6- بَاب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ لا يُسْتَسْعَى
۶-باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکرنہیں کیا ان کی دلیل کا بیان
3940- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَائَهُ حِصَصَهُمْ، وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ > ۔
* تخريج: خ/الشرکۃ ۵ (۲۴۹۱)، ۱۴ (۲۵۰۳)، العتق ۴ (۲۵۲۲)، م/العتق ۱ (۱۵۰۱)، الأیمان ۱۲ (۱۵۰۱)، ن/البیوع ۱۰۴ (۴۷۰۳)، ق/العتق ۷ (۲۵۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۲۸)، وقد أخرجہ: ط/العتق ۱ (۱)، حم (۱/۵۶) (صحیح)
۳۹۴۰- عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص (مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطا بق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہواہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا ‘‘۔
3941- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا قَالَ: <فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ > وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ۔
* تخريج: خ/ الشرکۃ ۵ (۲۴۹۱)، العتق ۴ (۲۵۲۴)، م/ العتق ۱ (۱۵۰۱)، ت/ الأحکام ۱۴ (۱۳۴۶)، ن/ البیوع ۱۰۴ (۴۷۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۵) (صحیح)
۳۹۴۱- اس سند سے بھی اسی مفہو م کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مر فو عاً مر وی ہے۔
راوی کہتے ہیں :نا فع نے کبھی
’’فقد عتق منه ما عتق‘‘ کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔
3942- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ [الْعَتَكِيُّ]، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَلا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَوْ شَيْئٌ قَالَهُ نَافِعٌ: < وَإِلا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۱۱) (صحیح الإسناد)
۳۹۴۲- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مر فو عاً مر وی ہے ۔
ایوب کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ ’’وَإِلا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ‘‘ نبی اکرم ﷺ کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے ۔
3943- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى [بْنُ يُونُسَ]، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۸۳)، وقد أخرجہ: خ/العتق ۴ (۲۵۲۳)، م/الأیمان والنذور ۱۲ (۱۵۰۱)، ت/الأحکام ۱۴ (۱۳۴۶)، ن/البیوع ۱۰۴ (۴۷۰۳) (صحیح)
۳۹۴۳- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص (مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لا زم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے ، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہوتو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا ‘‘ ( اور باقی شرکا ء کو اختیا ر ہو گا چاہیں تو آزاد کر یں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں)۔
3944- حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمَعْنَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى۔
* تخريج: خ/العتق ۴ (۲۵۲۵تعلیقًا) م/ العتق ۱ (۱۵۰۱)، ن/ الکبری (۴۹۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۲۱) (صحیح)
۳۹۴۴- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابرا ہیم بن مو سی کی روایت کے ہم معنی روایت مرفو عاً مر وی ہے ۔
3945- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَعْنَى مَالِكٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: < وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ >، انْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى: < وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ > عَلَى مَعْنَاهُ۔
* تخريج: خ/ الشرکۃ ۱۴ (۲۵۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۱۷) (صحیح)
۳۹۴۵- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے مگر اس میں:
’’وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ‘‘ کا ٹکڑا مذکور نہیں اور
’’وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ‘‘کے ٹکڑے ہی پر روایت ختم ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ابوہریرہ اور ابن عمر(e) کی جملہ روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنے والا اگر مالدار ہے تو بقیہ حصہ کی قیمت اپنے شریک کو ادا کرے گا اور غلام آزاد ہوجائے گا، ورنہ غلام سے بقیہ رقم کے لئے بغیر دباؤ کے محنت کرائی جائے گی، اور جب یہ بھی ممکن نہ ہوتو بقیہ حصہ غلام ہی باقی رہے گا، اور اسی کے بقدر وہ اپنے دوسرے مالک کی خدمت کرتا رہے گا۔ اس مفہوم کے اعتبار سے روایات میں کوئی اختلاف نہیں ہے(فتح الباری)۔
3946- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَايَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ >۔
* تخريج: م/ العتق ۱ (۱۵۰۱)، ت/ الأحکام ۱۴ (۱۳۴۷)، ن/ الکبری (۴۹۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴) (صحیح)
۳۹۴۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص (مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردے تو جتناحصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے‘‘۔
3947- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ : < إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لاوَكْسَ وَلا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ >۔
* تخريج: خ/ العتق ۴ (۲۵۲۱)، م/ العتق ۱ (۱۵۰۱)، ن/ الکبری (۱۵۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱) (صحیح)
۳۹۴۷- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہوگا اسے ادا کرے گا۔
3948- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ ﷺ ، قَالَ أَحْمَدُ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّائِ -يَعْنِي التَّلِبَّ- وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّائِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: 050۲) (ضعیف الإسناد)
(اس کے راوی ’’ملقام بن تلب‘‘ مجہول الحال ہیں، اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایات کے مخالف ہے)
۳۹۴۸- تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے با قی قیمت کا ذمہ دا ر نہیں ٹھہرا یا۔
احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے ۔