- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
124- بَاب فِي الأَسِيرِ يُوثَقُ
۱۲۴-باب: قیدی کے باندھنے کا بیان
2677- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلاسِلِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۶۴)، وقد أخرجہ: خ/الجھاد ۱۴۴ (۳۰۱۰)، حم (۲/۳۰۲، ۴۰۶) (صحیح)
۲۶۷۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:'' ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مراد وہ لوگ ہیں جو قید ہو کر مسلمانوں کے ہاتھ میں آتے ہیں پھر اللہ انہیں اسلام کی توفیق دیتا ہے اور وہ اسلام قبول کرکے جنت کی راہ پر چل پڑتے ہیں یا وہ مسلمان قیدی مراد ہیں جو کفار کے ہاتھوں قید ہو کر انتقال کر جاتے ہیں پھر اللہ انہیں جنت میں داخل کرتا ہے ۔
2678- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَبْدَاللَّهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ، وَكُنْتُ فِيهِمْ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَى بَنِي الْمُلَوِّحِ بِالْكَدِيدِ فَخَرَجْنَا، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيَّ، فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الإِسْلامَ، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقُلْنَا: إِنْ تَكُنْ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكَ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ نَسْتَوْثِقُ مِنْكَ، فَشَدَدْنَاهُ وِثَاقًا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۶۷، ۴۶۸) (ضعیف)
(اس کے راوی ''مسلم جہنی''مجہول ہیں)
۲۶۷۸- جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا، میں بھی انہیں میں تھا، اور آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ بنو المُلَوِّح پر کدید میں کئی طرف سے حملہ کریں، چنانچہ ہم لوگ نکلے جب کدید میں پہنچے تو ہم حارث بن بر صاء لیثی سے ملے، ہم نے اسے پکڑ لیا، وہ کہنے لگا: میں تو مسلمان ہونے کے لئے آیا ہوں، میں تو رسول اللہ ﷺ ہی کی طرف جا رہا تھا، ہم نے کہا: اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن ایک رات کا ہمارا باندھنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر تم مسلمان نہیں ہو تو ہم تمہیں مضبوطی سے باندھیں گے، پھر ہم نے اس کو مضبوطی سے باندھ دیا۔
2679- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ وَقُتَيْبَةُ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ [ابْنُ سَعْدٍ] عَنْ سَعِيدِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَيْلا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَائَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ -سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ- فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ: < مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ > قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ ثُمَّ قَالَ لَهُ: <مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ > فَأَعَادَ مِثْلَ هَذَا الْكَلامِ، فَتَرَكَهُ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَذَكَرَ مِثْلَ هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ > فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ [فِيهِ] ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ عِيسَى: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ وَقَالَ: ذَا ذِمٍّ ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۷۶ (۴۶۲)، والمغازي ۷۰ (۴۳۷۲)، م/الجھاد ۱۹ (۱۷۶۴)، ن/الطھارۃ ۱۲۷ (۱۸۹)، المساجد ۲۰ (۷۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۵۲) (صحیح)
۲۶۷۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ سواروں کو نجد کی جانب بھیجا وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی آدمی کوگرفتار کر کے لائے، وہ اہل یمامہ کے سردار تھے، ان کو مسجد کے ایک کھمبے سے باندھ دیا، رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے اور پوچھا: ''ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟''، کہا : اے محمد !میرے پاس خیر ہے، اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک مستحق شخص کو قتل کریں گے، اور اگر احسان کریں گے، تو ایک قدرداں پر احسان کریں گے، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو کہئے جتنا چاہیں گے دیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ انہیں چھوڑ کر واپس آگئے، یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ''ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے؟''، تو انہوں نے پھر اپنی وہی بات دہرائی ، آپ ﷺ نے پھر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا، پھر جب تیسرا دن ہوا تو پھر وہی بات ہوئی، پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو، چنانچہ وہ مسجد کے قریب ایک با غ میں گئے، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور ''أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله'' پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کیا ۔
عیسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے لیث نے ''ذَاْ دَمٍ'' کے بجائے''ذَا ذِمٍّ '' ( یعنی ایک عزت دار کو قتل کروگے) روایت کی ہے۔
2680- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ- عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ: قُدِمَ بِالأُسَارَى حِينَ قُدِمَ بِهِمْ وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ عِنْدَ آلِ عَفْرَاءَ فِي مُنَاخِهِمْ عَلَى عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَالَ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ، قَالَ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَعِنْدَهُمْ إِذْ أَتَيْتُ فَقِيلَ: هَؤُلاءِ الأُسَارَى قَدْ أُتِيَ بِهِمْ، فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِيهِ، وَإِذَا أَبُو يَزِيدَ -سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو- فِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ بِحَبْلٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ.
قَالَ أَبو دَاود: وَهُمَا قَتَلا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَكَانَا انْتَدَبَا لَهُ، وَلَمْ يَعْرِفَاهُ، وَقُتِلا يَوْمَ بَدْرٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۹۷) (ضعیف)
(یحییٰ بن عبد اللہ تابعی صغیرہیں، اسلئے یہ روایت مرسل ہے)
۲۶۸۰- یحییٰ بن عبد اللہ بن عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قیدیوں کو لایا گیا جس وقت انہیں لایا گیا، اور سودہ بنت زمعہ (ام المومنین رضی اللہ عنہا) آل عفراء یعنی عوف بن عفراء اور معوذ بن عفراء کے پاس اس جگہ تھیں جہاں ان کے اونٹ بٹھائے جاتے تھے، اور یہ معاملہ پردہ کا حکم اترنے سے پہلے کا ہے، سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قسم اللہ کی ! میں انہیں کے پاس تھی، یکایک آئی تو کہا گیا یہ قیدی ہیں پکڑ کر لائے گئے ہیں، تو میں اپنے گھر واپس آئی اور رسول اللہ ﷺ گھر میں تھے اور ابو یزید سہیل بن عمرو حجر ے کے ایک کونے میں تھا، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے ایک رسی سے بندھے ہوئے تھے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
ابو داود کہتے ہیں :انہیں دونوں(عوف ومعوذ)نے ابو جہل بن ہشام کو قتل کیا، اور یہی دونوں اس کے آگے آئے حالاں کہ اسے پہچانتے نہ تھے، یہ دونوں بدر کے دن مارے گئے۔