• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
66- بَاب التَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ
۶۶- باب: مزدلفہ سے منیٰ جلدی واپس لوٹ جانے کا بیان​

1939- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعْفَةِ أَهْلِهِ۔
* تخريج: خ/الحج ۹۸ (۱۶۷۸)، وجزاء الصید ۲۵ (۱۸۵۶)، م/الحج ۴۹ (۱۲۹۳)، ن/الحج ۲۰۸ (۳۰۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۶۴)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۵۸ (۲۹۲، ۸۹۳)، ق/المناسک ۶۲ (۳۰۲۵)، حم (۱/۲۲۱، ۲۲۲، ۲۴۵، ۲۷۲، ۳۳۴، ۳۴۶) (صحیح)

۱۹۳۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کر دینا جائز ہے، تاکہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہو جائیں، لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔

1940- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: < أُبَيْنِيَّ لا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ >.
قَالَ أَبودَاود : اللَّطْخُ : الضَّرْبُ اللَّيِّنُ۔
* تخريج: ن/الحج ۲۲۲ (۳۰۶۶)، ق/ المناسک ۶۲ (۳۰۲۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۳۹۶)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۵۸ (۸۹۳)، حم (۱/۲۳۴، ۳۱۱، ۳۴۳) (صحیح)

۱۹۴۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد المطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے مزدلفہ کی رات پہلے ہی روانہ کر دیا تھا، آپ ﷺ ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے: ’’اے میرے چھوٹے بچو! جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہو جائے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: لطخ کے معنی آہستہ مارنے کے ہیں۔


1941- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ حَبِيبِ (ابْنِ أَبِي ثَابِتٍ) عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُقَدِّمُ ضُعَفَاءَ أَهْلِهِ بِغَلَسٍ وَيَأْمُرُهُمْ، يَعْنِي لا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔
* تخريج: ن/ الحج ۲۲۲ (۳۰۶۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۸۸۸) (صحیح)

۱۹۴۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر کے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کر دیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے۔

1942- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ -يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ- عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ، وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ (تَعْنِي) عِنْدَهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف:۱۶۹۶۱) (ضعیف)
(اس میں ضحاک ضعیف الحفظ ہیں، اور سند و متن میں اضطراب ہے، ثقات کے روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ۲؍ ۱۷۷)
۱۹۴۲- امّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام سلمہ کو نحر کی رات (دسویں رات) کو (منیٰ کی طرف) راونہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس رہا کرتے تھے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی یہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا۔

1943- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَائٌ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا رَمَتِ الْجَمْرَةَ، قُلْتُ: إِنَّا رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ، قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: ن/الحج ۲۱۴ (۳۰۵۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۳۷)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۹۸ (۱۶۷۹)، م/الحج ۴۹ (۱۲۹۱)، ط/الحج ۵۶ (۱۷۲)، حم (۶/۳۴۷، ۳۵۱) (صحیح)

۱۹۴۳- اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، مخبر (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔

1944- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ۔
* تخريج: ن/ الحج ۲۰۴ (۳۰۲۴)، ق/ المناسک ۶۱ (۳۰۲۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۷۴۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۱، ۳۳۲، ۳۶۷، ۳۹۱)، دي/المناسک ۵۹ (۱۹۴۰) (صحیح)

۱۹۴۴- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آسکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب يَوْمِ الْحَجِّ الأَكْبَرِ
۶۷- باب: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟​

1945- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ -يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ- حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ، فَقَالَ: < أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ >،قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ: < هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ >۔
* تخريج: خ/ الحج ۱۳۲ (۱۷۴۲ تعلیقًا)، ق/المناسک ۷۶ (۳۰۵۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۵۱۴) (صحیح)

۱۹۴۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نحر کے روز (دسویں ذی الحجہ کو) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: ’’یہ کون سا دن ہے؟‘‘، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہی حج اکبر کا دن ہے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی قرآن مجید میں جو یوم الحج الأکبر آیا ہے اس سے مراد یوم نحر ہی ہے، حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے اور عمرہ کو حج اصغر، اور وہ جو عوام میں مشہور ہے کہ ’’جمعہ کے دن یوم عرفہ پڑے تو حج اکبر ہے‘‘ تو یہ بات بے دلیل اور بے اصل ہے۔

1946- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُوبَكْرٍ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى أَنْ لا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ، وَالْحَجُّ الأَكْبَرُ الْحَجُّ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۱۰ (۳۶۹)، والحج ۶۷ (۱۶۲۲)، خ/الجزیۃ ۱۶ (۳۱۷۷)، والمغازي ۶۶ (۴۳۶۳)، وتفسیر البرائۃ ۲ (۴۶۵۶)، ۳ (۴۶۵۵)، وتفسیر البرائۃ ۴ (۴۶۵۷)، م/الحج ۷۸ (۱۳۴۷)، ن/الحج ۱۶۱ (۲۹۶۰)، حم (۲/۲۹۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۶۲۴) (صحیح)

۱۹۴۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یو م النحرکو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج اکبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
68- بَاب الأَشْهُرِ الْحُرُمِ
۶۸- باب: حرمت والے مہینوں کا بیان​

1947- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَ: < إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ > ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۰۰)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۱۳۲(۱۷۴۲)، وبدء الخلق ۲ (۳۱۹۷)، والمغازي ۷۷ (۴۴۰۳)، وتفسیر سورۃ التوبۃ ۸ (۴۶۶۲)، والأضاحي ۵ (۵۵۵۰)، والتوحید ۲۴ (۷۴۴۷)، م/القسامۃ ۱۰ (۱۶۷۹)، ن/ الکبری/ المحاربہ/ (۳۵۹۵)، حم (۵/۳۷)، دي/المناسک ۷۲ (۱۹۵۷) (صحیح)

۱۹۴۷- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا: ’’زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں: تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے ۱؎ جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے‘‘۔
وضاحت ۱؎: رجب کی نسبت قبیلہ مضر کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ یہ رجب کی حرمت کے سلسلہ میں زیادہ سخت تھے، اور دیگر عرب قبائل کے مقابلہ میں اس کی حرمت کا پاس و لحاظ زیادہ رکھتے تھے۔

1948- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَعْنَاهُ.
قَالَ أَبودَاود: (و) سَمَّاهُ ابْنُ عَوْنٍ، فَقَالَ: (عَنْ) عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ (عَنْ أَبِي بَكْرَةَ) فِي هَذَا الْحَدِيثِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۸۶) (صحیح)

۱۹۴۸- اس سند سے بھی ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: ابن عون نے اس حدیث میں ان کا نام لیا ہے اور یوں کہا ہے ’’عن عبدالرحمن بن أبي بكرة عن أبي بكرة‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
69- بَاب مَنْ لَمْ يُدْرِكْ عَرَفَةَ
۶۹- باب: جسے عرفات کا وقوف نہ مل سکے اس کے حکم کا بیان​

1949- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَائٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ، أَوْ نَفَرٌ، مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَأَمَرُوا رَجُلا، فَنَادَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: كَيْفَ الْحَجُّ؟ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ (رَجُلا) فَنَادَى: < الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ، مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلاثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ >، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي بِذَلِكَ .
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِهْرَانُ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: < الْحَجُّ الْحَجُّ >، مَرَّتَيْنِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: < الْحَجُّ > مَرَّةً۔
* تخريج: ت/الحج ۵۷ (۸۸۹)، ن/الحج ۲۰۳ (۳۰۱۹)، ۲۱۱ (۳۰۴۷)، ق/المناسک ۵۷ (۳۰۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۰۹، ۳۱۰، ۳۳۵)، دي/المناسک ۵۴ (۱۹۲۹) (صحیح)

۱۹۴۹- عبد الرحمن بن یعمردیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: ’’حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے (عرفات میں) آجائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں (گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ)، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں‘‘، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔
ابو داود کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران نے سفیان سے ’’الحج الحج‘‘ دو بار نقل کیا ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے ’’الحج‘‘ ایک ہی بار نقل کیا ہے۔

وضاحت ۱؎ : یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے کیونکہ اس کے فوت ہو جانے سے حج فوت ہو جاتا ہے۔

1950- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِالْمَوْقِفِ يَعْنِي بِجَمْعٍ، قُلْتُ: جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ، أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلاةَ وَأَتَى عَرَفَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ >۔
* تخريج: ت/الحج ۵۷ (۸۹۱)، ن/الحج ۲۱۱ (۳۰۴۲، ۳۰۴۳، ۳۰۴۴)، ق/المناسک ۵۷ (۳۰۱۶)، ( تحفۃ الأشراف:۹۹۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۵، ۲۶۱، ۲۶۲)، دي/المناسک ۵۴ (۱۹۳۰) (صحیح)

۱۹۵۰- عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: میں طی کے پہاڑوں سے آرہا ہوں، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا، اور خود کو بھی تھکا دیا، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ٹھہرا نہ ہوں، تو میرا حج درست ہوا یا نہیں؟! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو ہمارے ساتھ اس صلاۃ کو پا لے اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ۱؎ ہو گیا، اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے اور اس کا وقت (۹) ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے لے کر دسویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے، ان دونوں وقتوں کے بیچ اگر تھوڑی دیر کے لئے بھی عرفات میں وقوف مل جائے تو اس کا حج ادا ہو جائے گا۔
وضاحت ۲؎: نسائی کی ایک روایت میں ہے ’’فقد قضى تفثه وتم حجه‘‘، یعنی حالت احرام میں پراگندہ رہنے کی مدت اس نے پوری کر لی، اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کر سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
70- بَاب النُّزُولِ بِمِنًى
۷۰- باب: منیٰ میں اترنے کا بیان​

1951- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ ﷺ النَّاسَ بِمِنًى، وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ، فَقَالَ: <لِيَنْزِلِ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا -وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ- وَالأَنْصَارُ هَا هُنَا -وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ- ثُمَّ لِيَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَهُمْ >.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۶۱) (صحیح)

۱۹۵۱- عبد الرحمن بن معاذ سے روایت ہے، وہ رسول ﷺ کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا، آپ نے فرمایا: ’’مہاجرین یہاں اتریں- اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا- اور انصار یہاں اتریں- اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا- پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
71- بَاب أَيِّ يَوْمٍ يَخْطُبُ بِمِنًى
۷۱- باب: منیٰ میں خطبہ کس دن ہو؟​

1952- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَالا: رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَخْطُبُ بَيْنَ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِهِ، وَهِيَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الَّتِي خَطَبَ بِمِنًى۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۷۰) (صحیح)

۱۹۵۲- بنی بکر کے دو آدمی کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ایام تشریق کے بیچ والے دن ( بارہویں ذی الحجہ کو) خطبہ دے رہے تھے اور ہم آپ کی اونٹنی کے پاس تھے، یہ وہی خطبہ تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں دیا۔

1953- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ، وَكَانَتْ رَبَّةُ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الرُّئُوسِ؟ فَقَالَ: < أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ > قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: < أَلَيْسَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ >.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ قَالَ عَمُّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ: إِنَّهُ خَطَبَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو دواد، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۹۱) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ربیعہ‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۹۵۳- ربیعہ بن عبد الرحمن بن حصین کہتے ہیں مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں (جس میں اصنام ہوتے تھے)، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یوم الرؤس ۱؎ (ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ) کو خطاب کیا اور پوچھا: ’’یہ کون سا دن ہے؟‘‘، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے‘‘۔
امام ابو داود کہتے ہیں: ابوحرّہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔

وضاحت۱؎: بارہویں ذی الحجہ کویوم الرؤوس کہا جاتا تھا کیونکہ لوگ اپنی قربانی کے جانوروں کے سر اسی دن کھاتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
72- بَاب مَنْ قَالَ خَطَبَ يَوْمَ النَّحْرِ
۷۲- باب: نبی اکرم ﷺ نے یوم النحر کو خطبہ دیا اس قائلین کی دلیل کا بیان​

1954- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ يَوْمَ الأَضْحَى بِمِنًى۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۲۶)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ الحج (۴۰۹۵)، حم (۳/۴۸۵) (حسن)

۱۹۵۴- ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی عضباء پر عید الاضحی کے دن منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔

1955- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيَّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْكَلاعِيُّ،سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۴۸۶۷) (صحیح)

۱۹۵۵- سلیم بن عامر کلاعی کہتے ہیں کہ میں نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے منیٰ میں یوم النحر کو رسول اللہ ﷺ کا خطبہ سنا ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ہرماس بن زیاد اور ابو امامہ رضی اللہ عنہما وغیرہ کی روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یوم النحر کو خطبہ مشروع ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یوم النحر کو خطبہ نہیں، اور یہ احادیث عام موعظت و نصیحت کے قبیل سے ہیں نہ کہ یہ خطبہ ہے جو حج کے شعائر میں سے ہے، ان روایات سے ان کے اس قول کی تردید ہوتی ہے کیونکہ ان احادیث کے رواۃ نے اسے خطبہ کا نام دیا ہے جیسے عرفات کے خطبہ کو خطبہ کہا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
73- بَاب أَيِّ وَقْتٍ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ
۷۳- باب: یوم النحر (قربانی کے دن) میں کس وقت خطبہ دیا جائے؟​

1956- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزْنِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزْنِيُّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، وَعَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه، يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَاعِدٍ وَقَائِمٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۵۹۷)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ الحج (۴۰۹۴) (صحیح)

۱۹۵۶- رافع بن عمرو المزنی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دیتے سنا جس وقت آفتاب بلند ہو چکا تھا اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے اسے لوگوں کو پہنچا ۱؎ رہے تھے اور دور والوں کو بتا رہے تھے، کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے تھے۔
وضاحت۱؎: رسول اللہ ﷺ سے سن کر وہی کلمات بلند آواز سے دہرا رہے تھے تاکہ جو لوگ آپ ﷺ سے دور ہیں وہ بھی اسے سن لیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
74- بَاب مَا يَذْكُرُ الإِمَامُ فِي خُطْبَتِهِ بِمِنًى
۷۴- باب: منیٰ کے خطبہ میں امام کیا بیان کرے؟​

1957- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ (وَنَحْنُ) بِمِنًى فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا، حَتَّى كُنَّا نَسْمَعُ مَا يَقُولُ وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا، فَطَفِقَ يُعَلِّمُهُمْ (مَنَاسِكَهُمْ) حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ، فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: < بِحَصَى الْخَذْفِ > ثُمَّ أَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَنَزَلُوا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، وَأَمَرَ الأَنْصَارَ فَنَزَلُوا مِنْ وَرَاءِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ نَزَلَ النَّاسَ بَعْدَ ذَلِكَ۔
* تخريج: ن/الحج ۱۸۹(۲۹۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۶۱)، دي/المناسک ۵۹ (۱۳۹۳) (صحیح)

۱۹۵۷- عبد الرحمن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دیئے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے، آپ ﷺ نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آسکتی تھیں پھر آپ ﷺ نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
75- بَاب يَبِيتُ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى
۷۵- باب: منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان​

1958- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي حَرِيزٌ، أَوْ أَبُو حَرِيزٍ، الشَّكّ مِنْ يَحْيَى أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ فَرُّوخٍ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّا نَتَبَايَعُ بِأَمْوَالِ النَّاسِ، فَيَأْتِي أَحَدُنَا مَكَّةَ، فَيَبِيتُ عَلَى الْمَالِ، فَقَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَبَاتَ بِمِنًى وَظَلَّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۶۶۸۷) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’حریز، یا ابو حریز حجازی‘‘ مجہول ہیں)
۱۹۵۸- حریز یا ابو حریز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبد الرحمن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس لئے مکہ میں رات گزارنی خلاف سنت اور ناجائز ہے، بعض علماء کے یہاں صرف شدید ضرورت کے وقت اس کی اجازت ہے۔

1959- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ۔
* تخريج: حدیث ابن نمیر أخرجہ خ/الحج ۱۳۳ (۱۷۴۵)، م/الحج ۶۰ (۱۳۱۵)، ق/المناسک ۸۰ (۳۰۶۵)، حم (۲/۲۲)، وحدیث أبو أسامۃ أخرجہ: خ/ الحج ۱۳۳ (۱۷۴۵تعلیقاً)، م/الحج ۶۰ (۱۳۱۵)، دي/المناسک ۹۱ (۱۹۸۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۸۲۴) (صحیح)

۱۹۵۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔
 
Top