7- بَاب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوء
۷-باب: باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا بیان
3097- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ [بْنِ مَالِكٍ] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا > قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَمَا الْخَرِيفُ؟ قَالَ: الْعَامُ.
[قَالَ أَبو دَاود: وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ الْبَصْرِيُّونَ مِنْهُ الْعِيَادَةُ وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۱) (ضعیف)
(اس کے راوی'' فضل بن دلہم '' لین الحدیث ہیں )
۳۰۹۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جو شخص اچھی طرح سے وضو کر ے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دو زخ سے ستر خر یف کی مسافت کی مقدار دور کردیا جا تا ہے''، میں نے کہا! اے ابو حمزہ ! خریف کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سال ۔
ابوداود کہتے ہیں: اہل بصرہ جن چیزوں میں منفرد ہیں ان میں بحالت وضو عیادت کا مسئلہ بھی ہے۔
3098- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا مُمْسِيًا إِلا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَتَاهُ مُصْبِحًا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر الحدیث الآتي، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۱۱) (صحیح)
۳۰۹۸- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص کسی بیمار کی دن کے اخیر حصے میں عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہز ار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لئے جنت میں ایک با غ ہوتاہے، اور جو شخص دن کے ابتدائی حصے میں عیادت کے لئے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہز ار فر شتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس کے لئے جنت میں ایک با غ ہوتا ہے۔
3099- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ -بِمَعْنَاهُ- لَمْ يَذْكُرِ الْخَرِيفَ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ مَنْصُورٌ عَنِ الْحَكَمِ، كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ ۔
* تخريج: ق/الجنائز ۲ (۱۴۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۱۱)، وقد أخرجہ: ت/الجنائز ۲ (۹۶۹)، حم (۱/۸۱، ۱۲۰) (صحیح)
۳۰۹۹- علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں: لیکن انہوں نے اس میں
''خَرِيْفْ'' کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے۔
3100- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ غُلامُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ أَبُومُوسَى إِلَى الْحَسَنِ ابْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَسَاقَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ.
قَالَ أَبو دَاود: أُسْنِدَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ صَحِيحٍ۔
* تخريج: انظر ماقبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۱۱) (صحیح مرفوع)
۳۱۰۰- ابوجعفرعبداللہ بن نا فع سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں: اور نا فع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں: ابوموسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لئے آئے ۔
ابو داود کہتے ہیں : راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث بوا سطہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے ضعیف طریق سے مر وی ہے۔