34- بَاب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
۳۴-باب: گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے
3808- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو ابْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنْ جَابِرِ بَنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [يَوْمَ خَيْبَرَ] عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ، قَالَ عَمْرٌو: فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَائِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا، وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ، يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ۔
* تخريج: خ/ الصید ۲۸ (۵۵۲۹)، انظر حدیث رقم : ۳۷۸۸، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۱۳) (صحیح)
(اس سند میں ''رجل '' سے مراد ''محمد بن علی باقر ہیں )
۳۸۰۸- جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھر یلوگد ھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا ۔
عمرو کہتے ہیں: ابو الشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس بحر(عالم) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ابن عباس رضی اللہ عنہما گھریلو گدھا کے کھانے کو جائز مانتے تھے، ہو سکتا ہے کہ انہیں حرمت والی حدیث نہ پہنچی ہو، آیت کریمہ:
{قُلْ لا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} سے ان کا اس پر استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت مکی ہے، اور حرمت مدینہ میں ہوئی تھی ۔
3809- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ قَالَ: أَصَابَتْنَا سَنَةٌ، فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي شَيْئٌ أُطْعِمُ أَهْلِي إِلا شَيْئٌ مِنْ حُمُرٍ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَابَتْنَا السَّنَةُ، وَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي مَا أُطْعِمُ أَهْلِي إِلا سِمَانُ الْحُمُرِ، وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: < أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ حُمُرِكَ، فَإِنَّمَا حَرَّمْتُهَا مِنْ أَجْلِ جَوَّالِ الْقَرْيَةِ > يَعْنِي الْجَلَّالَةَ.
[قَالَ أَبو دَاود: عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ مَعْقِلٍ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَنَّ سَيِّدَ مُزَيْنَةَ أَبْجَرَ، أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ، سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ ] ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۱۸) (ضعیف الإسناد/ مضطرب)
(اس کی سند میں سخت اضطراب ہے )
۳۸۰۹- غالب بن ابجر کہتے ہیں: ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدہوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے اور رسول اللہ ﷺ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آپکڑا ہے اور ہما رے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے اہل وعیال کو اپنے موٹے گدھے کھلائو میں نے انہیں گائوں گائوں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے'' یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں : عبدالرحمن سے مراد ابن معقل ہیں۔
ابوداود کہتے ہیں:اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابو الحسن سے،عبید نے عبدالرحمن بن معقل سے عبدالرحمن بن معقل نے عبدالرحمن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا تھا۔
3810- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَحَدُهُمَا عَنِ الآخَرِ أَحَدُهُمَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ، وَالآخَرُ غَالِبُ بْنُ الأَبْجَرِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ ﷺ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۱۸) (ضعیف الإسناد)
(اس سند میں سخت اضطراب ہے )
۳۸۱۰- ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کر تے ہیں، اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کر تا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمر و بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے ۔
مسعر کہتے ہیں: میراخیال ہے غالب ہی نبی اکرم ﷺ کے پاس اس بات ( قحط والے معاملے) کو لے کر آئے تھے۔
3811- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْجَلاَّلَةِ: عَنْ رُكُوبِهَا، وَأَكْلِ لَحْمِهَا۔
* تخريج: ن/الضحایا ۴۲ (۴۴۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۱۹) (حسن صحیح)
۳۸۱۱- عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے اور نجاست خور جانور کی سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔