- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
{ 15- كِتَاب الْجَنَائِزِ }
۱۵-کتاب: جنازہ کے احکام ومسائل
1- بَاب الأَمْرَاضِ الْمُكَفِّرَةِ لِلذُّنُوبِ
۱-باب: گنا ہوں کے لئے کفا رہ بننے والی بیماریوں کا بیان
3089- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَنْظُورٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ عَامِرٍ الرَّامِ أَخِي الْخُضِرِ -قَالَ أَبو دَاود: قَالَ النُّفَيْلِيُّ: هُوَ الْخُضْرُ وَلَكِنْ كَذَا قَالَ- قَالَ: إِنِّي لَبِبِلادِنَا إِذْ رُفِعَتْ لَنَا رَايَاتٌ وَأَلْوِيَةٌ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا لِوَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَتَحْتَ شَجَرَةٍ قَدْ بُسِطَ لَهُ كِسَائٌ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَيْهِ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ، فَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الأَسْقَامَ، فَقَالَ: <إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَّقَمُ ثُمَّ أَعْفَاهُ اللَّهُ مِنْهُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ، وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ، وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْفِيَ كَانَ كَالْبَعِيرِ عَقَلَهُ أَهْلُهُ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوهُ وَلَمْ يَدْرِ لِمَ أَرْسَلُوهُ > فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ حَوْلَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا الأَسْقَامُ؟ وَاللَّهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < قُمْ عَنَّا فَلَسْتَ مِنَّا > فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَائٌ وَفِي يَدِهِ شَيْئٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَمَّا رَأَيْتُكَ أَقْبَلْتُ إِلَيْكَ فَمَرَرْتُ بِغَيْضَةِ شَجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ، فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي، فَجَائَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي، فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ مَعَهُنَّ، فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي فَهُنَّ أُولاءِ مَعِي، قَالَ: < ضَعْهُنَّ عَنْكَ > فَوَضَعْتُهُنَّ، وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلا لُزُومَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لأَصْحَابِهِ: <أَتَعْجَبُونَ لِرُحْمِ أُمِّ الأَفْرَاخِ فِرَاخَهَا؟ > قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ [صلی اللہ علیہ وسلم]، قَالَ: < فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الأَفْرَاخِ بِفِرَاخِهَا، ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ > فَرَجَعَ بِهِنَّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۵۶) (ضعیف)
(اس کے راوی’’ ابو منظور شامی ‘‘ مجہول ہیں )
۳۰۸۹- خُضْر کے تیر اندازبھائی عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ملک میں تھا کہ یکا یک ہمارے لئے جھنڈے اور پرچم لہرائے گئے تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا پرچم ہے، تو میں آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ ایک درخت کے نیچے ایک کمبل پر جو آپ کے لئے بچھایا گیا تھا تشریف فرما تھے، اور آپ ﷺ کے ارد گرد آپ کے اصحاب اکٹھا تھے، میں بھی جا کر انہیں میں بیٹھ گیا ۱؎ ، پھر رسول اللہ ﷺ نے بیماریوں کا ذکر فرمایا: ’’ جب مومن بیمار پڑتا ہے پھر اللہ تعالی اس کو اس کی بیماری سے عافیت بخشتا ہے تو وہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور آئندہ کے لئے نصیحت، اور جب منافق بیمار پڑتا ہے پھر اسے عافیت دے دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کے مانند ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا ہو، اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کس لئے باندھا گیا اور کیوں چھوڑ دیاگیا‘‘ ۔
آپ ﷺ کے ارد گرد موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیماریاں کیا ہیں؟ اللہ کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تو اٹھ جا، تو ہم میں سے نہیں ہے ‘‘ ۲؎ ۔
عامر کہتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا جس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف آنکلا، راستے میں درختوں کا ایک جھنڈ دیکھا اور وہاں چڑیا کے بچوں کی آواز سنی تو انہیں پکڑ کر اپنے کمبل میں رکھ لیا، اتنے میں ان بچوں کی ماں آگئی، اور وہ میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لئے ان بچوں سے کمبل ہٹا دیا تو وہ بھی ان بچوں پر آگری، میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا، اور وہ سب میرے ساتھ ہیں،آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ ان کو یہاں رکھو‘‘، میں نے انہیں رکھ دیا، لیکن ماں نے اپنے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا، تب رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’کیا تم اس چڑیا کے اپنے بچوں کے ساتھ محبت کرنے پر تعجب کرتے ہو؟‘‘، صحابہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، اللہ تعالی اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت رکھتا ہے جتنی یہ چڑیا اپنے بچوں سے رکھتی ہے، تم انہیں ان کی ماں کے ساتھ لے جائو اور وہیں چھوڑ آئو جہاں سے انہیں لائے ہو‘‘، تو وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی میں بھی ان کے حلقے میں شریک ہو گیا، تاکہ آپ ﷺ کا وعظ اور آپ ﷺ کی نصیحت سنو ں اور دیکھوں کہ آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں۔
وضاحت۲؎ :آپ ﷺ نے یہ تہدیدا فرمایا، یعنی مومن پر کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور آتی ہے، تاکہ آخرت میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہو، اس کے بر خلاف کافروں کو اکثر دنیا میں راحت رہتی ہے، تاکہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رہے، جو کچھ انہیں ملنا ہے دنیا ہی میں مل جائے۔
3090- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ -الْمَعْنَى- قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ أَبو دَاود: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ: السَّلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ، أَوْ فِي مَالِهِ، أَوْ فِي وَلَدِهِ >.
قَالَ أَبو دَاود: زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ: < ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ >، ثُمَّ اتَّفَقَا: < حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۲) (صحیح)
(شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ اس کے اندر ’’ محمد بن خالد‘‘ اور ان کے والد ’’خالد سلمی‘‘ دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: ’’الصحیحہ للألبانی ‘‘نمبر: ۲۵۹۹)
۳۰۹۰- خالد سلمی اپنے والد سے (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا: ’’ جب بندے کو اللہ تعالی کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جا تا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پا تا تو اللہ تعالی اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزما تا ہے، پھر اللہ تعالی اسے صبر کی تو فیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جاپہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملاتھا‘‘۔