- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
32- بَاب فِي سَتْرِ الْمَيِّتِ عِنْدَ غُسْلِهِ
۳۲-باب: غسل کے وقت میت کا سترچھپانے کا بیان
3140- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلاتَنْظُرَنَّ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلا مَيِّتٍ >۔
* تخريج: ق/الجنائز ۸ (۱۴۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۴۶) (ضعیف جداً)
(سند میں دوجگہ انقطاع ہے :ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب و عاصم کے درمیان)
۳۱۴۰- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' تم اپنی ران کو مت کھو لو اورکسی زندہ و مردہ کی ران کو ہرگز نہ دیکھو''۔
3141- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: لَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ ﷺ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نَغْسِلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلا وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ: أَنِ اغْسِلُوا النَّبِيَّ ﷺ وَعَلَيْه ثِيَابُهُ، فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ، وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَلَهُ إِلا نِسَاؤُهُ۔
* تخريج: ق/الجنائز ۹ (۱۴۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۶۷) (حسن)
۳۱۴۱- عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کوکہتے سنا کہ جب لوگو ں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دینے کا ارا دہ کیا توکہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتا ر دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلا ف ہوگیاتو اللہ تعالی نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گو شے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم ﷺ کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو،آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا،(یہ سن کر) لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ ﷺ کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں :اگر مجھے پہلے یا د آجا تا جو بعد میں یا د آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : غالباً ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا اشا رہ اس با ت کی طرف تھا کہ رسول ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ: ''اے عائشہ! اگر تم میرے سامنے مری تو میں تمہیں غسل اور کفن دوں گا''، جیسا کہ فا طمہ رضی اللہ عنہا کو علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا، تو جب شو ہر بیوی کو غسل دے سکتا ہے تو بیوی شو ہر کو غسل دے سکتی ہے، مگر انہیں بروقت اس کا دھیان نہیں آیا ورنہ آپ ﷺ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ شوہر بیوی کو غسل نہیں دے سکتا، مگر اس پر کوئی قوی دلیل نہیں ہے۔