَلُونَ}۲؎ کو بعد والی آیت {وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً}۳؎ نے منسوخ کر دیا ہے۔
وضاحت۱؎: ''اگر تم جہاد کے لئے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا'' (سورۃ التوبہ: ۳۹)
وضاحت۲؎: ''مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں'' (سورۃ التوبہ: ۱۰)۔
وضاحت ۳؎: ''مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لئے نکل پڑیں'' (سورۃ التوبہ: ۱۲۲)
2506- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَبْدِالْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ: {إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} قَالَ: فَأُمْسِكَ عَنْهُمُ الْمَطَرُ، وَكَانَ عَذَابَهُمْ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۲۳) (ضعیف) (اس کے راوی ''نجدۃ'' مجہول ہیں)
۲۵۰۶- نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ میں نے آیت کریمہ {إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} ۱؎ کے سلسلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی (اور وہ مبتلائے قحط ہو گئے)۔
وضاحت۱؎: ''اگر تم جہاد کے لئے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا'' (سورۃ التوبہ: ۳۹)