• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

{ 23- كِتَاب الْعِتْقِ }
۲۳-کتاب: غلام آزاد کر نے کے احکام ومسائل


1- بَاب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ
۱-باب: مکاتب غلام بدل کتابت میں سے کچھ ادا کرے پھر نہ دے سکے یا مر جائے توکیا حکم ہے؟​


3926- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَابَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۰۷)، وقد أخرجہ: ت/البیوع ۳۵ (۱۲۶۰)، ق/العتق ۳ (۲۵۱۹)، حم (۲/۱۷۸، ۲۰۶، ۲۰۹) (حسن)
۳۹۲۶- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مکاتب ۱؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت(آزادی کی قیمت) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ با قی ہے ''۔
وضاحت ۱؎ : مکاتب اس غلام کوکہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کرلے۔


3927- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلا عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلا عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ >.
[قَالَ أَبو دَاود: لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، قَالُوا: هُوَ وَهْمٌ، وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ].
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۲۵)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری (۵۰۲۶)، حم (۲/۱۸۴) (حسن)
۳۹۲۷- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' جس غلام نے سو اوقیہ پر مکا تبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے ( ایسا نہیں ہو گا کہ جتنا اس نے ادا کر دیا اتنا وہ آزاد ہو جائے ) اور جس غلام نے سو دینا ر پر مکا تبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوا ئے دس دینا ر کے تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے)''۔


3928- حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ [بْنُ مُسَرْهَدٍ] حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنْ كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ >۔
* تخريج: ت/ البیوع ۳۵ (۱۲۶۱)، ق/العتق ۳ (۲۵۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۸۹، ۳۰۸، ۳۱۱) (ضعیف)
(اس کے روای''نبھان'' لین الحدیث ہیں اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امھات المؤمنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل : ۱۷۶۹)
۳۹۲۸- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکا تب غلام نبھا ن کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کوکہتے سناکہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ''جب تم عو رتوں میں سے کسی کا کوئی مکا تب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پر دہ کر نا چا ہئے'' (کیو نکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے )۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ
۲-باب: عقدِ کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان​


3929- حَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَائَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَائَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونُ لَنَا وَلاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي؛ فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ >، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ > ۔
* تخريج: خ/ المکاتب ۲ (۲۵۶۱)، الشروط ۱۱ (۲۷۲۷)، م/ العتق ۲ (۱۵۰۴)، ت/ الوصایا ۷۱ (۲۱۲۴)، ن/ البیوع ۸۳ (۴۶۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۸۱) (صحیح)
۳۹۲۹- عروہ سے روایت ہے کہ ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لئے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا ،تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پو چھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء ۱؎میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کر نا چا ہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہما ری ہی ہو گی، ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا : ’’ تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہو گی جو آزاد کرے‘‘ ، پھر آپ ﷺ (مسجد میں خطبہ کے لئے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرطیں لگا تے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شخص بھی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کی شرط صحیح نہ ہو گی اگر چہ وہ سو بار شرط لگا ئے، اللہ ہی کی شرط سچی اور مضبوط شرط ہے‘‘ ۔
وضاحت ۱؎ : وِلاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے۔


3930- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: جَائَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ، زَادَ فِي كَلامِ النَّبِيِّ ﷺ فِي آخِرِهِ: < مَابَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلانُ وَالْوَلاءُ لِي، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۲۲۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۹۶) (صحیح)
۳۹۳۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بر یرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لئے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نواوقیہ پرمکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ اداکرنا ہے، لہٰذا آپ میری مددکیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں ،اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہوگی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پو ری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم ﷺ کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لو ں گا( کیسی لغوبات ہے) ولاء تو اس کاحق ہے جو آزاد کرے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے باب کی مطابقت اس طرح ہے کہ : مکاتَب غلام کو بیچناجائز نہیں، جب کہ آپ ﷺ نے بریرہ کی خرید وفروخت کو جائز قراردیا: توگویا مکاتبت کا معاملہ فسخ کردیاگیا تب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدا اور یہی مطابقت اگلی حدیث میں بھی ہے۔


3931- حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَوِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلاَّحَةً تَأْخُذُهَا الْعَيْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّه عَنْهَا: فَجَائَتْ تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي كِتَابَتِهَا، فَلَمَّا قَامَتْ عَلَى الْبَابِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُ مَكَانَهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، وَإِنَّمَا كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا لا يَخْفَى عَلَيْكَ، وَإِنِّي وَقَعْتُ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَإِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي، فَجِئْتُكَ أَسْأَلُكَ فِي كِتَابَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < فَهَلْ لَكِ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ؟ >، قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: < أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ >، قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَتْ: فَتَسَامَعَ -تَعْنِي النَّاسَ- أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ السَّبْيِ، فَأَعْتَقُوهُمْ، وَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا، أُعْتِقَ فِي سَبَبِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا حُجَّةٌ فِي أَنَّ الْوَلِيَّ [هُوَ] يُزَوِّجُ نَفْسَهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۷۷، ۶/۲۷۷) (حسن)
۳۹۳۱- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المومنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویرہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لئے آئیں، جب وہ دوازہ پر آکر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے ،اتنے میں وہ بو لیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہو ں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پو شیدہ نہیں ۱؎ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اور آپ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟‘‘، وہ بو لیں :وہ کیا ہے ؟ اللہ کے رسول!آپ ﷺ نے فرمایا:’’ میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دیتا ہوں اور تم سے شادی کر لیتا ہوں‘‘، وہ بولیں: میں کر چکی (یعنی مجھے یہ بخوشی منظور ہے)۔
ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کر دیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی بر کت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبر دست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کر سکتا ہے ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ میں ایک رئیس کی صاحبزادی ہوں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب فِي الْعِتْقِ عَلَى الشَّرْطِ
۳-باب: شرط لگا کر غلام آزاد کر نے کا بیان​


3932- حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَا عِشْتَ، فَقُلْتُ: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَا عِشْتُ، فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ۔
* تخريج: ق/العتق ۶ (۲۵۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۱) (حسن)
۳۹۳۲- سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہو ں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتے رہوگے، تو میں نے ان سے کہا : اگرآپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ ﷺ کی خدمت سے جدا نہ ہوتا ،پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ
۴-باب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان​


3933- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ -الْمَعْنَى- أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلامٍ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ ، فَقَالَ: < لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ >.
زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَجَازَ النَّبِيُّ ﷺ عِتْقَهُ۔
* تخريج: ن/الکبری العتق ۱۷ (۴۹۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۷۴، ۷۵) (صحیح)
۳۹۳۳- اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :''اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے'' ۔
ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا۔


3934- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ ابْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلامٍ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ ﷺ عِتْقَهُ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ۔
* تخريج: خ/الشرکۃ ۵ (۲۴۹۲)، ۱۴ (۲۵۰۴)، والعتق ۵ (۲۵۲۷)، م/العتق ۱ (۱۵۰۳)، ت/الأحکام ۱۴ (۱۳۴۶)، ق/العتق ۷ (۲۵۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۵، ۳۴۷، ۴۲۶، ۴۶۸، ۴۷۲، ۵۳۱) (صحیح)
۳۹۳۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک شخص نے کسی غلام میںسے اپناحصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی آزادی کو نافذ کردیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کاتا وان دلا یا۔


3935- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ فَعَلَيْهِ خَلاصُهُ > وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۱۱) (صحیح)
۳۹۳۵- قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مر فو عاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ''جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے در میان مشتر ک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمّہ اس کی مکمل خلاصی ہو گی'' ۱؎ ، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بھی اسی کو ادا کرنی ہوگی۔


3936- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ ابْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِاللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ >، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى النَّضْرَ ابْنَ أَنَسٍ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۹۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۱) (صحیح)
۳۹۳۶- قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہوگا اگر اس کے پاس مال ہے''۔
اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے ،اور یہ ابن سوید کے الفا ظ ہیں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
۵-باب: جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو توغلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان​


3937- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ [يَعْنِي الْعَطَّارَ]، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَإِلا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۹۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۱۱) (صحیح)
۳۹۳۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جو اپنے مشتر ک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلا ئے ااور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا ئی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کر ائی جائے گی ،بغیر اُسے مشقت میں ڈالے''۔


3938- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- (ح) وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ -وَهَذَا لَفْظُهُ- عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ، أَوْ شَقِيصًا لَهُ، فِي مَمْلُوكٍ فَخَلاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ [لَهُ مَالٌ] قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ >.
قَالَ أَبو دَاود: فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا [فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ] وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۹۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۱۱) (صحیح)
۳۹۳۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لا زم ہو گی اور اگر وہ مالدارنہیں ہے تو غلام کی و اجبی قیمت لگائی جائے گی''، پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرا ئی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے ( یہ علی کے الفا ظ ہیں)۔


3939- حَدَّثَنَا [مُحَمَّدُ] بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ ابْنُ حَازِمٍ وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَمَعْنَاهُ، وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۹۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۱۱) (صحیح)
۳۹۳۹- اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے۔
ابوداود کہتے ہیں : اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے سعایہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسی بن خلف نے قتادہ سے یز ید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں سعایہ کا ذکر کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ لا يُسْتَسْعَى
۶-باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکرنہیں کیا ان کی دلیل کا بیان​


3940- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَائَهُ حِصَصَهُمْ، وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ > ۔
* تخريج: خ/الشرکۃ ۵ (۲۴۹۱)، ۱۴ (۲۵۰۳)، العتق ۴ (۲۵۲۲)، م/العتق ۱ (۱۵۰۱)، الأیمان ۱۲ (۱۵۰۱)، ن/البیوع ۱۰۴ (۴۷۰۳)، ق/العتق ۷ (۲۵۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۲۸)، وقد أخرجہ: ط/العتق ۱ (۱)، حم (۱/۵۶) (صحیح)
۳۹۴۰- عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص (مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطا بق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہواہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا ‘‘۔


3941- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا قَالَ: <فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ > وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ۔
* تخريج: خ/ الشرکۃ ۵ (۲۴۹۱)، العتق ۴ (۲۵۲۴)، م/ العتق ۱ (۱۵۰۱)، ت/ الأحکام ۱۴ (۱۳۴۶)، ن/ البیوع ۱۰۴ (۴۷۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۵) (صحیح)
۳۹۴۱- اس سند سے بھی اسی مفہو م کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مر فو عاً مر وی ہے۔
راوی کہتے ہیں :نا فع نے کبھی ’’فقد عتق منه ما عتق‘‘ کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔


3942- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ [الْعَتَكِيُّ]، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَلا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَوْ شَيْئٌ قَالَهُ نَافِعٌ: < وَإِلا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۱۱) (صحیح الإسناد)
۳۹۴۲- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مر فو عاً مر وی ہے ۔
ایوب کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ ’’وَإِلا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ‘‘ نبی اکرم ﷺ کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے ۔


3943- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى [بْنُ يُونُسَ]، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۸۳)، وقد أخرجہ: خ/العتق ۴ (۲۵۲۳)، م/الأیمان والنذور ۱۲ (۱۵۰۱)، ت/الأحکام ۱۴ (۱۳۴۶)، ن/البیوع ۱۰۴ (۴۷۰۳) (صحیح)
۳۹۴۳- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص (مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لا زم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے ، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہوتو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا ‘‘ ( اور باقی شرکا ء کو اختیا ر ہو گا چاہیں تو آزاد کر یں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں)۔


3944- حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمَعْنَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى۔
* تخريج: خ/العتق ۴ (۲۵۲۵تعلیقًا) م/ العتق ۱ (۱۵۰۱)، ن/ الکبری (۴۹۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۲۱) (صحیح)
۳۹۴۴- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابرا ہیم بن مو سی کی روایت کے ہم معنی روایت مرفو عاً مر وی ہے ۔


3945- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَعْنَى مَالِكٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: < وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ >، انْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى: < وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ > عَلَى مَعْنَاهُ۔
* تخريج: خ/ الشرکۃ ۱۴ (۲۵۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۱۷) (صحیح)
۳۹۴۵- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے مگر اس میں: ’’وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ‘‘ کا ٹکڑا مذکور نہیں اور ’’وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ‘‘کے ٹکڑے ہی پر روایت ختم ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ابوہریرہ اور ابن عمر(e) کی جملہ روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنے والا اگر مالدار ہے تو بقیہ حصہ کی قیمت اپنے شریک کو ادا کرے گا اور غلام آزاد ہوجائے گا، ورنہ غلام سے بقیہ رقم کے لئے بغیر دباؤ کے محنت کرائی جائے گی، اور جب یہ بھی ممکن نہ ہوتو بقیہ حصہ غلام ہی باقی رہے گا، اور اسی کے بقدر وہ اپنے دوسرے مالک کی خدمت کرتا رہے گا۔ اس مفہوم کے اعتبار سے روایات میں کوئی اختلاف نہیں ہے(فتح الباری)۔


3946- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَايَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ >۔
* تخريج: م/ العتق ۱ (۱۵۰۱)، ت/ الأحکام ۱۴ (۱۳۴۷)، ن/ الکبری (۴۹۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴) (صحیح)
۳۹۴۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص (مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردے تو جتناحصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے‘‘۔


3947- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ : < إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لاوَكْسَ وَلا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ >۔
* تخريج: خ/ العتق ۴ (۲۵۲۱)، م/ العتق ۱ (۱۵۰۱)، ن/ الکبری (۱۵۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱) (صحیح)
۳۹۴۷- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہوگا اسے ادا کرے گا۔


3948- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ ﷺ ، قَالَ أَحْمَدُ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّائِ -يَعْنِي التَّلِبَّ- وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّائِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: 050۲) (ضعیف الإسناد)
(اس کے راوی ’’ملقام بن تلب‘‘ مجہول الحال ہیں، اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایات کے مخالف ہے)
۳۹۴۸- تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے با قی قیمت کا ذمہ دا ر نہیں ٹھہرا یا۔
احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ
۷-باب: جو کسی مَحرَم رشتہ دا ر کا مالک ہو تو کیا کرے؟​


3949- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: عَنْ سَمُرَةَ [بْنِ جُنْدُبٍ] فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ >.
[قَالَ أَبو دَاود: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، مِثْلَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، قَالَ أَبو دَاود: وَلَمْ يُحَدِّثْ ذَلِكَ الْحَدِيثَ إِلا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَقَدْ شَكَّ فِيهِ]۔
* تخريج: ت/الأحکام ۲۸ (۱۳۶۵)، ق/العتق ۵ (۲۵۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۵۳۴، ۱۸۴۶۹، ۱۸۵۴۶۹)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری (۴۸۹۸، ۴۸۹۹)، حم (۵/۱۵، ۱۸، ۲۰) (صحیح)
(متابعات سے تقویت پا کریہ حدیث صحیح ہے،ورنہ ثقات نے مرفوعاً روایت کرنے میں حماد کی مخالفت کی ہے)
۳۹۴۹- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو کسی قرابت دا ر محرم کا مالک ہوجائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا''۔
ابو داود کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں:اور اس حدیث کو حما د بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے ۔


3950- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۵، ۱۸۴۶۹، ۱۸۵۳۴) (ضعیف)
(سند میں قتادہ وعمر کے درمیان انقطاع ہے ،لیکن پچھلی مرفوع سند سے یہ روایت صحیح ہے)
۳۹۵۰- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہوجائے گا ۔


3951- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۵۳۴، ۱۸۴۶۹، ۴۵۸۵) (صحیح)
۳۹۵۱-حسن کہتے ہیں :جو کسی قرابت دار محرم کامالک ہو جائے تو ( وہ ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا ۔


3952- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالْحَسَنِ، مِثْلَهُ.
[قَالَ أَبو دَاود: سَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۵۳۴، ۱۸۴۶۹، ۴۵۸۵) (صحیح)
۳۹۵۲- جابربن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مر وی ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: سعید حما د(بن سلمہ )سے زیا دہ یا د رکھنے والے ہیں ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ: حماد نے قتادہ کے واسطے سے اس کو مرفوعا روایت کیاہے(جیساکہ حدیث نمبر:۳۹۴۹میں ہے) مگر سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ کے واسطے سے یاتو عمرؓ کے قول سے یا حسن کے قول سے روایت کیاہے، اور ابن ابی عروبہ حماد کے بالمقابل زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ
۸-باب: ام ولد (بچے والی لونڈی) مالک کے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے گی​


3953- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ سَلاَمَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ -امْرَأَةٍ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلانَ- قَالَتْ: قَدِمَ بِي عَمِّي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو، فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ، ثُمَّ هَلَكَ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلانَ، قَدِمَ بِي عَمِّي الْمَدِينَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو، فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ وَلِيُّ الْحُبَابِ؟>، قِيلَ: أَخُوهُ أَبُو الْيُسْرِ بْنُ عَمْرٍو، فَبَعَثَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: < أَعْتِقُوهَا، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدِمَ عَلَيَّ فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا >، قَالَتْ: فَأَعْتَقُونِي، وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَقِيقٌ فَعَوَّضَهُمْ مِنِّي غُلامًا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۶۰) (ضعیف الإسناد)
(اس کی راویہ''ام خطاب'' مجہول ہیں)
۳۹۵۳- بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون سلا مہ بنت معقل کہتی ہیں کہ جا ہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابو الیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمن بن حباب پیدا ہوئے ،پھر وہ مرگئے تو ان کی بیوی کہنے لگی :قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا :اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلا ن کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدا لرحمن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیو ی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ''حباب کا وارث کون ہے؟''، لوگوں نے عر ض کیا: ان کے بھائی ابو الیسر بن عمرو ہیں، آپ ﷺ نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے ( سلا مہ کو ) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کر دیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا ۔


3954- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: بِعْنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۳۵، ۲۴۷۵)، وقد أخرجہ: ق/العتق ۲ (۲۵۱۷) (صحیح)
۳۹۵۴- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ام ولد ۱؎ کو بیچا کرتے تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں اس کے بیچنے سے روک دیا چنانچہ ہم رک گئے ۔
وضاحت ۱؎ : ام ولد : اس لونڈی کو کہتے ہیں جو مالک کے نطفہ سے بچہ جنے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب فِي بَيْعِ المُدَبَّرِ
۹-باب: مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کردیا ہو) کو بیچنے کا بیان ۱ ؎​


3955- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ غُلامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ ﷺ فَبِيعَ بِسَبْعِ مِائَةِ أَوْ بِتِسْعِ مِائَةِ ۔
* تخريج: خ/البیوع ۵۹ (۲۱۴۱)، الاستقراض ۱۶ (۲۴۰۳)، الخصومات ۳ (۲۴۱۵)، العتق ۹ (۲۵۳۴)، کفارات الأیمان ۷ (۶۷۱۶)، الإکراہ ۴ (۶۹۴۷)، الأحکام ۳۲ (۷۱۸۶)، ن/الزکاۃ ۶۰ (۲۵۴۷)، ق/العتق ۱ (۲۵۱۲)، حم (۳/۳۰۵، ۳۶۸، ۳۶۹، ۳۷۰، ۳۷۱، ۳۹۰)، دي/البیوع ۳۷ (۲۶۱۵) (تحفۃ الأشراف: ۲۴۱۶، ۲۴۴۳)، وقد أخرجہ: م/الزکاۃ ۱۳ (۹۹۷)، الأیمان ۱۳ (۹۹۷)، ت/البیوع ۱۱(۱۲۱۹) (صحیح)
۳۹۵۵- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مر نے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سو یا نو سو میں بیچا گیا ۔
وضاحت ۱؎ : مدبر: اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو ۔


3956- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بِهَذَا، زَادَ: وَقَالَ -يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ -: <أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ وَاللَّهُ أَغْنَى عَنْهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۲۵)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری (۵۰۰۱) (صحیح)
۳۹۵۶- عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے یہی راویت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بے پر واہ ہے'' (یعنی اگر آزاد ہو تا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بے نیاز ہے ، اور بندہ محتاج ہے )۔


3957- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ، أَبُو مَذْكُورٍ، أَعْتَقَ غُلامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ[وَ] لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ: < مَنْ يَشْتَرِيهِ؟ > فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: < إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ > أَوْ قَالَ: < عَلَى ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا >۔
* تخريج: م/ الزکاۃ ۱۳ (۹۹۷)، ن/ الزکاۃ ۶۰ (۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۱، ۳۶۹) (صحیح)
۳۹۵۷- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مر نے کے بعد آزاد کر دیا ،اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اُسے بلایا اور فرمایا: ''اسے کو ن خریدتا ہے ؟''، چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحّام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا توآپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کر نا چاہئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرا بت داروں پر خرچ کرے''، یا فرمایا:'' اپنے ذی رحم رشتہ داروں) پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی اپنے دوستوں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ
۱۰-باب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں توکیا حکم ہے؟​


3958- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ ، فَقَالَ لَهُ قَوْلا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلاثَةَ أَجْزَائٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً۔
* تخريج: م/الحدود ۱۲ (۱۶۶۸)، ت/الأحکام ۲۷ (۱۳۶۴)، ن/الجنائز ۶۵ (۱۹۶۰)، ق/الأحکام ۲۰ (۲۳۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۲۶، ۴۳۱، ۴۳۸، ۴۴۰) (صحیح)
۳۹۵۸- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کوآزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اس اُسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے :پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو ( جن کے نا م قرعہ میں نکلے ) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا ۔


3959- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ- حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَلَمْ يَقُلْ: < فَقَالَ لَهُ قَوْلا شَدِيدًا > ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۸۰) (صحیح)
۳۹۵۹- اس سند سے بھی ابو قلا بہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مر وی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سخت سست کہا ۔


3960- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ -هُوَ الطَّحَّانُ- عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ -بِمَعْنَاهُ- وَقَالَ -يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ -: <لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۹۵) (صحیح)
۳۹۶۰- ابو زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصا ری نے... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اگر میں اس کے دفن کئے جا نے سے پہلے موجود ہو تا تووہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنا یا جاتا''۔


3961- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ وَأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۹۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۳۹) (صحیح)
۳۹۶۱- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کوآزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندا زی کی پھر دو کو آزاد کر دیا اور چا ر کو غلام ہی با قی رکھا۔
 
Top