- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
41- بَاب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ
۴۱-باب: مردہ جانور کی کھال کا بیان
4120- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ، وَوَهْبٌ عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: أُهْدِيَ لِمَوْلاةٍ لَنَا شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَمَاتَتْ، فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ ﷺ ، فَقَالَ: < أَلا دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا وَاسْتَنْفَعْتُمْ بِهِ > قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ: < إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا > ۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۶۱ (۱۴۹۲) والبیوع ۱۰۱ (۲۲۲۱)، م/الحیض ۲۷ (۳۶۴، ۳۶۵)، ن/الفرع والعتیرۃ ۳ (۴۲۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۶۶، ۵۸۳۹)، وقد أخرجہ: ت/اللباس ۷ (۱۷۲۷)، ق/اللباس ۲۵ (۳۶۱۰)، ط/الصید ۶ (۱۶)، حم (۱/۲۶۱، ۳۲۷، ۳۲۹، ۳۶۵)، دي/الأضاحي ۲۰ (۲۰۳۱) (صحیح)
۴۱۲۰- ام المومنین میمو نہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی جسے میں نے آزاد کر دیا تھا کو صدقہ کی ایک بکری ہدیہ میں ملی تو وہ مر گئی، نبی اکرمﷺ اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا:’’تم اس کی کھال کو دباغت دے کر اسے اپنے کام میں کیوں نہیں لاتے؟‘‘، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! وہ تو مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :’’صرف اس کا کھانا حرام ہے‘‘( نہ کہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا)۔
4121- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرْ مَيْمُونَةَ، قَالَ: فَقَالَ: < أَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا >، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرِ الدِّبَاغَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۳۹) (صحیح)
۴۱۲۱- اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے ام المومنین میمو نہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے، زہری کہتے ہیں:اس پر آپ نے فرمایا: ’’تم نے اس کی کھال سے فا ئدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ ‘‘پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اور ’’ دباغت‘‘ کا ذکر نہیں کیا۔
4122- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ، وَيَقُولُ: يُسْتَمْتَعُ بِهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ.
قَالَ أَبو دَاود: لَمْ يَذْكُرِ الأَوْزَاعِيُّ، وَيُونُسُ، وَعُقَيْلٌ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ الدِّبَاغَ، وَذَكَرَهُ الزُّبَيْدِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ، وَحَفْصُ بْنُ الْوَلِيدِ ذَكَرُوا الدِّبَاغَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ) (صحیح الإسناد)
۴۱۲۲- معمر کہتے ہیں: زہری دباغت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے :اس سے ہر حال میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں :اوزاعی، یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں ’’دبا غت ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ہے اور زبیدی، سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے اس کا ذکر کیا ہے۔
4123- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِذَا دُبِغَ الإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ >۔
* تخريج: م/الحیض ۲۷ (۳۶۶)، ت/اللباس ۷ (۱۷۲۸)، ن/الفرع والعتیرۃ ۳ (۴۲۴۶)، ق/اللباس ۲۵ (۳۶۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۲۲)، وقد أخرجہ: ط/الصید ۶ (۱۷)، حم (۱/۲۱۹، ۲۳۷، ۲۷۹، ۲۸۰، ۳۴۳)، دي/الأضاحی ۲۰ (۲۰۲۹) (صحیح)
۴۱۲۳- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فر ما تے سنا:’’ جب چمڑہ دباغت دے دیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے‘‘ ۔
4124- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ۔
* تخريج: ن/الفرع والعتیرۃ ۵ (۴۲۵۷)، ق/اللباس ۲۵ (۳۶۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۹۱)، وقد أخرجہ: ط/الصید ۶ (۱۸)، حم (۶ /۷۳، ۱۰۴، ۱۴۸، ۱۵۳)، دي /الأضاحي ۲۰ (۲۰۳۰) (صحیح لغیرہ)
(سندمیں ام محمدبن عبدالرحمن مجہول ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناپر صحیح ہے ،ملاحظہ ہو : صحیح موارد الظمآن: ۱۲۲، غایۃ المرام: ۲۶)
۴۱۲۴- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مر دا ر کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فا ئدہ اٹھا نے کا حکم دیا ہے۔
4125- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَتَى عَلَى بَيْتٍ فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَسَأَلَ الْمَاءَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: < دِبَاغُهَا طُهُورُهَا >۔
* تخريج: ن/الفرع والعتیرۃ ۳ (۴۲۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۷۶، ۵/۶، ۷) (صحیح)
۴۱۲۵- سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک میں ایک گھر میں تشریف لائے تو وہاں ایک مشک لٹک رہی تھی آپ نے پانی مانگا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول!وہ مر دا ر کے کھال کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دباغت سے پا ک ہو گئی ہے‘‘۔
4126- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ، فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ: لَوَ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا، فَقَالَتْ: أَوَ يَحِلُّ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا > قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ >۔
* تخريج: ن/الفرع والعتیرۃ ۳ (۴۲۵۱، ۴۲۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۳۴) (صحیح)
۴۱۲۶- عا لیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکر یاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مر نے لگیں تومیں ام المو منین میمو نہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکرکیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کی کھا لوں سے فا ئدہ اٹھا تیں! تومیں بو لی: کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکر ی کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگرتم نے اس کی کھال لے لی ہوتی‘‘، لوگوں نے عرض کیا: وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی‘‘۔