- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
27- بَاب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
۲۷-باب: قبر میں سوا ل کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان
4750- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ فَشَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ [ ﷺ ] فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ}۔
* تخريج: خ/الجنائز ۸۶ (۳۱۲۰)، وتفسیر سورۃ إبراہیم ۲ (۴۶۹۹)، م/الجنۃ ۱۷ (۲۸۷۱)، ت/تفسیر سورۃ إبراہیم ۱۵ (۳۱۲۰)، ن/الجنائز ۱۱۴ (۲۰۵۹)، ق/الزھد ۳۲ (۴۲۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۲، ۲۹۱) (صحیح)
۴۷۵۰- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو تا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔
تو یہی مراد ہے اللہ کے قول {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} ۱؎سے۔
وضاحت ۱؎ : اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ مضبوط کر تا ہے (سورۃ ابراہیم : ۲۷)
4751- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ [بْنُ عَطَاءِ] الْخَفَّافُ أَبُونَصْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ دَخَلَ نَخْلا لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا فَفَزِعَ، فَقَالَ: < مَنْ أَصْحَابُ هَذِهِ الْقُبُورِ؟ > قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَاسٌ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: $ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ > قَالُوا: وَمِمَّ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: < إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَإِنِ اللَّهُ هَدَاهُ قَالَ: كُنْتُ أَعْبُدُاللَّهَ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: هُوَ عَبْدُاللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَمَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْئٍ، غَيْرِهَا، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى بَيْتٍ كَانَ لَهُ فِي النَّارِ فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا بَيْتُكَ كَانَ لَكَ فِي النَّارِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَصَمَكَ وَرَحِمَكَ فَأَبْدَلَكَ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: دَعُونِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأُبَشِّرَ أَهْلِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَيَنْتَهِرُهُ فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَيَقُولُ: لا أَدْرِي، فَيُقَالُ لَهُ: لا دَرَيْتَ وَلا تَلَيْتَ، فَيُقَالُ لَهُ: فَمَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيَضْرِبُهُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا الْخَلْقُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۲۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۴) (صحیح)
۴۷۵۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرمﷺ بنی نجا ر کے کھجو ر کے ایک باغ میں داخل ہوئے ، تو ایک آواز سنی ، آپ ﷺ گھبرا اُٹھے ،فرمایا:’’یہ قبریں کس کی ہیں؟‘‘، لوگوں نے عرض کیا:زمانۂ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ ما نگو‘‘ ، لوگوں نے عرض کیا:ایسا کیوں؟ اللہ کے ر سول! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے ، اور اس سے کہتا ہے : تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت دیئے ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے : میں اللہ کی عبادت کر تا تھا؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے ، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ ۱؎تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جا یا جاتا ہے ، جو اس کے لئے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے : یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لئے جہنم میں تھا ، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا ، تم پر رحم کیا اور اس کے بد لے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا ، تو وہ کہتا ہے : مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں ، لیکن اس سے کہا جاتا ہے ، ٹھہرا رہ ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے ، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے : تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، تو اس سے کہا جاتا ہے : نہ تو نے جا نا اور نہ کتاب پڑھی(یعنی قرآن) ، پھر اس سے کہا جاتا ہے : تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لو ہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے ،تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے‘‘۔
وضاحت ۱؎ : بعض لوگوں نے ’’في هذا الرجل‘‘سے یہ خیال کیا ہے کہ میت کو نبی اکرم ﷺ کی شبیہ دکھائی جاتی ہے، یا پردہ ہٹا دیا جاتا ہے، مگر یہ محض خیال ہے، اس کی کوئی دلیل قرآن وسنت میں وارد نہیں ، مردہ نور ایمانی سے ان سوالوں کے جواب دے گا نا کہ دیکھنے اور جاننے کی بنیاد پر، ابوجہل نے آپ ﷺ کو دیکھا تھا منکر نکیر کے سوال پر وہ آپ کو نہیں پہچان سکتا ،اور آج کا مؤمن موحد باوجود یکہ اس نے آپ کو دیکھا نہیں مگر جواب درست دے گا کیونکہ اس کا نور ایمان اس کو جواب سمجھائے گا، اگرچہ لفظ ’’هذا‘‘ محسوس قریب کے لئے آتا ہے مگر ’’ذلك‘‘ جو بعید کے لئے وضع کیا گیا ہے، اس کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے وبالعکس،’’وقد ذكره البخاري عن معمر بن المثنى عن أبي عبيدة‘‘ پھر جواب میں ’’هو‘‘ کا لفظ موجود ہے جو ضمیر غائب ہے جو اس کے حقیقی معنی مراد لینے سے مانع ہے، فافهم۔
4752- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، بِمِثْلِ هَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، قَالَ: < إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيَقُولانِ لَهُ > فَذَكَرَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ الأَوَّلِ، قَالَ فِيهِ: < وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَيَقُولانِ لَهُ > زَادَ < الْمُنَافِقَ > وَقَالَ < يَسْمَعُهَا مَنْ وَلِيَهُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۲۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۰) (صحیح)
۴۷۵۲- عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے ،اس میں ہے: ’’جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا ، اور اس میں اس طرح ہے: رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں‘‘، راوی نے ’’منافق‘‘ کا اضافہ کیا ہے اوراس میں ہے: ’’اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مردہ واپس لوٹنے والوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کیونکہ وہ نیچے زمین میں ہے اور چلنے والے اوپر چل رہے ہوتے ہیں، ان کی بات چیت نہیں سنتا کیونکہ قبر پر آواز جانے کا کوئی ذریعہ نہیں، اس سے سماع موتیٰ پراستدلال کرنا محض غلط ہے، کیونکہ لوٹنے والوں کی بات سننے کا ذکراس حدیث میں نہیں ہے، لہذا جوتیوں کی دھمک سننے سے بات چیت کے سننے کا اثبات غلط ہے، نیز حدیث میں اس خاص موقع پر مردوں کے سننے کی یہ بات آئی ہے، جیسے غزوہ بدرمیں قریش کے مقتولین جو بدر کے کنویں میں ڈال دئیے گئے تھے، اور رسول اکرم ﷺ نے ان کو مخاطب کیا تھا یہ بھی مخصوص صورت حال تھی، اس طرح کے واقعات سے مردوں کے عمومی طور پر سننے پر استدلال صحیح نہیں ہے، دلائل کی روشنی میں صحیح بات یہی ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں، (ملاحظہ ہو علامہ آلوسی کی کتاب: ’’کیا مردے سنتے ہیں؟‘‘ نیز مولانا عبداللہ بھاولپوری کا رسالہ ’’سماع موتی‘‘)۔
4753- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ (ح) و حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ، وَهَذَا لَفْظُ هَنَّادٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُئُوسِنَا الطَّيْرُ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: < اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ > مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا،- زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ هَاهُنَا وَقَالَ:- < وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ حِينَ يُقَالُ لَهُ: يَا هَذَا! مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ > قَالَ هَنَّادٌ: قَالَ: < وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولانِ [لَهُ]: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الإِسْلامُ، فَيَقُولانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ > قَالَ: < فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَيَقُولانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ > زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ < فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا} > الآيَةُ، ثُمَّ اتَّفَقَا قَالَ: < فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ > قَالَ: < فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا > قَالَ: < وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ > قَالَ: < وَإِنَّ الْكَافِرَ > فَذَكَرَ مَوْتَهُ قَالَ: < وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولانِ [لَهُ]: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لا أَدْرِي، فَيَقُولانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لا أَدْرِي، فَيَقُولانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ >، قَالَ: < فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا > قَالَ: وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلاعُهُ > زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ: < ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا > قَالَ: فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلا الثَّقَلَيْنِ، فَيَصِيرُ تُرَابًا > قَالَ: < ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ > ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۳۲۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۸) (صحیح)
حدیث کاپہلا ٹکڑاگزرچکاہے ملاحظہ ہوحدیث نمبر (۳۲۱۲)
۴۷۵۳- براء بن عا زب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ا بھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ارد گر د بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں ، آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے ، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا: ’’قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو‘‘،اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : اور فرمایا: ’’اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں ،اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے ، اے جی ! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟‘‘، ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں،آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب(معبود) کو ن ہے؟ تو وہ کہتا ہے ، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے ، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لا یا اور اس کو سچ سمجھا‘‘، جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: ’’اللہ تعالیٰ کے قول {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا} سے یہی مراد ہے‘‘، (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں،)آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لئے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لئے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو‘‘ ،آپ ﷺ فرماتے ہیں:’’ پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے ، اور تا حد نگاہ اس کے لئے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے‘‘۔
اور رہا کافر تو آپ ﷺ نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ’’ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے ، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ،اسے اٹھا تے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟وہ کہتا ہے: ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم ، تو پکا رنے والا آسما ن سے پکارتا ہے : اس نے جھوٹ کہا ، اس کے لئے جہنم کا بچھونا بچھا دو اورجہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا ( لو ) آنے لگتی ہے اور اس کی قبرتنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں‘‘، جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ’’پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے ، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے ، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے‘‘،آپ ﷺ فرماتے ہیں:’’ پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے‘‘۔
4754- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ، عَنْ أَبِي عُمَرَ زَاذَانَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۸) (صحیح)
۴۷۵۴- ابو عمر زاذان کہتے ہیں کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے سنا ، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ۔