• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
76- بَاب فِي الرُّخْصَةِ فِي الْجَمْعِ بَيْنَهُمَا
۷۶-باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان​


4967- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ [رَحِمَهُ اللَّهُ:] قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: < نَعَمْ > وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ < قُلْتُ > قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلام لِلنَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: ت/الأدب ۶۸ (۲۸۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۵) (صحیح)
۴۹۶۷- محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول!اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا : ''ہاں'' ۔


4968- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: جَائَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: يَارَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلامًا فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: < مَاالَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي؟ # أَوْ < مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۵، ۲۰۹) (ضعیف)
۴۹۶۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول!میرے ایک لڑ کا پیدا ہواہے ، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابو القاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے نا پسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: '' کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنانا درست یا یوں فر مایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنانا درست ہے اور نام رکھنا درست ؟ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ ﷺ کی حیات مبارکہ تک ہے، اِس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے تو کچھ قباحت نہیں،بعض نے کہا کہ نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنا منع ہے،کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے، پہلا قول بہتر اور مناسب ہے یعنی آپ کی وفات کے بعد ''محمد نام اور ابوالقاسم'' کنیت کا استعمال ایک جگہ ہوسکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
77- بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَكَنَّى وَلَيْسَ لَهُ وَلَدٌ
۷۷-باب: آدمی کنیت رکھے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو تو کیسا ہے؟​


4969- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ، فَمَاتَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ: < مَا شَأْنُهُ ؟> قَالُوا: مَاتَ نُغَرُهُ، فَقَالَ: < يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۸)، وقد أخرجہ: خ /الأدب ۸۱ (۶۱۲۹)، م/الأداب ۵ (۲۱۵۰)، ت/الصلاۃ ۱۳۱ (۳۳۳)، ق/الأدب ۲۴ (۳۷۲۰)، ۳۴، حم (۳ /۱۱۵، ۱۱۹، ۱۷۱، ۱۹۰، ۲۰۱، ۲۲۳، ۲۷۸) (صحیح)
۴۹۶۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں آتے تھے ، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی ، اس کے پاس ایک چڑیا تھی ، وہ اس سے کھیلتا تھا ، وہ مر گئی ، پھر ایک دن اچا نک نبی اکرمﷺ اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ وغمگین دیکھ کر فرمایا : ''کیا بات ہے؟'' لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی ، تو آپ نے فرمایا : ''اے ابو عمیر! کیا ہوا نغیر( چڑیا ) کو؟''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
78- بَاب فِي الْمَرْأَةِ تُكْنَى
۷۸-باب: عور ت کی کنیت رکھنا کیسا ہے؟​


4970- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ صَوَاحِبِي لَهُنَّ كُنًى، قَالَ: < فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِاللَّهِ > [يَعْنِي ابْن اخْتِهَا] قَالَ مُسَدَّدٌ: عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِاللَّهِ.
قَالَ أَبو دَاود: وَهَكَذَا قَالَ قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ أَبُوأُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ عَنْ هِشَامٍ كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۰۷، ۱۵۱، ۱۸۶، ۲۶۰) (صحیح)
۴۹۷۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں ، آپ نے فرمایا: ''تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو'' ، مسدد کی روایت میں (عبداللہ کے بجائے) عبداللہ بن زبیر ہے ،عروہ کہتے ہیں: چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔
ابو داود کہتے ہیں: قُرّان بن تَمَّام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے ، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابو اسامہ نے کہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
79- بَاب فِي الْمَعَارِيضِ
۷۹-باب: بات چیت میں توریہ (اشارہ کنایہ) کا بیان ۱؎​


4971- حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ [إِمَامُ مَسْجِدِ حِمْصَ]، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهِ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ لَهُ بِهِ كَاذِبٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۷۵) (ضعیف)
۴۹۷۱-سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فر ما تے سنا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔
وضاحت ۱؎ : تعریض یا توریہ ایسے لفظ کے اطلاق کا نام ہے جس کا ایک ظاہری معنی ہوا، اور متکلم اس ظاہری معنیٰ کے خلاف ایک دوسرا معنی مراد لے رہاہو جس کا وہ لفظ محتمل ہو، یہ ایک طرح سے مخاطب کو دھوکہ میں ڈالنا ہے اسی وجہ سے جب تک کوئی شرعی مصلحت یا کوئی ایسی حاجت نہ ہوکہ اس کے بغیر کوئی اور چارہ کار نہ ہو ایسا کرنا صحیح نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
80- بَاب فِي قَوْلِ الرَّجُلِ زَعَمُوا
۸۰-باب: آدمی کا'' زَعَمُوْا'' (لوگوں کا ایسا گمان ہے ) کہنا کیسا ہے؟​


4972- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لأَبِي عَبْدِاللَّهِ، أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ لأَبِي مَسْعُودٍ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي: < زَعَمُوا؟ > قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ [زَعَمُوا] >.
قَالَ أَبو دَاود: أَبُو عَبْدِاللَّهِ [هَذَا] حُذَيْفَةُ ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱۹، ۵/۴۰۱) (صحیح)
۴۹۷۲- ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ابو عبداللہ (حذیفہ) رضی اللہ عنہ سے یا ابو عبداللہ نے ابو مسعود سے کہا: تم نے ''زَعَمُوا'' کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فر ما تے سنا: ''زَعَمُوا'' (لوگوں نے گمان کیا) آدمی کی بہت بُری سواری ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : چونکہ ''زَعَمُوا'' کا تعلق ایسے قول اور ایسی بات سے ہے جوغیر یقینی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس لئے آپ ﷺ نے اس لفظ و اپنے مقصد کے لئے سواری بنانے اور اس کی آڑ لے کر کوئی ایسی بات کہنے سے منع کیا ہے جوغیر محقق ہو اور جو پایہ ثبوت کو نہ پہنچتی ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
81- بَاب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ أَمَّا بَعْدُ
۸۱-باب: خطبہ میں '' أمابعد'' کہنے کا بیان​


4973- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ؛ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَطَبَهُمْ فَقَالَ: < أَمَّا بَعْدُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۸۹)، وقد أخرجہ: م/فضائل علي ۴ (۲۴۰۸) (صحیح)
۴۹۷۳- زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے انہیں خطبہ دیاتو ''أَمَّا بَعْدُ'' کہا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ''أَمَّا بَعْدُ'' کا کلمہ حمدوصلاۃ کے بعد کہا جاتا ہے، آپ ﷺ اس کلمہ کا استعمال کرتے تھے،اس سے متعلق روایت تقریباً بارہ صحابہ سے مروی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
82- بَاب فِي [الْكَرْمِ، وَ]حِفْظِ الْمَنْطِقِ
۸۲-باب: انگو ر کو ’کَرْمْ‘ کہنے اور غیر مناسب الفاظ بولنے سے بچنے کا بیان​


4974- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ ابْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، قَالَ: < لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ، وَلَكِنْ قُولُوا حَدَائِقَ الأَعْنَابِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۳۲)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۱۰۱ (۶۱۸۲)، م/الألفاظ من الأدب ۲ (۲۲۴۹)، حم (۲/۲۷۲، ۴۶۴، ۴۷۶) (صحیح)
۴۹۷۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی(انگور اور اس کے باغ کو) ’کَرْمْ‘ نہ کہے ۱؎، اس لئے کہ ’کَرْمْ‘ مسلمان مرد کوکہتے ہیں ۲؎،بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔
وضاحت ۱؎ : چونکہ’کَرْمْ‘ یعنی انگور سے جوشراب بنائی جاتی ہے اسے لوگ عمدہ اور بہتر سمجھتے ہیں اس لئے انگور کا نام’کرم‘ رکھنے سے آپ ﷺ نے منع فرما دیا تاکہ کبھی بھی شراب کی بہتری خیال میں نہ آئے۔
وضاحت ۲؎ : عرب’رَجُلٌ کَرْمٌ‘اور’قَوْمٌ کَرْمٌ‘ کہتے ہیں ’رَجُلٌ کَرِیْمٌ‘ اور’قَوْمٌ کِرَامٌ‘ کے معنی میں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
83- بَاب لا يَقُولُ الْمَمْلُوكُ رَبِّي وَرَبَّتِي
۸۳-باب: غلام یا لو نڈی اپنے آقا یا مالکن کے لئے 'رَبِّ' کا لفظ استعمال نہ کریں​


4975- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي، وَلا يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ رَبِّي وَرَبَّتِي، وَلْيَقُلِ الْمَالِكُ فَتَايَ وَفَتَاتِي، وَلْيَقُلِ الْمَمْلُوكُ سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي، فَإِنَّكُمُ الْمَمْلُوكُونَ وَالرَّبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۴۲۹، ۱۴۴۵۹، ۱۴۵۲۳)، وقد أخرجہ: خ/العتق ۱۷ (۲۵۵۲)، م/الألفاظ من الأدب ۳ (۲۲۴۹)، حم (۲/۴۲۳، ۴۶۳، ۴۸۴، ۴۹۱، ۵۰۸) (صحیح)
۴۹۷۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تم میں سے کوئی ( اپنے غلام یا لونڈی کو) 'عَبْدِیْ' (میرا بندہ) اور 'أَمَتِیْ' ( میری بندی) نہ کہے اور نہ کوئی غلام یا لو نڈی ( اپنے آقا کو) 'رَبِّیْ' ( میرے مالک) اور 'رَبَّتِیْ' (میری مالکن) کہے بلکہ مالک یوں کہے : میرے جوان! یا میری جوان!اور غلام اور لو نڈی یوں کہیں: 'سَیِّدِیْ' (میرے آقا) اور 'سَیِّدَتِیْ' (میری مالکن) اس لئے کہ تم سب مملوک ہو اور رب صرف اللہ ہے۔


4976- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ ﷺ ، قَالَ: < وَلْيَقُلْ سَيِّدِي وَمَوْلايَ >.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۸۲) (صحیح)
۴۹۷۶- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے: لیکن اس میں انہوں نے نبی اکرمﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں یہ ہے فرمایا: اور چا ہیئے کہ وہ 'سَیِّدِیْ' ( میرے آقا) اور 'مَوْلَا یَ' ( میرے مولی) کہے۔


4977- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لاتَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ: سَيِّدٌ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ >۔
* تخريج: ن/الیوم واللیۃ (۲۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۴۶، ۳۴۷) (صحیح)
۴۹۷۷-بر یدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تم لوگ منا فق کو سید نہ کہو اس لئے کہ اگر وہ سیدہے (یعنی قوم کاسردار ہے یاغلام ولونڈی اور مال والاہے) تو تم نے اپنے رب کو نا راض کیا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ تم نے اسے 'سید' کہہ کر اس کی تعظیم کی حالانکہ وہ تعظیم کا مستحق نہیں اور اگر وہ ان معانی میں سے کسی بھی اعتبار سے 'سید' نہیں ہے تو تمہارا اُسے 'سید' کہنا کذب ونفاق ہوگا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
84- بَاب لا يُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِي
۸۴-باب: میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان​


4978- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لايَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلْيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي >۔
* تخريج: خ/الأدب ۱۰۰ (۶۱۸۰)، م/الألفاظ من الأدب ۴ (۲۲۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۵۶) (صحیح)
۴۹۷۸- سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تم میں سے کوئی میرا نفس خبیث ہو گیا نہ کہے، بلکہ یوں کہے میرا جی پریشان ہو گیا ۔


4979- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: جَاشَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۸۰)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۱۰۰ (۶۱۸۰)، م/الألفاظ من الأدب ۴ (۲۲۵۰)، حم (۶/۵۱، ۲۰۹، ۲۸۱) (صحیح)
۴۹۷۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش ما را'' بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔


4980- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < لا تَقُولُوا، مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فُلانٌ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۴، ۳۹۴، ۳۹۸) (صحیح)
۴۹۸۰- حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:''تم یوں نہ کہو: جواللہ چا ہے اور فلاں چا ہے'' ۱؎ بلکہ یوں کہو: جو اللہ چا ہے پھر فلاں چا ہے۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ اس جملہ میں اللہ کی مشیت کے ساتھ دوسرے کی مشیت شامل ہے جب کہ''اللہ چاہے پھر فلاں چاہے''میں ایسی بات نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے چاہنے کے بعد پھر دوسرے کے چاہنے میں کوئی قباحت نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
85- بَابٌ
۸۵- باب​


4981- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ: < قُمْ > أَوْ قَالَ: <اذْهَبْ فَبِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۰۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۵۰) (صحیح)
۴۹۸۱- عدی بن حا تم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی اکرمﷺ کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے (خطبہ میں) کہا:''مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا'' جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے ، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نا فرما نی کرتا ہے ...(ابھی اس نے اتنا ہی کہاتھا کہ) آپ نے فرمایا: ''کھڑے ہوجاؤ'' یا یوں فرمایا: چلے جائو تم بہت بُرے خطیب ہو ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اس خطیب کو اس لئے برا کہا کہ اس نے''مَنْ یَعْصِھِمَا'' کہہ کر اللہ اور رسول دونوں کو ایک ہی ضمیر میں جمع کردیا تھا، خطبہ میں باتوں کو تفصیل سے کہنے کا موقع ہوتا ہے، اور سامعین میں ہر سطح کے لوگ ہوتے ہیں، مقام کا تقاضا تفصیل کا تھا''، یعنی : من یعص اللہ ویعص رسولہ'' کہنے کا ، تا کہ کسی طرح کا التباس نہ رہ جاتا۔


4982- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِاللَّهِ- عَنْ خَالِدٍ -يَعْنِي الْحَذَّاءَ- عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ ﷺ ، فَعَثَرَتْ دَابَّتُه، فَقُلْتُ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: < لا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ؛ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَعَاظَمَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْبَيْتِ، وَيَقُولُ: بِقُوَّتِي، وَلَكِنْ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ؛ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّبَابِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۵۹، ۷۱) (صحیح)
۴۹۸۲- ابو الملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نبی اکرمﷺ کے پیچھے سوار تھا ، کہ آپ کی سواری پھسل گئی ، میں نے کہا: شیطان مرے ، تو آپ نے فرمایا: '' یوں نہ کہو کہ ''شیطان مرے'' اس لئے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھرکے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا ، بلکہ یوں کہو: اللہ کے نام سے اس لئے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہوجائے گا جیسے مکھی۔


4983- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ (ح) و حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا سَمِعْتَ > وَقَالَ مُوسَى: < إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ >.
قَالَ أَبو دَاود: قَالَ مَالِكٌ: إِذَا قَالَ ذَلِكَ تَحَزُّنًا لِمَا يَرَى فِي النَّاسِ -يَعْنِي فِي أَمْرِ دِينِهِمْ- فَلا أَرَى بِهِ بَأْسًا، وَإِذَا قَالَ ذَلِكَ عُجْبًا بِنَفْسِهِ وَتَصَاغُرًا لِلنَّاسِ فَهُوَ الْمَكْرُوهُ الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ۔
* تخريج: م/البر والصلۃ ۴۱ (۲۶۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۲۳، ۱۲۷۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۷، ۳۴۲) (صحیح)
۴۹۸۳- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جب تم سنو!(اور موسی کی روایت میں یوں ہے ، کہ جب آدمی کہے) کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو وہی ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے'' ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: مالک نے کہا: جب وہ یہ بات دینی معاملات میں لوگوں کی روش دیکھ کر رنج سے کہے تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا ، اور جب یہ بات وہ خو د پر ناز کر کے اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر کہے تو یہی وہ مکروہ و ناپسند یدہ چیز ہے ، جس سے روکا گیا ہے۔
وضاحت ۱؎ : مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص لوگوں کی عیب جوئی اور برائیاں برابر بیان کرتارہے، اور اپنی زبان سے لوگوں کے فساد میں مبتلا ہونے اور ان کی ہلاکت وتباہی کا ذکر کرتا رہے گا تو ایسا شخص بسبب اس گناہ کے جو اسے اپنے اس کرتوت کی وجہ سے لاحق ہو رہا ہے سب سے زیادہ ہلاکت وبربادی کا مستحق ہے، اور بسا اوقات وہ خود پسندی کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔
 
Top