• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب الْحُكْمِ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ ﷺ
۲-باب: نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم​


4361- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ ﷺ وَتَقَعُ فِيهِ فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ ﷺ وَتَشْتُمُهُ، فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا، وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا، فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ، فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: < أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلا قَامَ > فَقَامَ الأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ، أَنَا صَاحِبُهَا، كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي، وَأَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ، وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ، فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ >۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۱۳ (۴۰۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۵۵) (صحیح)
۴۳۶۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ ﷺکی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس ( اندھے) نے ایک چھری لی اوراسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دباکر اسے ہلاک کردیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کردیا ، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ سے اس حادثہ کاذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا:’’جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کرکہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے‘‘، تو وہ اندھا کھڑا ہوگیا اور لوگوں کی گردنیں پھاند تے اور ہانپتے کانپتے آکر آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجوکرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اوراسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبادیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مارہی ڈالا،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے‘‘ ۔


4362- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ ﷺ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ دَمَهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۵۰) (ضعیف الإسناد)
۴۳۶۲- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجوکیا کرتی تھی، تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا، یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون باطل ٹھہراد یا ۔


4363- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ (ح) و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه فَتَغَيَّظَ عَلَى رَجُلٍ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: تَأْذَنُ لِي يَاخَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: فَأَذْهَبَتْ كَلِمَتِي غَضَبَهُ، فَقَامَ فَدَخَلَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: مَا الَّذِي قُلْتَ آنِفًا؟ قُلْتُ: ائْذَنْ لِي أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: أَكُنْتَ فَاعِلا لَوْ أَمَرْتُكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لا وَاللَّهِ، مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ .
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا لَفْظُ يَزِيدَ، [قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَيْ: لَمْ يَكُنْ لأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقْتُلَ رَجُلا إِلا بِإِحْدَى الثَّلاثِ الَّتِي قَالَهَا رَسُولُ اللَّه ﷺ : < كُفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ، أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرَ نَفْسٍ >، وَكَانَ لِلنَّبِيِّ ﷺ أَنْ يَقْتُلَ]۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۱۳ (۴۰۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۲۱، ۱۸۶۰۲) (صحیح)
۴۳۶۳- ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن ماردوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کردیا، پھر وہ اٹھے اور اندرچلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا: ابھی تم نے کیا کہاتھا ؟ میں نے کہا : میں نے کہاتھا: مجھے اجازت دیجئے، میں اس کی گردن ماردوں، بولے :اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کرگزرتے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، ضرور، بولے: نہیں، قسم اللہ کی! محمد ﷺ کے بعد کسی آدمی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ یزید کے الفاظ ہیں ،احمد بن حنبل کہتے ہیں:یعنی ابو بکر ایسا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں: ایک ایمان کے بعد کافر ہو جانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا’’ تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتّہ نبی اکرم ﷺ قتل کر سکتے تھے۔
وضاحت ۱؎ : یعنی رسول اللہ ﷺ ہی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ جو کوئی آپ کو برا بھلا کہے یا گالی دے تو آپ اس کی گردن مارنے کا حکم دیں، دوسرے کسی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارَبَةِ
۳-باب: اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان​


4364- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُكْلٍ، أَوْ قَالَ مِنْ عُرَيْنَةَ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِلِقَاحٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ ﷺ خَبَرُهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ فِي آثَارِهِمْ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيئَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسُمِرَ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلا يُسْقَوْنَ، قَالَ أَبُو قِلابَةَ: فَهَؤُلاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۔
* تخريج: خ/الوضوء ۶۶ (۲۲۳)، الجہاد ۱۵۲ (۳۰۱۸)، م/القسامۃ ۲ (۱۶۷۱)، الطب ۶ (۲۰۴۲)، ن/الطہارۃ ۱۹۱ (۳۰۶)، المحاربۃ ۷ (۴۰۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۵)، وقد أخرجہ: ت/الطہارۃ ۵۵ (۷۲)، الأطعمۃ ۳۸ (۱۸۴۵)، حم ( ۳ / ۰۷ ۱، ۱۷۷، ۱۹۸، ۲۰۵، ۲۸۷) (صحیح)
۴۳۶۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ٔ عکل، یا قبیلہ ٔ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو مدینہ کی آب وہوا انہیں راس نہ آئی ،رسول اللہ ﷺ نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاںدلوائیں، اور انہیںحکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ ( اونٹنیاں لے کر ) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرمﷺکو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چنانچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑکر لے آیا گیا، آپ ﷺ نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی ۔


4365- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ، فَكَحَلَهُمْ، وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَمَا حَسَمَهُمْ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۵) (صحیح)
۴۳۶۵- اس سند سے بھی ایوب سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ ﷺ نے سلائیوں کو گرم کرنے کا حکم دیاتو وہ گرم کی گئیں، پھر انہیں آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں پھیر دیں، ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالے، اور ان کو یکبارگی ہی نہیں مار ڈالا۔


4366- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا (ح) وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ- عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً، فَأُتِيَ بِهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذَلِكَ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا} الآيَةَ.
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۳۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۵) (صحیح)
۴۳۶۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے تعاقب میں کچھ مخبر بھیجے تو انہیں پکڑ کر لایاگیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت کریمہ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا} ۱؎اتاری۔
وضاحت ۱؎ : جواللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کردئے جائیں (سورۃ المائدۃ:۳۳)


4367- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَقَتَادَةُ وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمْ يَكْدِمُ الأَرْضَ بِفِيهِ عَطَشًا حَتَّى مَاتُوا ۔
* تخريج: ت/ الطہارۃ ۵۵ (۷۲)، ن/ المحاربۃ ۷ (۴۰۳۹) (تحفۃ الأشراف: ۳۱۷، ۱۱۵۶) (صحیح)
۴۳۶۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں انس کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین کو اپنے منہ سے کاٹتا تھا یہاں تک کہ وہ سب ( پیاس سے تڑپ تڑپ کر ) مرگئے۔


4368- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، نَحْوَهُ، زَادَ: ثُمَّ نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ [وَلَمْ يَذْكُرْ < مِنْ خِلافٍ > وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَسَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ عَنْ ثَابِتٍ جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ، لَمْ يَذْكُرَا < مِنْ خِلافٍ > وَلَمْ أَجِدْ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ < قَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلافٍ > إِلا فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ] ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۴۳۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۷۷) (صحیح)
۴۳۶۸- اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے ’’پھر آپ نے مثلہ سے منع فرمادیا‘‘ اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔
شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر ۔


4369- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبِدْاللَّهِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، قَالَ أَحْمَدُ: هُوَ -يَعْنِي عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ نَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ ﷺ فَاسْتَاقُوهَا، وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مُؤْمِنًا، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُخِذُوا، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، قَالَ: وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ، وَهُمِ الَّذِينَ أَخْبَرَ عَنْهُمْ أَنَسُ ابْنُ مَالِكٍ الْحَجَّاجَ حِينَ سَأَلَهُ۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۷ (۴۰۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۷۵، ۱۸۸۹۸) (حسن صحیح)
۴۳۶۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ کرانہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتدہو گئے، اور آپ ﷺ کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑ ے گئے، توآپ ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کوخبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا ۔
4370- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا قَطَّعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ عَاتَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا} الآيَةَ ۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۷ (۴۰۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۷۵، ۱۸۸۹۸) (ضعیف)
۴۳۷۰- ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان لوگوں کے (ہاتھ پاؤں ) کاٹے جنہوں نے آپ کے اونٹ چرائے تھے اور ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائیاں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سلسلہ میں عتاب فرمایا: اورآیت محاربہ{إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا} ۱؎اخیر تک نازل فرمائی۔
وضاحت ۱؎ : جواللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کردئے جائیں یا سولی پر چڑھا دئے جائیں (سورۃ المائدۃ:۳۳)


4371- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا(ح) وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ، يَعْنِي حَدِيثَ أَنَسٍ۔
* تخريج: خ/ الطب ۶ (۵۶۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۹۱) (ضعیف)
۴۳۷۱- محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ یہ حدود کے نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے یعنی انس رضی اللہ عنہ کی روایت ۔


4372- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ} إِلَى قَوْلِهِ {غَفُورٌ رَحِيمٌ} نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ ۱؎، فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَهُ۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۷ (۴۰۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۵۱) (حسن )
۴۳۷۲- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ}۔۔۔ {غَفُورٌ رَحِيمٌ} تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کرلے تو ایسا نہ ہوگا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : سنن نسائی میں یہاں عبارت اس طرح ہے : ’’فمن تاب منهم قبل أن يقدر عليه لم يكن عليه سبيل، وليست هذه الآية للرجل المسلم، فمن قتل وأفسد في الأرض وحارب الله ورسوله ثم لحق بالكفار قبل أن يقدر عليه لم يمنعه ذلك أن يقام فيه الحد الذي أصابه‘‘۔
وضاحت ۲؎ : یہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب ہے، جمہور علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، نیز اس کے راوی علی بن حسین کے بارے میں کلام ہے، ان کا حافظہ کمزور تھا اس لئے انہیں وہم ہوجاتاتھا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب فِي الْحَدِّ يُشْفَعُ فِيهِ
۴-باب: شرعی حدودکوختم کرنے کے لیے سفارش نہیں کی جاسکتی​


4373- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي (ح) و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا؟ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِءُ إِلا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟! فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يَا أُسَامَةُ، أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ؟ > ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: < إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا >۔
* تخريج: خ/الشہادات ۸ (۲۶۴۸)، الأنبیاء ۵۴ (۳۴۷۵)، فضائل الصحابۃ ۱۸ (۳۷۳۲)، المغازي ۵۳ (۴۳۰۴)، الحدود ۱۱ (۶۷۸۷)، ۱۲ (۶۷۸۸)، ۱۴ (۶۸۰۰)، م/الحدود ۲ (۱۶۸۸)، ت/الحدود ۶ (۱۴۳۰)، ن/قطع السارق ۵ (۴۹۰۳)، ق/الحدود ۶ (۲۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۷۸)، وقد أخرجہ: حم ( ۶/۱۶۲)، دي/الحدود ۵ (۲۳۴۸) (صحیح)
۴۳۷۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکر مند کردیا، وہ کہنے لگے :اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ ﷺسے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرأت ہو سکتی ہے ؟ چنانچہ اسامہؓ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی توآپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو!‘‘، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ نے اس خطبہ میں فرمایا:’’ تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کیونکہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور سے یہ جرم سرزد ہوجاتا تو اس پر حد قائم کرتے، قسم اللہ کی اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈا لوں گا ‘‘۔


4374- حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ ومُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِقَطْعِ يَدِهَا، وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ: فَقَطَعَ النَّبِيُّ ﷺ يَدَهَا.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ فِيهِ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: < إِنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ، فَقَالَ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ، وَرَوَى مَسْعُودُ بْنُ الأَسْوَدِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: سَرَقَتْ قَطِيفَةً مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَرَوَاهُ أَبُوالزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: م/الحدود ۲ (۱۶۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۶۲)، ویأتی برقم (۴۳۹۷) (صحیح)
۴۳۷۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی اورواپسی کے وقت اس کا انکار کردیا کرتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔
اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تونبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا ۔
ابو داود کہتے ہیں: ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔
اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے ( کوئی چیز) منگنی لی تھی ( پھر وہ مکر گئی تھی )۔
اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرمﷺ سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔
اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی ۔


4375- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، قَالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ، نَسَبَهُ جَعْفَرٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلا الْحُدُودَ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۱۲)، وقد أخرجہ: حم ( ۶/۱۸۱) (صحیح)
۴۳۷۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ صاحب حیثیت اورمحترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کردیا کرو سوائے حدود کے‘‘ ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب الْعَفْوِ عَنِ الْحُدُودِ مَا لَمْ تَبْلُغِ السُّلْطَانَ
۵-باب: حاکم تک پہنچنے سے پہلے حد کو نظرانداز کرنا جائز ہے​


4376- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < تَعَافُّوا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ >۔
* تخريج: ن/قطع السارق ۵ (۴۸۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۴۷) (صحیح)
۴۳۷۶- عبداللہ بن عمرو بن العاصرضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' حدودکوآپس میں نظر انداز کرو، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہوگئی'' ( اسے معاف نہیں کیا جاسکتا )۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب فِي السَّتْرِ عَلَى أَهْلِ الْحُدُودِ
۶-باب: حد والوں پردہ ڈالنے کا بیان​


4377- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ، وَقَالَ لِهَزَّالٍ: < لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۵۱)، وقد أخرجہ: حم ( ۵/۲۱۷) (ضعیف)
۴۳۷۷- نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے پاس چاردفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال ( جس نے ان سے اقرار کے لئے کہاتھا) سے کہا : ''اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپا لیتے تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہوتا''۔


4378- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنْ هَزَّالا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ ﷺ فَيُخْبِرَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۲۹) (ضعیف)
(ابن المنکدر تابعی ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے حدیث ضعیف ہے)
۴۳۷۸- ابن المنکدر سے روایت ہے کہ ہزال رضی اللہ عنہ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے کہاتھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جائیں اور آپ کو بتا دیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب فِي صَاحِبِ الْحَدِّ يَجِيئُ فَيُقِرُّ
۷-باب: جس نے حد کا کام کیا پھر خود آکر اقرارِجرم کیا اس کے حکم کا بیان​


4379- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْفِّرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ ابْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ تُرِيدُ الصَّلاةَ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ، فَتَجَلَّلَهَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، فَصَاحَتْ، وَانْطَلَقَ، فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا [الرَّجُلَ] الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَوْهَا بِهِ، فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ ﷺ ، فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا صَاحِبُهَا، فَقَالَ لَهَا: <اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ > وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلا حَسَنًا [قَالَ أَبو دَاود: يَعْنِي الرَّجُلَ الْمَأْخُوذَ] وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: < ارْجُمُوهُ > فَقَالَ: < لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ أَيْضًا عَنْ سِمَاكٍ۔
* تخريج: ت/الحدود ۲۲ (۱۴۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۷۰)، وقد أخرجہ: حم ( ۶/۳۹۹) (حسن)
( اس میں رجم کی بات صحیح نہیں ہے، راجح یہی ہے کہ رجم نہیں کیاگیا)
۴۳۷۹- وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں صلاۃ پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا،اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی، وہ جا چکا تھا، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس (فلاں)نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آگئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑ ا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، اوراسے لے کر آئے، تو اس نے کہا : ہاں اسی نے کیا ہے، چنانچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرمﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا (کہ اس پر حد جاری کی جائے) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہوگیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول ! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا: ''تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ( کیونکہ یہ تیری رضامندی سے نہیں ہوا تھا ) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی''۔
ابو داود کہتے ہیں: مراد وہ آدمی ہے(ناحق) جو پکڑا گیا تھا، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا:'' اس کو رجم کردو''، پھر آپ ﷺ نے فرمایا:'' اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہوجائے ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب فِي التَّلْقِينِ فِي الْحَدِّ
۸-باب: حد میں ایسی بات کی تلقین کا بیان جس سے حد جاتی رہے​


4380- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا، وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ > قَالَ: بَلَى، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيئَ بِهِ، فَقَالَ: <اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ > فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: < اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ > ثَلاثًا.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: ن/قطع السارق ۳ (۴۸۸۱)، ق/الحدود ۲۹ (۲۵۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۹۳) (ضعیف)
۴۳۸۰- ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کرلیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:'' میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے''، اس نے کہا :کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ ﷺ نے اس پر حدجاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا ، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا:'' اللہ سے مغفرت طلب کرو،اور اس سے توبہ کرو''، اس نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا:'' اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما''۔
ابو داود کہتے ہیں: عمروبن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابو امیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب فِي الرَّجُلِ يَعْتَرِفُ بِحَدٍّ وَلا يُسَمِّيهِ
۹-باب: آدمی یہ اعتراف کرے کہ وہ حد کا مستحق ہے لیکن جرم نہ بتائے اس کے حکم کا بیان​


4381- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: < تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ >؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < [هَلْ] صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ عَفَا عَنْكَ >۔
* تخريج: م/التوبۃ ۷ (۲۷۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۷۸)، وقد أخرجہ: حم ( ۵/۲۵۱، ۲۶۲، ۲۶۵) (صحیح)
۴۳۸۱- ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حد کا مرتکب ہوگیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کردیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟''، اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' جس وقت ہم نے صلاۃ پڑھی تم کیا تو نے بھی صلاۃ پڑھی؟''، اس نے کہا: ہاں ،آپ ﷺ نے فرمایا: ''جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کردیا'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب فِي الامْتِحَانِ بِالضَّرْبِ
۱۰-باب: جرم کی تفتیش میں مجرم کو مارنا پیٹنا کیسا ہے؟​


4382- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْحَرَازِيُّ، أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْكَلاعِيِّينَ سُرِقَ لَهُمْ مَتَاعٌ، فَاتَّهَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ، فَأَتَوُا النُّعْمَانَ ابْنَ بَشِيرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ ﷺ ، فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ، فَأَتَوُا النُّعْمَانَ فَقَالُوا: خَلَّيْتَ سَبِيلَهُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلا امْتِحَانٍ، فَقَالَ النُّعْمَانُ: مَا شِئْتُمْ، إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَهُمْ فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ وَإِلا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا حُكْمُكَ؟ فَقَالَ: هَذَا حُكْمُ اللَّهِ وَحُكْمُ رَسُولِهِ ﷺ .
[قَالَ أَبو دَاود: إِنَّمَا أَرْهَبَهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ، أَيْ لا يَجِبُ الضَّرْبُ إِلا بَعْدَ الاعْتِرَافِ]۔
* تخريج: ن/قطع السارق ۲ (۴۸۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۱۱) (حسن)
۴۳۸۲- ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہاکہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہوگی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ آپ کا فیصلہ ہے ؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: اس قول سے نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ۱ ؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرم پر جب شبہ ہو تو اس کوپکڑنا صحیح ہے ، مگر ناحق مارپیٹ سے اس سے اقبال جرم کرانا صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ سراسر ظلم ہے ، جیسا کہ اس زمانے میں لوگ کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب مَا يُقْطَعُ فِيهِ السَّارِقُ
۱۱-باب: چور کا ہاتھ کتنے مال کی چوری میں کاٹا جائے؟​


4383- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا۔
* تخريج: خ/الحدود ۱۳ (۶۷۸۹)، م/الحدود ۱ (۱۶۸۴)، ت/الحدود ۱۶ (۱۴۴۵)، ن/قطع السارق ۷ (۴۹۲۰)، ق/الحدود ۲۲ (۲۵۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۲۰)، وقد أخرجہ: ط/الحدود ۷ (۲۳)، حم (۶/۳۶، ۸۰، ۸۱، ۱۰۴، ۱۶۳، ۲۴۹، ۲۵۲)، دي/الحدود ۴ (۲۳۴۶) (صحیح)
۴۳۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چوتھائی دینار یا ا س سے زائد میں (چور کا ہاتھ ) کاٹتے تھے۔


4384- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالا: حَدَّثَنَا(ح) و حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةً وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا >.
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا۔
* تخريج: خ/ الحدود ۱۳ (۶۷۹۰)، م/ الحدود ۱ (۱۶۸۴)، ن/ قطع السارق ۷ (۴۶۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۹۵)، وقد أخرجہ: ط/ الحدود ۷ (۲۴)، دی/ الحدود ۴ (۲۳۴۶) (صحیح)
۴۳۸۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار، یا اس سے زائد میں کاٹا جائے‘‘ ۔
ا حمد بن صالح کہتے ہیں: چور کاہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کٹے گا ۔


4385- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ۔
* تخريج: خ/الحدود ۱۳ (۶۷۹۵)، م/الحدود ۱ (۱۶۸۶)، ن/قطع السارق ۷ (۴۹۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۳۳)، وقد أخرجہ: ت/الحدود ۱۶ (۱۴۴۶)، ق/الحدود ۲۲ (۲۵۸۴)، ط/الحدود ۷ (۲۱)، حم ( ۲/۶، ۵۴، ۶۴، ۸۰، ۱۴۳)، دي/الحدود ۴ (۲۳۴۷) (صحیح)
۴۳۸۵- عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ایک ڈھال میں جس کی قیمت تین درہم تھی ( چور کا ہاتھ ) کاٹا۔


4386- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ ابْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ثَمَنُهُ ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ۔
* تخريج: م/ الحدود ۱ (۱۶۸۶)، ن/ قطع السارق ۷ (۴۹۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۴۵)، دی/ الحدود ۴ (۲۳۴۷) (صحیح)
(اس میں عورتوں کے چبوترہ کا ذکر صحیح نہیں ہے)
۴۳۸۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی ۔


4387- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلانِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ -وَهُوَ أَتَمُّ- قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدَ رَجُلٍ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ دِينَارٌ أَوْ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَسَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِإِسْنَادِهِ ۔
* تخريج: ن/قطع السارق ۷ (۴۹۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۸۴) (شاذ)
۴۳۸۷- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال کے (چُرانے پر ) کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔
 
Top