• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب فِي أَكْلِ لَحْمِ الْحُبَارَى
۲۹-باب: سُرخاب کا گوشت کھانے کا بیان​


3797- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي بُرَيْهُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَحْمَ حُبَارَى۔
* تخريج: ت/الأطعمۃ ۲۶ (۱۸۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۸۲) (ضعیف)
(اس کے راوی''بریہ'' مجہول الحال ہیں)
۳۷۹۷- سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (پانی کی چڑیا) سُرخاب کا گوشت کھایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب فِي أَكْلِ حَشَرَاتِ الأَرْضِ
۳۰-باب: زمین پر موجود کیڑوں مکوڑوں کے کھانے کے حکم کا بیان​


3798- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ حَجْرَةَ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَحِبْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَةِ الأَرْضِ تَحْرِيمًا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۵۱) (ضعیف الإسناد)
(اس کے راوی''ملقام '' مجہول الحال ہیں )
۳۷۹۸- تلبّ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں رہا لیکن میں نے کیڑے مکوڑوں کی حرمت کے متعلق نہیں سنا۔


3799- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ، فَتَلا: {قُلْ لا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} الآيَةَ، قَالَ: قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: < خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ > فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ هَذَا فَهُوَ كَمَا قَالَ [مَا لَمْ نَدْرِ]۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۸۱) (ضعیف)
(اس کی سند میں ایک راوی '' شیخ'' مبہم ہیں )
۳۷۹۹- نمیلہ کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپ سے سیہی ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی: {قُلْ لا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} ( اے نبی! آپ کہہ دیجئے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا) ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا:میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ''وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے''۔
تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے تو بے شک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔
وضاحت ۱؎ : بڑے چوہے کی مانند ایک جانور جس کے پورے بدن پر کانٹے ہوتے ہیں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب مَا لَمْ يُذْكَرْ تَحْرِيمُهُ
۳۱-باب: ایسی چیزوں کا بیان جن کی حرمت مذکور نہیں​


3800- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ الْمَكِّيَّ- عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَائِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ ﷺ ، وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، وَأَحَلَّ حَلالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، وَتَلا: {قُلْ لا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} إِلَى آخِرِ الآيَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۸۶) (صحیح الإسناد)
۳۸۰۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زما نۂ جا ہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھا تے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث کیا،اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلا ل کر دی وہ حلا ل ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: {قُلْ لا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} ( آپ کہہ دیجئے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا) اخیر تک پڑھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب فِي أَكْلِ الضَّبُعِ
۳۲-باب: بجّو کھانے کا بیان​


3801- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: < هُوَ صَيْدٌ، وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشٌ إِذَا صَادَهُ الْمُحْرِمُ >۔
* تخريج: ت/الحج ۲۸ (۸۵۱)، الأطعمۃ ۴ (۱۷۹۲)، ن/الحج ۸۹ (۲۸۳۹)، الصید ۲۷ (۴۳۲۸)، ق/المناسک ۹۰ (۳۰۸۵)، الصید ۱۵ (۳۲۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۹۷، ۳۱۸، ۳۲۲)، دي/المناسک ۹۰ (۱۹۸۴) (صحیح)
۳۸۰۱- جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے لکڑبگھا ۱؎کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’وہ شکار ہے اور جب محرم اس کا شکار کرے تواسے ایک دنبے کا دم دیناپڑے گا‘‘۔
وضاحت ۱؎ : ضبع : ایک درندہ ہے ، جوکتے سے بڑا اور اس سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے ، اس کا سربڑا اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں، اس کی جمع اضبع ہے (المعجم الوسیط: ۵۳۳-۵۳۴) ہندوپاک میں اس درندے کو لکڑبگھا کہتے ہیں،جوبھیڑیے کی قسم کا ایک جنگلی جانور ہے ، اور جسامت میں اس سے بڑا ہوتا ہے ، اور اس کے کیچلی کے دانت بڑے ہوتے ہیں، اس کے جسم کے بال کالے اور راکھ کے رنگ کے رنگ دھاری دار ہوتے ہیں، پیچھے بائیں پاؤں دوسرے پاؤں سے چھوٹا ہوتا ہے ، اس کا سر چیتے کے سرکی طرح ہوتا ہے ، لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے ،وہ اپنے چوڑے چکلے مضبوط جبڑوں سے شیراور چیتوں کے سر کوتوڑسکتا ہے ، اکثررات میں نکلتا ہے ، اور اپنے مجموعے کے ساتھ رہتا ہے ،یہ جانورزمین میں سوراخ کرکے مختلف چھوٹے چھوٹے کمرے بناتے ہیں ، اور بیچ میں ایک ہال ہوتا ہے، جس میں سارے کمروں کے دروازے ہوتے ہیں ، اور ایک دروازہ اس ہال سے باہر کو جاتا ہے ، نجد میں ان کی اس رہائش کو مضبعہ یا مجفرہ کہتے ہیں ، ماںپورے خاندان کی نگران ہوتی ہے ، اور سب کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے، اور نر سوراخ کے کنارے پر چھوٹوں کی نگرانی کرتا ہے ، یہ جانورمردہ کھاتا ہے ، لیکن شکارکبھی نہیں کرتا اور کسی پر حملہ بھی نہیں کرتا إلا یہ کہ کوئی اس پر حملہ آورہو، یہ جانوروں کے پیچھے رہتا ہے ، اس کی گردن سیدھی ہوتی ہے ، اس لیے دائیں بائیں جسم موڑے بغیر نہیں ہوسکتا۔
اہل نجدکے یہاں یہ جانور کھایا جاتاتھا اور لوگ اس کا شکارکرتے تھے ، میں نے اس کے بارے میں اپنے ایک دوست ڈاکٹرمحمداحمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی ، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں ، اور بذات خود صحرائی جانور کا تجربہ رکھتے ہیں ،سے پوچھاتوانہوں نے مذکورہ بالا تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا اور اس کے زمین کے اندرکے گھرکا نقشہ بھی بناکردکھایا ۔اس کے گھرکوماند اور کھوہ سے بھی تعبیرکیا جاسکتا ہے ۔یہ تفصیل اس واسطے درج کی جاری ہے کہ مولانا وحیدالزماںنے ضبع کا ترجمہ بجوسے کیا ہے ،فرماتے ہیں: فارسی زبان میں اسے ’’کفتار‘‘اور ہندی میں بجوکہتے ہیں، یہ گوشت خور جانور ہے، جو بلوں میں رہتا ہے، مولانا محمد عبدہ الفلاح فیروز پوری کہتے ہیں کہ ضبع سے مراد بجو نہیں ہے بلکہ اس نوع کا ایک جانور ہے جسے شکارکیا جاتا ہے ، اور اس کو لکڑبگڑکھا کہاجاتا ہے ، جو سابقہ ریاست سندھ اور بہاولپور میں پایا جاتا ہے۔اوپرکی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث میں مذکورضبع سے مراد لکڑبگھا ہے ، بجونہیں ، شاید مولانا وحیدالزماں کے سامنے دمیری کی حیاۃ الحیوان تھی جس میں ضبع کی تعریف بجوسے کی گئی ہے ، اور شیخ صالح الفوزان نے بھی حیاۃ الحیوان سے نقل کرکے یہی لکھاہے ، مولانا وحید الزماں بجوکے بارے میں فرماتے ہیں:’’ اس سے صاف نکلتا ہے کہ بجو حلال ہے ، امام شافعی کا یہی قول ہے ، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ دانت والا درندہ ہے ، تو اور درندوں کی طرح حرام ہوگا ، اور جب حلت اور حرمت میں تعارض ہو تو اس سے باز رہنا بھی احتیاط ہے ‘‘،سابقہ تفصیلات کی روشنی میں ہمارے یہاں لکڑبگھا ہی ضبع کا صحیح مصداق ہے ، اور اس کا شکار کرنا اور اس کو کھانا صحیح حدیث کی روشنی میں جائز ہے ۔
واضح رہے کہ چیرپھاڑ کرنے والے حیوانات حرام ہے ، یعنی جس کی کچلی ہوتی ہے ، اور جس سے وہ چیرپھاڑکرتا ہے ، جیسے : کتا ، بلی جن کا شمار گھریلویا پالتو جانورمیں ہے اور وحشی جانورجیسے : شیر ، بھیڑیا ، چیتا، تیندوا ، لومڑی ، جنگلی بلی، گلہری، بھالو، بندر، ہاتھی، سمور(نیولے کے مشابہ اور اس سے کچھ بڑا اور رنگ سرخ سیاہی مائل )گیدڑوغیرہ وغیرہ ۔حنفیہ ، شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں یہ سارے جانورحرام ہیں، اور مالکیہ کا ایک قول بھی ایسے ہی ہے، لکڑبگھااور لومڑی ابویوسف اور محمدبن حسن کے نزدیک حلال ہے ، جمہورعلماء ان حیوانات کی حرمت کے دلیل میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہرکچلی والے درندے کا کھانا حرام ہے (صحیح مسلم و موطاامام مالک)
لکڑبگھا حنابلہ کے یہاں صحیح حدیث کی بناپر حلال ہے ، کچلی والے درندے میں سے صرف لکڑبگھاکو حرمت کے حکم سے مستثنی کرنے والوں کی دلیل اس سلسلے میں وارد احادیث وآثارہیں، جن میں سے زیرنظر جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے ، جوصحیح ہے بلکہ امام بخاری نے بھی اس کی تصحیح فرمائی ہے (کمافي التلخیص الحبیر۴/۱۵۲)، نافع مولیٰ ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمرکو یہ بتایا کہ سعدبن ابی وقاص لکڑبگھاکھاتے ہیں توابن عمرنے اس پر نکیرنہیں فرمائی ۔
مالکیہ کے یہاں ان درندوں کا کھانا حلال ہے ، ان کا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے : {قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ}[ سورة الأنعام:145] ان آیات میں درندوں کے گوشت کا ذکرنہیں کیاگیا ہے ، اس لیے یہ حلال ہوںگے اور ہرکچلی والے درندے کے گوشت کھانے سے ممانعت والی حدیث کراہت پر محمول کی جائے گی ۔
خلاصہ یہ کہ مالکیہ کے علاوہ صرف حنبلی مذہب میں صحیح حدیث کی بناپر لکڑبگھاحلال ہے (ملاحظہ ہو: الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ : ۵/۱۳۳-۱۳۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ
۳۳-باب: درندہ (پھاڑکھانے والے جانور ) کھانے کی ممانعت کا بیان​


3802- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ۔
* تخريج: خ/الصید ۲۹ (۵۵۳۰)، الطب ۵۷ (۵۷۸۰)، م/الصید ۳ (۱۹۳۲)، الأطعمۃ ۳۳ (۱۹۳۲)، ت/الصید ۱۱ (۱۴۷۷)، ن/الصید ۲۸ (۴۳۳۰)، ۳۰ (۴۳۴۸) ق/الصید ۱۳ (۳۲۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۹۳، ۱۹۴، ۱۹۵)، دي/ الأضاحی ۱۸ (۲۰۲۳) (صحیح)
۳۸۰۲- ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھاڑ کھانے والے جانوروں میں سے ہر دانت والے جانور کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
3803- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ۔
* تخريج: م/الصید ۳ (۱۹۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۰۶)، وقد أخرجہ: ن/الصید ۳۳ (۴۳۵۳)، ق/الصید ۱۳ (۳۲۳۴)، حم (۱/۲۴۴، ۲۸۹، ۳۰۲، ۳۲۷، ۳۳۲، ۳۳۹، ۳۷۳)، دی/ الأضاحی ۱۸ (۲۰۲۵) (صحیح)
۳۸۰۳- عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہر دانت والے درندے، اور ہرپنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔


3804- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى [الْحِمْصِيُّ]، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < أَلا لا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلا الْحِمَارُ الأَهْلِيُّ، وَلا اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۷۱)، وقد أخرجہ: ت/العلم ۱۰ (۲۶۶۳)، ق/الصید ۲ (۳۲۳۴)، حم (۴/۱۳۲) (صحیح)
۳۸۰۴- مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا،اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کرلے''۔


3805- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ۔
* تخريج: ن/ الصید ۳۳ (۴۳۵۳)، ق/ الصید ۱۳ (۳۲۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۳۹) (صحیح)
۳۸۰۵- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا۔


3806- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ خَيْبَرَ، فَأَتَتِ الْيَهُودُ، فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى حَظَائِرِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَلا لا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلا بِحَقِّهَا، وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الأَهْلِيَّةِ، وَخَيْلُهَا، وَبِغَالُهَا، وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : ۳۷۹۰، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۹) (ضعیف منکر)
(اس کے راوی''صالح '' ضعیف، اور '' یحییٰ ''مجہول ہیں، نیز خالد رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر تک مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے تو اس میں شریک کیسے ہوئے)
۳۸۰۶- خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تویہود آکر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''خبر دار! جو کافر تم سے عہد کرلیں ان کے اموال تمہارے لئے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہا رے لئے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں''۔


3807- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرِّ، قَالَ ابْنُ عَبْدِالْمَلِكِ: عَنْ أَكْلِ الْهِرِّ، وَأَكْلِ ثَمَنِهَا۔
* تخريج: ت/البیوع ۴۹ (۱۲۸۰)، ق/الصید ۲۰ (۳۲۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۹۴) (ضعیف)
(اس کے راوی ''عمر'' ضعیف ہیں )
۳۸۰۷- جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا۔
ابن عبدالملک کی روایت میں بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے کے الفاظ ہیں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
۳۴-باب: گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے​


3808- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو ابْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنْ جَابِرِ بَنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [يَوْمَ خَيْبَرَ] عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ، قَالَ عَمْرٌو: فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَائِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا، وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ، يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ۔
* تخريج: خ/ الصید ۲۸ (۵۵۲۹)، انظر حدیث رقم : ۳۷۸۸، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۱۳) (صحیح)
(اس سند میں ''رجل '' سے مراد ''محمد بن علی باقر ہیں )
۳۸۰۸- جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھر یلوگد ھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا ۔
عمرو کہتے ہیں: ابو الشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس بحر(عالم) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ابن عباس رضی اللہ عنہما گھریلو گدھا کے کھانے کو جائز مانتے تھے، ہو سکتا ہے کہ انہیں حرمت والی حدیث نہ پہنچی ہو، آیت کریمہ: {قُلْ لا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} سے ان کا اس پر استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت مکی ہے، اور حرمت مدینہ میں ہوئی تھی ۔


3809- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ قَالَ: أَصَابَتْنَا سَنَةٌ، فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي شَيْئٌ أُطْعِمُ أَهْلِي إِلا شَيْئٌ مِنْ حُمُرٍ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَابَتْنَا السَّنَةُ، وَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي مَا أُطْعِمُ أَهْلِي إِلا سِمَانُ الْحُمُرِ، وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: < أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ حُمُرِكَ، فَإِنَّمَا حَرَّمْتُهَا مِنْ أَجْلِ جَوَّالِ الْقَرْيَةِ > يَعْنِي الْجَلَّالَةَ.
[قَالَ أَبو دَاود: عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ مَعْقِلٍ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَنَّ سَيِّدَ مُزَيْنَةَ أَبْجَرَ، أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ، سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ ] ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۱۸) (ضعیف الإسناد/ مضطرب)
(اس کی سند میں سخت اضطراب ہے )
۳۸۰۹- غالب بن ابجر کہتے ہیں: ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدہوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے اور رسول اللہ ﷺ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آپکڑا ہے اور ہما رے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے اہل وعیال کو اپنے موٹے گدھے کھلائو میں نے انہیں گائوں گائوں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے'' یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں : عبدالرحمن سے مراد ابن معقل ہیں۔
ابوداود کہتے ہیں:اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابو الحسن سے،عبید نے عبدالرحمن بن معقل سے عبدالرحمن بن معقل نے عبدالرحمن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا تھا۔


3810- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَحَدُهُمَا عَنِ الآخَرِ أَحَدُهُمَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ، وَالآخَرُ غَالِبُ بْنُ الأَبْجَرِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ ﷺ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۱۸) (ضعیف الإسناد)
(اس سند میں سخت اضطراب ہے )
۳۸۱۰- ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کر تے ہیں، اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کر تا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمر و بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے ۔
مسعر کہتے ہیں: میراخیال ہے غالب ہی نبی اکرم ﷺ کے پاس اس بات ( قحط والے معاملے) کو لے کر آئے تھے۔


3811- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْجَلاَّلَةِ: عَنْ رُكُوبِهَا، وَأَكْلِ لَحْمِهَا۔
* تخريج: ن/الضحایا ۴۲ (۴۴۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۱۹) (حسن صحیح)
۳۸۱۱- عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے اور نجاست خور جانور کی سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب فِي أَكْلِ الْجَرَادِ
۳۵-باب: ٹڈی کھانے کا بیان​


3812- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سِتَّ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، فَكُنَّا نَأْكُلُهُ مَعَهُ۔
* تخريج: خ/الصید ۱۳ (۵۴۹۵)، م/الصید ۸ (۱۹۵۲)، ت/الأطعمۃ ۱۰ (۱۸۲۱)، ن/الصید ۳۷ (۴۳۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۳، ۳۵۷،۳۸۰)، دي/الصید ۵ (۲۰۵۳) (صحیح)
۳۸۱۲- ابویعفور کہتے ہیں: میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کر تے تھے۔


3813- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: <أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ، لا آكُلُهُ، وَلا أُحَرِّمُهُ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ۔
* تخريج: ق/الصید ۹ (۳۲۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۹۵) (ضعیف)
(اس کے راوی''محمد بن زبر قان'' حافظہ کے کمزور ہیں اس لئے ان کی مرفوع روایت ''معتمر '' کی مرسل روایت کے بالمقابل مرجوح ہے صحیح سند سے اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے )
۳۸۱۳- سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:'' اللہ کے بہت سے لشکر ہیں، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کر تا ہوں''۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے،سلیمان نے ابو عثمان سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے (یعنی مرسلا روایت کی ہے )۔


3814- حَدَّثَنَا نَصر بْنُ عَلِي، وَ عَلِي بْنُ عَبْدِاللَهِ، قَالا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ، فَقَالَ مِثْلَهُ، فَقَالَ: < أَكْثَرُ جُنْدِ اللَّهِ > قَالَ عَلِيٌّ: اسْمُهُ فَائِدٌ، يَعْنِي أَبَا الْعَوَّامِ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۹۵) (ضعیف)
(''زکریا '' کے با لمقابل ''حماد '' کی روایت صحیح ہے، اور حماد کی روایت سے یہ روایت مرسل ہے )
۳۸۱۴- سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ٹڈی کے متعلق پوچھا گیا توآپ نے ایسے ہی فرمایا: ''اللہ کے بہت سے لشکر ہیں ''۔
علی کہتے ہیں: ان کا یعنی ابوالعوام کا نام فائد ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ابو العوام سے اابوالعوام نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا اور سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب فِي أَكْلِ الطَّافِي مَنِ السَّمَكِ
۳۶-باب: مر کر پانی کے اوپر آجانے والی مچھلی کا کھانا کیسا ہے؟​


3815- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلَ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَا أَلْقَى الْبَحْرُ، أَوْ جَزَرَ عَنْهُ، فَكُلُوهُ، وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا، فَلا تَأْكُلُوهُ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَيُّوبُ، وَحَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَوْقَفُوهُ عَلَى جَابِرٍ، وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: ق/الصید ۱۸ (۳۲۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۵۷) (ضعیف)
(اس کے راوی''یحییٰ '' حافظہ کے کمزور، اور ''ابو الزبیر '' مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
۳۸۱۵- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سمندر جس مچھلی کو باہر ڈال دے یا جس سے سمندر کا پانی سکڑ جائے تو اسے کھائو، اور جو اس میں مر کر اوپر آجائے تو اسے مت کھائو''۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: ''عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي ﷺ ''۔


3815 / 1- حَدَّثَنَاْ ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَاْ إِسْمَاْعِيْلُ، عَنْ خَاْلِدٍ، عَنْ مُعَاْوِيَةَ بْنَ قرَّة أَبِيْ إِيَاْسٍ، أَنَّ أَبَاْ أَيُّوْبٍ أُتِيَ بِسَمَكَةٍ طَاْفِيَةً فَأَكَلَهَا.
قَاْلَ أَبُوْ دَاْوُدَ: وَرَوَىْ عَبْدُالمَلِكِ بْنِ أَبْيْ بَشِيْرٍ، عَنْ عِكْرَمَةَ قَاْلَ: أَشْهَدُ عَلَىْ ابْنِ عَبَّاْسٍ قَاْلَ: أَشْهَدُ عَلَىْ أَبِيْ بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ أَنَّهُ قَاْلَ: كُلُوْا الطَّافِـيَ مِنَ السَّمَكِ.
* تخريج: تحفة الأشراف (۳۴۸۹) من رواية أبي الحسن بن العبد
3815 / 2- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوْنُسٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالمَلِكِ بْنِ أَبْيْ بَشِيْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَاْلَ: أَشْهَدُ عَلَىْ ابْنِ عَبَّاْسٍ قَاْلَ: أَشْهَدُ عَلَىْ أَبِيْ بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ قَاْلَ: كُلُوْا الطَّاْفِـيَ مِنَ السَّمَكِ.
* تخريج: تحفة الأشراف (6602) من رواية أبي الحسن بن العبد
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
37- بَاب فِي الْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَيْتَةِ
۳۷-باب: مردار کھانے پر مجبور ہو تواس کے حکم کا بیان​


3816- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلا نَزَلَ الْحَرَّةَ وَمَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ نَاقَةً لِي ضَلَّتْ، فَإِنْ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا، فَوَجَدَهَا، فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبَهَا، فَمَرِضَتْ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْحَرْهَا، فَأَبَى، فَنَفَقَتْ، فَقَالَتِ: اسْلُخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ شَحْمَهَا وَلَحْمَهَا وَنَأْكُلَهُ، فَقَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: < هَلْ عِنْدَكَ غِنًى يُغْنِيكَ؟ > قَالَ: لا، قَالَ: < فَكُلُوهَا >، قَالَ: فَجَاءَ صَاحِبُهَا، فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: < هَلَّا كُنْتَ نَحَرْتَهَا >، قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۸۷، ۸۸، ۸۹، ۹۷، ۱۰۴) (حسن الإسناد)
۳۸۱۶- جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ حرّہ میں قیام کیا، تو ایک شخص نے اس سے کہا: میری ایک اونٹنی کھو گئی ہے اگر تم اسے پانا تو اپنے پاس رکھ لینا، اس نے اسے پالیالیکن اس کے مالک کو نہیں پاسکا پھر وہ بیمار ہو گئی، تواس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر ڈالو،لیکن اس نے انکار کیا، پھر اونٹنی مرگئی تو اس کی بیوی نے کہا: اس کی کھال نکال لو تا کہ ہم اس کی چربی اور گوشت سکھا کرکھاسکیں، اس نے کہا: جب تک کہ میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ نہیں لیتا ایسا نہیں کر سکتا چنانچہ وہ آپ کے پاس آیا اور اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ کیا تیرے پاس کوئی اور چیز ہے جو تجھے ( مردار کھانے سے) بے نیاز کرے‘‘، اس شخص نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ پھرتم کھائو‘‘۔
راوی کہتے ہیں:اتنے میں اس کا مالک آگیا، تو اس نے اسے سارا واقعہ بتایا تو اس نے کہا: تو نے اسے کیوں نہیں ذبح کرلیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم محسوس کی ( اور بغیر اجازت ایسا کرنا میں نے مناسب نہیں سمجھا)۔


3817- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لَنَا [مِنَ] الْمَيْتَةِ؟ قَالَ: <مَا طَعَامُكُمْ؟> قُلْنَا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ، قَدَحٌ غُدْوَةً، وَقَدَحٌ عَشِيَّةً، قَالَ: < ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ >، فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ.
قَالَ أَبو دَاود: الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، وَالصَّبُوحُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۲۱) (ضعیف الإسناد)
(اس کے راوی’’ عقبہ عامری‘‘ لین الحدیث ہیں )
۳۸۱۷- فجیع عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لئے کیا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’تمہارا کھانا کیاہے؟‘‘ ، انہوں نے کہا:ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں ۔
ابو نعیم کہتے ہیں:عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں میرا کل یہی کھانا ہے قسم ہے میرے والد کی میں بھوکا رہتا ہوں، تو آپ ﷺ نے ایسی صورت حال میں ان کے لئے مردار کو حلا ل کر دیا۔
ابوداود کہتے ہیں: غبوق کے معنی دن کے آخری حصّہ کے ہیں اور صبوح کے معنی دن کے شروع حصّہ کے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
38- بَاب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ مِنَ الطَّعَامِ
۳۸- ایک وقت میں دو طرح کے کھانے پکانا اور کھانا کیسا ہے؟​


3818- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ >، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ، فَجَاءَ بِهِ، فَقَالَ: < فِي أَيِّ شَيْئٍ كَانَ هَذَا >، قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ، قَالَ: <ارْفَعْهُ >.
[قَالَ أَبو دَاود: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ].
[قَالَ أَبو دَاود: وَأَيُّوبُ لَيْسَ هُوَ السَّخْتِيَانِيُّ]۔
* تخريج: ق/الأطعمۃ ۴۷ (۳۳۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۵۱) (ضعیف)
(اس کے راوی'' ایوب بن خوط'' متروک الحدیث ہیں )
۳۸۱۸- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مجھے گندمی رنگ کے گیہوں کی سفید روٹی جو گھی اور دودھ میں چپڑی ہوئی ہو بہت محبوب ہے''، تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ ﷺ نے پوچھا: ''یہ کس برتن میں تھا؟''، اس نے کہا: سانڈا (سوسمار) کی کھال کے بنے ہوئے ایک برتن میں تھا آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر تو اسے اٹھالے جاؤ''۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔
ابوداود کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔
 
Top