- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
76- بَاب فِي الرُّخْصَةِ فِي الْجَمْعِ بَيْنَهُمَا
۷۶-باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان
4967- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ [رَحِمَهُ اللَّهُ:] قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: < نَعَمْ > وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ < قُلْتُ > قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلام لِلنَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: ت/الأدب ۶۸ (۲۸۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۵) (صحیح)
۴۹۶۷- محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول!اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا : ''ہاں'' ۔
4968- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: جَائَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: يَارَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلامًا فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: < مَاالَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي؟ # أَوْ < مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۵، ۲۰۹) (ضعیف)
۴۹۶۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول!میرے ایک لڑ کا پیدا ہواہے ، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابو القاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے نا پسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: '' کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنانا درست یا یوں فر مایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنانا درست ہے اور نام رکھنا درست ؟ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ ﷺ کی حیات مبارکہ تک ہے، اِس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے تو کچھ قباحت نہیں،بعض نے کہا کہ نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنا منع ہے،کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے، پہلا قول بہتر اور مناسب ہے یعنی آپ کی وفات کے بعد ''محمد نام اور ابوالقاسم'' کنیت کا استعمال ایک جگہ ہوسکتا ہے۔