- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
40- بَاب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ
۴۰-باب: لونڈیوں کی کما ئی لینامنع ہے
3425- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ كَسْبِ الإِمَاءِ۔
* تخريج: خ/الإجارۃ۲۰ (۲۲۸۳)، الطلاق ۵۱ (۵۳۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۷، ۳۴۷، ۳۸۲، ۴۳۷، ۴۵۴، ۴۸۰)، دي/البیوع ۷۷ (۲۶۶۲) (صحیح)
۳۴۲۵- ابوحازم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کوکہتے سنا کہ رسول اللہﷺ نے لونڈیوں کی کمائی لینے سے منع فرمایا ہے ۔
3426- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي طَارِقُ ابْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: جَائَ رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ الْيَوْمَ، فَذَكَرَ أَشْيَائَ، وَنَهَى عَنْ كَسْبِ الأَمَةِ إِلا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا، وَقَالَ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخَبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ۔
* تخريج:تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۴۱) (حسن)
۳۴۲۶- طا رق بن عبدالرحمن قر شی کہتے ہیں: را فع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم ﷺ نے ہمیں منع فرمایا ہے ، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ ﷺ نے لونڈی کی کمائی (زنا کی کمائی) سے منع فرمایا سوا ئے اس کمائی کے جو اس نے ہا تھ سے محنت کر کے کمائی ہو،پھر آپ ﷺ نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا ، چرخہ کاتنا ، روئی دھننا ،جیسے کام۔
3427- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ -هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ- قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ كَسْبِ الأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۴۱) (حسن) بما قبلہ
۳۴۲۷- را فع بن خد یج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے لو نڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟۔
وضاحت ۱؎ : جب تک معلوم نہ ہوجائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے ، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے ، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقررکرتے تھے ، اوروہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لاکر اپنے مالک کو دیتی ، اگرکام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لاکر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایاجب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہوجائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے ، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مرا د زنا کاری کی کمائی ہے ۔