• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
96- بَاب فِي مَالِ الْكَعْبَةِ
۹۶- باب: کعبہ میں مدفون مال کا بیان​

2031- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ شَيْبَةَ -يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ- قَالَ: قَعَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّه عَنْه فِي مَقْعَدِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ، فَقَالَ: لا أَخْرُجُ حَتَّى أَقْسِمَ مَالَ الْكَعْبَةِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: بَلَى لأَفْعَلَنَّ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: لِمَ؟ قُلْتُ: لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ رَأَى مَكَانَهُ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه، وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ، فَلَمْ يُخْرِجَاهُ، فَقَامَ فَخَرَجَ۔
* تخريج: خ/الحج ۴۸ (۱۵۹۴)، والاعتصام ۲ (۷۲۷۵)، ق/المناسک ۱۰۵ (۳۱۱۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۴۸۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۱۰) (صحیح)

۲۰۳۱- شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو اور کہا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال ۱؎ (محتاج مسلمانوں میں) تقسیم نہ کر دوں، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، فرمایا: کیوں نہیں، میں ضرور کروں گا، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، وہ بولے: کیوں؟ میں نے کہا: اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس مال کی جگہ دیکھی، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی دیکھ رکھی تھی، اور وہ دونوں اس مال کے آپ سے زیادہ حاجت مند تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں نکالا، یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے۔
وضاحت۱؎: بعض علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے یہ مال امام مہدی کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
97- بَابٌ
۹۷- باب: وادیٔ وج کے حرم ہونے کا بیان​

2032- حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَمَّا أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ لِيَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الأَسْوَدِ حَذْوَهَا، فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ وَقَالَ مَرَّةً: وَادِيَهُ، وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ > وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ لِثَقِيفٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۶۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۶۵) (ضعیف)
(اس کے راوی ''محمد'' اور ''عبد اللہ'' دونوں ضعیف ہیں)
۲۰۳۲- زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لیّۃ ۱؎ سے لوٹے اور بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ قرن اسود ۲؎ کے دامن میں اس کے بالمقابل کھڑے ہوئے پھر اپنی نگاہ سے نخب ۳؎ کا استقبال کیا (اور راوی نے کبھی ''نخبا'' کے بجائے ''واديه'' کا لفظ کہا) اور ٹھہر گئے تو سارے لوگ ٹھہر گئے تو فرمایا: ''صیدوج ۴؎ اور اس کے درخت محترم ہیں، اللہ کی طرف سے محترم قرار دیئے گئے ہیں'' یہ آپ ﷺ کے طائف میں اترنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے۔
وضاحت ۱ ؎ : ایک پہاڑ کا نام ہے جو طائف سے قریب ہے۔
وضاحت ۲ ؎ : حجاز میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔
وضاحت ۳ ؎ : ایک جگہ کا نام ہے۔
وضاحت ۴ ؎ : طائف میں ایک وادی کا نام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
98- بَاب فِي إِتْيَانِ الْمَدِينَةِ
۹۸- باب: مدینہ میں آنے کا بیان​

2033- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى >۔
* تخريج: خ/فضائل الصلاۃ ۱ (۱۱۸۹)، م/الحج ۹۵ (۱۳۹۷)، ن/المساجد ۱۰ (۶۹۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۳۰)، وقد أخرجہ: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۹۶ (۱۴۰۹)، ط/ الجمعۃ ۷ (۱۶)، حم (۲/۲۳۴، ۲۳۸، ۲۷۸)، دي/الصلاۃ ۱۳۲ (۱۴۶۱) (صحیح)

۲۰۳۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''کجاوے صرف تین ہی مسجدوں کے لئے کسے جائیں: مسجد حرام، میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد اقصی کے لئے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
99- بَاب فِي تَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ
۹۹- باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان​

2034 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلا الْقُرْآنَ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرَ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلا صَرْفٌ، (وَ) ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلا صَرْفٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (لا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلا صَرْفٌ ) >۔
* تخريج: خ/العلم ۳۹ (۱۱۱)، وفضائل المدینۃ ۱ (۱۸۶۷)، والجھاد ۱۷۱ (۳۰۴۷)، والجزیۃ ۱۰ (۳۱۷۲، ۳۱۷۹)، والفرائض ۲۱ (۶۷۵۵)، والدیات ۲۴ (۶۹۰۳)، والاعتصام ۵ (۷۳۰۰)، م/الحج ۸۵ (۱۳۷۰)، ت/الدیات ۱۶ (۱۴۱۲)، والولاء والھبۃ ۳ (۲۱۲۷)، ن/القسامۃ ۹، ۱۰ (۴۷۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۱۷)، وقد أخرجہ: ق/الدیات ۲۱ (۲۶۵۸)، حم (۱/۸۱، ۱۲۲، ۱۲۶، ۱۵۱، ۲/۳۹۸)، دي/الدیات ۵ (۲۴۰۱) (صحیح)

۲۰۳۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک (عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں)، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت (نئی بات) نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل، مسلمانوں کا ذمہ (عہد) ایک ہے (مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دے دے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی) اس (کو نبھانے) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل''۔
وضاحت ۱؎ : یہ صحیفہ ایک ورق تھا جس میں دیت کے احکام تھے، علی رضی اللہ عنہ اسے اپنی تلوار کی نیام میں رکھتے تھے۔
وضاحت ۲ ؎ : یعنی کوئی اپنی آزادی کی نسبت کسی دوسرے کی طرف نہ کرے۔

2035- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا يُخْتَلَى خَلاهَا، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا وَلا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلاحَ لِقِتَالٍ، وَلا يَصْلُحُ أَنْ يُقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۱۹) (صحیح)

۲۰۳۵- علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اس (یعنی مدینہ) کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے، کسی شخص کے لئے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑا ئی کے لئے ہتھیار لے جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے''۔

2036- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كِنَانَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: حَمَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كُلَّ نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا: لا يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلايُعْضَدُ إِلا مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۹۸۷۹) (حسن)
(اس کے راوی ''سلیمان'' مجہول اور ''عبد اللہ'' لین الحدیث ہیں، لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ۶/۲۷۵، والصحیحۃ: ۳۲۴۳)
۲۰۳۶- عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لئے (بہ قدر ضرورت)۔
وضاحت ۱؎ : چاروں اطراف مشرق، مغرب اور شمال جنوب کو ملا کر کل چار برید ہوئے اور ایک برید چار فرسخ کا ہوتا ہے اور ایک فرسخ تین میل کا اس طرح اس حدیث کی رو سے کل (۴۸) میل بنتا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں (۱۲) میل کی صراحت آئی ہے۔

2037- حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ- حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ أَبِي عَبْدِاللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ، فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ، وَقَالَ: < مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ (ثِيَابَهُ) >، فَلا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۸۶۳)، وقد أخرجہ: م/الحج ۸۵ (۴۰۶۰)، حم (۱/۱۶۸، ۱۷۰) (صحیح)
(لیکن ''شکار'' کی بات منکر ہے، صحیح بات درخت کاٹنے کی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے اور صحیح مسلم میں بھی یہی بات ہے)
۲۰۳۷- سلیمان بن ابی عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لئے تو اس کے سات (۷) لوگوں نے آکر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی، آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: ''جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے''، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا۔

2038- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ، فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ، وَقَالَ -يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ-: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْئٌ، وَقَالَ: < مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۹۵۱) (صحیح)
(متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: صالح کا اختلاط اور مولی لسعد کا مبہم ہونا)
۲۰۳۸- سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ''جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑ ے اس کا اسباب چھین لے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ جھڑکی اور ملامت کے طور پر ہے، پھر اسے واپس دیدے، اکثر علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ نہ دے ۔

2039- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لايُخْبَطُ وَلا يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۲۲۱۸) (صحیح)

۲۰۳۹- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رسول اللہ ﷺ کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لئے جائیں'' ۱ ؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اکثر علماء کے نزدیک حرم مدینہ کے درخت کاٹنے یا شکار مارنے میں کوئی سزا نہیں ہے، بعض علماء کے نزدیک سزاکا مستحق ہے۔

2040- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى (ح) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَأْتِي قُبَائً مَاشِيًا وَرَاكِبًا، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ في مسجد مکۃ والمدینۃ ۳ (۱۱۹۴)تعلیقًا، والاعتصام ۱۶ (۷۳۲۳)، م/الحج ۹۷ (۱۳۹۹)، ن/المساجد ۹ (۶۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۴۱، ۸۱۴۸)، وقد أخرجہ: ط/ قصرالصلاۃ ۲۳ (۷۱)، حم (۲/۵، ۳۰، ۵۷، ۵۸، ۶۵) (صحیح)

۲۰۴۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء پیدل اور سوار (دونوں طرح سے) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں) ''اور دو رکعت پڑھتے تھے'' (کا اضافہ ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
100- بَاب زِيَارَةِ الْقُبُورِ
۱۰۰- باب: قبروں کی زیارت کا بیان​

2041- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵۲۷) (حسن)

۲۰۴۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالی میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں''۔

2042- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِاللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَلا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا؛ وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۶۷) (صحیح)

۲۰۴۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اپنے گھروں کو قبرستان ۱؎ نہ بناؤ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ (کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں)، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا''۔
وضاحت۱؎: یعنی اس میں صلاۃ پڑھنا اور عبادت کرنا نہ چھوڑو کہ تم اس میں مردوں کی طرح ہو جاؤ اس سے معلوم ہوا کہ جس گھر میں صلاۃ اور عبادت نہیں ہوتی وہ قبرستان کے مانند ہے۔

2043- حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيّ،ُ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ -يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ- قَالَ: مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِاللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يُرِيدُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ، فَلَمَّا تَدَلَّيْنَا مِنْهَا وَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ؟ قَالَ: < قُبُورُ أَصْحَابِنَا > فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ: < هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۴۹۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۶۱) (صحیح)

۲۰۴۳- ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم (ایک ٹیلے کا نام ہے) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہمارے صحابہ ۱؎ کی قبریں ہیں''، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ ہمارے بھائیوں ۲؎ کی قبریں ہیں''۔
وضاحت ۱؎ : جن کی موت اسلام پر ہوئی ہے اور وہ شہداء کا مقام نہیں پا سکے ہیں۔
وضاحت ۲؎ : نبی اکرم ﷺ نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔

2044- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۸۹ (۴۸۴)، والحج ۱۴ (۱۵۳۲)، ۱۵ (۱۵۳۳)، ۱۶ (۱۵۳۵)، والعمرۃ ۱۴ (۱۷۹۹)، والمزارعۃ ۱۶ (۲۳۳۶)، م/الحج ۶ (۱۱۸۸)، ۷۷ (۱۲۷۵)، ن/المناسک ۲۴ (۲۶۶۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۳۳۸)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۶۹(۲۰۶)، حم (۲/۲۸، ۸۷، ۱۱۲، ۱۳۸) (صحیح)

۲۰۴۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بطحا میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں صلاۃ پڑھی، چنانچہ عبد اللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

2045- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسِ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ، حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ، لأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَرَّسَ بِهِ .
(قَالَ أَبودَاود) : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ قَالَ: الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ط/الحج/ عقب حدیث (۲۰۶) (صحیح)

۲۰۴۵- مالک کہتے ہیں: جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تواس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ صلاۃ نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لئے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔



* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{6- كِتَاب النِّكَاحِ}
۶- کتاب: نکاح کے احکام و مسائل


1- بَاب التَّحْرِيضِ عَلَى النِّكَاحِ
۱- باب: نکاح کی ترغیب کا بیان​

2046- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: إِنِّي لأَمْشِي مَعَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ فَاسْتَخْلاهُ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُاللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَالَ لِي: تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ، فَجِئْتُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلا نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ بِجَارِيَةٍ بِكْرٍ، لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ؟ فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ: لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَائَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۱۰ (۱۹۰۵)، النکاح ۲ (۵۰۶۵)، ۳ (۵۰۶۶)، م/النکاح ۱ (۱۴۰۰)، ت/النکاح ۱ (۱۰۸۱تعلیقًا)، ن/الصیام ۴۳ (۲۲۴۱)، والنکاح ۳ (۳۲۰۹) ، ق/النکاح ۱ (۱۸۴۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۴۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۸، ۴۲۴، ۴۲۵، ۴۳۲، ۴۴۷)، دي/النکاح ۲ (۲۲۱۲) (صحیح)

۲۰۴۶- علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں چل رہا تھا کہ اچانک ان کی ملاقات عثمان رضی اللہ عنہ سے ہو گئی تو وہ ان کو لے کر خلوت میں گئے، جب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ انہیں (شادی کی) ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا: علقمہ! آجاؤ۱؎ تو میں گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ ۲؎ نے ان سے کہا: ابو عبد الرحمن! کیا ہم آپ کی شادی ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید آپ کی دیرینہ طاقت و نشاط واپس آجائے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو میں تو اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سن چکا ہوں کہ: ’’تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نگاہ کو خوب پست رکھنے والی اور شرم گاہ کی خوب حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو تم میں سے اس کے اخراجات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر صیام ہے، یہ اس کی شہوت کے لئے توڑ ہو گا‘‘ ۳؎ ۔

وضاحت۱؎: کیونکہ اب خلوت کی ضرورت نہیں رہ گئی۔
وضاحت۲؎: ہوسکتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ سے وہ گفتگو بیان کی ہو جو عثمان نے خلوت میں ان سے کی تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے علقمہ رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد اپنی بات پوری کرتے ہوئے علقمہ کی موجودگی میں اسے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا ہو۔
وضاحت۳؎: آدمی جب نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو اس کے لئے نکاح کرنا مسنون ہے، اور بعض کے نزدیک اگر گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ ہو تو واجب یا فرض ہے، اس کے فوائد یہ ہیں کہ اس سے افزائش نسل کے علاوہ شہوانی جذبات کو تسکین ملتی ہے، اور زنا فسق و فجور سے آدمی کی حفاظت ہوتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ تَزْوِيجِ ذَاتِ الدِّينِ
۲- باب: دین دارعورت سے نکاح کا حکم​

2047- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى (يَعْنِي) ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُاللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < تُنْكَحُ النِّسَاءُ لأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ >۔
* تخريج: خ/النکاح ۱۵ (۵۰۹۰)، م/الرضاع ۱۵ (۱۴۶۶)، ن/النکاح ۱۳ (۳۲۳۲)، ق/النکاح ۶ (۱۸۵۸)، حم (۲/۴۲۸)، دي/النکاح ۴ (۲۲۱۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۰۵) (صحیح)

۲۰۴۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دین دار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں'' ۱؎۔
وضاحت ۱؎: یعنی عام طور پر عورت سے نکاح انہیں چار چیزوں کے سبب کیا جاتا ہے، ایک دیندار مسلمان کو چاہئے کہ ان سب اسباب میں دین کو ترجیح دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب فِي تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ
۳- باب: کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان​

2048- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَتَزَوَّجْتَ؟ >، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: < بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ >، فَقُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: < أَفَلا بِكْرٌ تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۲۲۴۸)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۳۴ (۲۰۹۷)، الوکالۃ ۸ (۲۳۰۹)، الجہاد ۱۱۳ (۲۹۶۷)، المغازي ۱۸ (۴۰۵۲)، النکاح۱۰ (۵۰۷۹)، ۱۲۱ (۵۲۴۵)، ۱۲۲ (۵۲۴۷)، النفقات ۱۲ (۵۳۶۷)، الدعوات ۵۳ (۶۳۸۷)، م/الرضاع ۱۶ (۷۱۵)، ت/النکاح ۱۳ (۱۱۰۰)، ن/النکاح ۶ (۳۲۲۱)، ۱۰ (۳۲۳۶)، ق/النکاح ۷ (۱۸۶۰)، حم (۳ /۲۹۴، ۳۰۲، ۳۰۸، ۳۱۴، ۳۶۲، ۳۶۹، ۳۷۴، ۳۷۶)، دي/النکاح ۳۲ (۲۲۶۲) (صحیح)

۲۰۴۸- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''کیا تم نے شادی کر لی؟''، میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کنواری سے یا غیر کنواری سے؟''، میں نے کہا غیر کنواری سے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب النَّهْيِ عَنْ تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ يَلِدْ مِنَ النِّسَاءِ
۴- باب: بانجھ عورت سے شادی کی ممانعت کا بیان ۱؎​

2049- قَالَ أَبو دَاود: كَتَبَ إِلَيَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيّ،ُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لا تَمْنَعُ يَدَ لامِسٍ، قَالَ: <غَرِّبْهَا>، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي، قَالَ: < فَاسْتَمْتِعْ بِهَا >۔
* تخريج: ن/النکاح ۱۲ (۳۲۳۱)، والطلاق ۳۴ (۳۴۹۴، ۳۴۹۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۱۶۱) (صحیح)

۲۰۴۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی ۲؎ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اسے اپنے سے جدا کر دو'' ۳؎ ، اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا ۴؎ ، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ''۔
وضاحت۱؎: ایک نسخہ میں یہ باب اسی طرح اسی جگہ ہے لیکن باقی نسخوں میں یہ باب نہیں ہے، بظاہر یہ باب ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت کے بعد ہونا چاہئے، ممکن ہے نسّاخ کی غلطی سے ایسا ہوا ہو۔
وضاحت۲؎: یعنی ہر ایک سے غلط اور بے حیائی کے کام پر راضی ہو جاتی ہے یا یہ کہ وہ گھر کے سامانوں کا خیال نہیں رکھتی جو بھی کوئی چیز مانگتا ہے اسے دے دیتی ہے۔
وضاحت۳؎: اس سے مراد ہے اسے طلاق دے دو۔
وضاحت۴؎: یعنی میرے دل میں اس کا اشتیاق رہے گا جس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ میں حرام کام کا ارتکاب کر بیٹھوں۔

2050- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ابْنَ أُخْتِ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ- يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ- عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَإِنَّهَا لاتَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: < لا >، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: < تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ >۔
* تخريج: ن/النکاح ۱۱ (۳۲۲۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۷۷) (حسن صحیح)

۲۰۵۰- معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں''، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :''خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ (بروز قیامت) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً}
۵- باب: آیت کریمہ: {الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً} کی تفسیر​

2051- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ كَانَ يَحْمِلُ الأَسَارَى بِمَكَّةَ، وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ، وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، قَالَ: جِئْتُ (إِلَى) النَّبِيِّ ﷺ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحُ عَنَاقَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، فَنَزَلَتْ: {وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَيَّ وَقَالَ: <لاتَنْكِحْهَا >۔
* تخريج: ت/تفسیر سورۃ النور (۳۱۷۷)، ن/النکاح ۱۲ (۳۲۳۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۷۵۳) (حسن صحیح)

۲۰۵۱- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا لایا کرتے تھے، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، مرثد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے شادی کر لوں؟ آپ ﷺ خاموش رہے تو آیت کریمہ {وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور اسے پڑھ کر سنایا اور فرمایا: ''تم اس سے شادی نہ کرنا''۔

2052- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو مَعْمَرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <لايَنْكِحُ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلا مِثْلَهُ >.
وقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: (حَدَّثَنِي) حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۲۴) (صحیح)

۲۰۵۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوڑے کھایا ہوا زنا کار اپنی جیسی عورت ہی سے شادی کرے''۔
 
Last edited:
Top