1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ اسلامی ۔ایک تعارف ، ایک تجزیہ

'فقہ اجتماعی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 11، 2014۔

  1. ‏جولائی 11، 2014 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فقہ اسلامی

    ایک تعارف ، ایک تجزیہ

    ڈاکٹر محمد ادریس زبیر


    فہرست مضامین
    پیش لفظ

    پہلا باب تعارف فقہ اسلامی
    علم اور اس کی برکات
    فقہ اسلامی: خصوصیات اور محاسن
    فقہ اسلامی کی اہمیت وضرورت
    فقہ اسلامی کی روح
    موضوع فقہ

    لفظ فقہ کا معنی ومفہوم
    مذہب اور دین: فرق
    فقہ، شریعہ اور قانون

    فقہ اور اصول فقہ میں فرق
    انتباہ
    مقام عبرت

    لفظ سیاست کا معنی ومفہوم
    فقہ اسلامی کے چند مسائل
    فقہ اسلامی میں اہم چیز کون سی ہے
    فقیہ کسے کہتے ہیں؟
    فقہاء کے درجات
    غلط فہمیاں
    یاد رکھنے کی بات

    فقہ اسلامی میں مصالح عامہ کا خیال

    دوسرا باب تاریخ ومصادر
    تاریخ تدوین فقہ اور اس کے مراحل
    فقہ اسلامی کے مصادر: قرآن وسنت، اجماع ، قیاس
    اجتہاد
    اختلاف ہو تو حق ایک کے ساتھ ہوگا
    خیر القرون کا علم اور فقہی آزادی

    تیسرا باب فقہاء اربعہ
    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ
    اساتذہ وتلامذہ
    فقہ حنفی کے اصول: کتاب اللہ، سنت، اجماع اور قیاس
    فقہ حنفی کی مشہور کتب: اقسام وتعارف
    نمایاں خدو خال: علما ء احناف کی آراء۔۔ضابطے۔۔تلفیق
    فقہ حنفی کی چند اصطلاحات
    مفتیٰ بہا،ظاہر الروایۃ، الروایۃ، الإمام، الشیخان، الطرفان،صاحبان، أصحابنا، مشایخ۔

    ائمہ اربعہ کے درمیان اختلاف کی صورتیں
    وفات
    ایک تحقیق طلب معاملہ: مجلس علمی، بعض دعووں کا ضعف

    امام مالک رحمہ اللہ
    اساتذہ
    تدریس وعلمی وقار
    فقہ مالکی کی اہم کتب: موطأ اور المُدَوَّنۃ
    امام مالکؒ کے شاگرد
    فقہ مالکی کے اصول
    چند مالکی اصطلاحات:ائمہ، الأخوان، شیخ، شیخان، قرینان، مفتی
    موازنہ مابین فقہ مالکی وحنفی

    وفات

    امام شافعیؒ رحمہ اللہ
    بچپن

    اساتذہ
    رحلہ برائے علم
    فکر میں تبدیلی
    فقہ شافعی کے اصول
    مشہور شافعی کتب
    بعض مشہور فقہی اصطلاحات
    اختلافی اصطلاحات

    تقابلی جائزہ
    وفات

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
    تعلیم
    فتنہ خلق قرآن
    عقیدہ
    وفات
    فقہ حنبلی کے اصول
    معتمد کتب حنابلہ
    حنبلی اصطلاحات
    ائمہ اربعہ کے فقہی مناہج پرتبصرہ

    چوتھا باب فقہی تقسیم اور تناؤ
    فقہی مذاہب کا آغاز
    تقسیم کی وجہ
    مذہبی شدت
    مسلکی فقہ کی اشاعت کے اسباب: قاضیوں کا کردار، فقہاء کے میلانات، غلو، ایک اور نمونہ، تلخ یادیں، تقلید، گروہ بندیاں، جماعت سازی اور امارت، فروعی مسائل، ذاتی رائے اور فرعی مسئلہ، نتائج
    تدوین نو کی ضرورت
    عجیب رویے
    قبولیت کی شرائط
    اطاعت واتباع :ترک تقلید
    صحیح احادیث
    غیر واقع مسائل سے اجتناب
    فقہ اسلامی کے پرکھنے کے معیارات:فقہی کتب اور ان کا انتخاب : مسلکی وغیر مسلکی کتب۔ مجتہدانہ کتب۔ فقہی مسائل کی جانچ اور طریقہ کار۔
    فقہ اسلامی کے چند مطالبات
    فقہ سے استفادہ ۔ تعصب سے اجتناب۔ تجویز۔ اختلاف کے باوجود رواداری۔ فقہاء ہمارا عظیم سرمایہ۔ اجتہاد کی ضرورت۔ استنباط۔جرح وتعدیل۔ تخریج سے اجتناب
    فتوی اور مفتی
    آخری گذارش
     
    Last edited: ‏جولائی 18، 2014
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 11، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قال ابن سیرین رحمہ اللّٰہ:
    إِنَّ ہٰذَا الْعِلْمَ دِیْنٌ فَانْظُرُوْا عَمَّنْ تَأْخُذُوْنَ دِیْنَکُمْ۔

    امام ابن سیرینؒ فرماتے ہیں:
    بلاشبہ یہ علم ، دین ہے پس دیکھا کرو کہ دین تم کس سے لے رہے ہو۔​
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 11، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پیش لفظ


    فقہ اسلامی۔ فرقہ واریت سے پاک ایک ایسی فکر سلیم کا نام ہے جو قرآن وسنت رسول کی خالص تعلیمات میں سینچی گئی ۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال ، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت ِ رسول کو اپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کوہی ہر حال میں ترجیح دی ۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایساعطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پروہ عطا کر دیتا ہے۔

    فقہ اسلامی۔ اس علم کا نام ہے جو کتاب وسنت رسول سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔یہ علم دھول وغبار کو اڑا کر ماحول کو صاف وشفاف بناتا ہے۔ اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ۔ روشنی کے ایسے دروبام کھولتا ہے جن میں ظلمت چھٹ جاتی ہے۔ جس کے ادراک کے بعد ضلالت یا نزاع کی کوئی شکل باقی نہیں رہتی۔

    فقہ اسلامی۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے۔ اس کے فہم کے بعض نابغہ روزگار متخصصین ایسے بھی ہیں جن کے علم وفضل اور اجتہادات سے ایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے۔ فقہ اسلامی ایک ایسا بہاؤ ہے جو زمان ومکان کی علمی وشرعی ضرورتوں کوپورا کرتا اور ذہنی تشویش کو دھوتا اور پاکیزہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے بہاؤ میں ٹھہراؤ نہیں اس لئے کہ ٹھہراؤ میں زندگی ہے نہ تازگی۔ یہ ایسا باغ ہے جو ہر موسم میں اپنے اشجار کو اگاتا اور اپنے لذیذ پھلوں سے اپنے چاہنے والوں کو لذت سے آشنا کرتا ہے۔ ؎عجب چیز ہے لذت آشنائی ۔ہمارے ان فقہاء پر اللہ تعالیٰ اپنی خیر وبرکت نازل فرمائے جنہوں نے امت کو اس خیر سے آشنا کرایا اور خود بہت کچھ نوازا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 11، 2014 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مذہبی وفرقہ وارانہ رجحانات زندگی کے ہر سٹیج پر نمایاں ہیں۔بلا شبہ ان میں تعصب و تشدد کے عناصر ہیں مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ان بندگان خدا میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی کی گئی مخلصانہ کوششوں پر سوال کناں ہیں کہ یہ سب محنت، تحریک، دعوت وتحریر اور تعلیم وتدریس کے زاویے وحلقے کس مقصد کے لئے چلائے اور منعقدکئے جارہے ہیں؟ کیا اپنی جماعت،اپنے گروہ یا شخصیت کے لئے؟ یا اللہ کے لئے؟ منصف ضمیر کے اس سوال پر جہاں یہ لوگ لڑکھڑاتے ہیں وہاں ان کے پاس ان سوالوں کا جواب سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ خاموشی اختیار کی جائے یا اپنی ذہنی اڑان پر مزید پابندی لگا دی جائے۔

    ہماری فقہی تاریخ میں سمرقندو بخارا اور بغدادکی خونیں تاریخ بھی ہے۔ کچھ تلخ حقائق بھی اپنے اندر یہ سموئے ہوئے ہے اور جس کی کڑواہٹ ابھی تک بانٹی جاتی ہے۔ گو ان کی بنیادیں صدیوں پرانی ہیں مگرماضی کی اٹھان نے اسے اب ایسا درخت بنا دیا ہے جو سوائے کڑوے کسیلے پھل دینے کے یا اپنے سائے سے دوسروں کو محروم کرنے کے یا اپنے بیج سے اپنی نسل کو باقی رکھنے کے کچھ نہیں کر پارہا۔ یہ ایسی فضا ہے جس میں اپنوں کو ہی مخصوص تربیت دی جاتی ہے اور مخصوص سوچ کے ساتھ انہیں مارکیٹ کے حوالے کردیا جاتا ہے۔اسی طرح علمی بحث وتحقیق غیر جانب داری اور حقیقت پسندی کی متقاضی ہوتی ہے لیکن اس موضوع میں بے شمار مثالیں ایسی موجود ہیں کہ علم وتحقیق کا قلم پاکیزگی سے ہٹ کر کسی اور جانب مڑ جاتا ہے جس میں معروضی شکل سے کم اور خاص غرض کے ساتھ وابستگی زیادہ نظر آتی ہے ۔ اس تاریخ کو پڑھ کر ہم اپنے پیداشدہ حالات کا مخلصانہ جائزہ لے سکتے ہیں۔جو متقاضی ہیں کہ مسلکی تعصبات کوخیر باد کہا جائے۔ امت مسلمہ بہت زخمی ہوچکی اپنے ہی اس پر کرم کر لیں تو اس پر بڑا احسان ہوگا۔ ہم اس دور کے تقاضوں کو سمجھیں۔ ہم اگر اپنے علمی سوتوں کو بند کریں گے تو ماضی پر رشک کرنا بے وقوفی ہوگا۔اس لئے کہ حال، ماضی سے جڑ کر مستقبل بناتا ہے اگر حال ہی بدحال ہو تو ماضی پر فخر کاہے کا؟
     
  5. ‏جولائی 11، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    رائج تاریخ فقہ کو اس کتاب میں بیان کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ آ ج کے معروضی حالات میں طالب علم کوجس فقہی منہج کی ضرورت ہے وہ وہی ہے جو جناب رسالت مآب ﷺنے چھوڑا اورجس کے وارثوں نے اس منہج کوبحفاظت سنبھالا اور اس کی آبیاری کی۔ وہ منہج کیا تھا؟ سب جانتے ہیں آپ ﷺ کا چھوڑا ہوا منہج :
    تَرَکْتُ فِیْکُمْ أَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا إِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا: کِتَابُ اللّٰہِ وَسُنَّتِی۔الحدیث۔
    میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ جب تک تم نے ان دونوں کو تھا مے رکھا کبھی گمراہ نہیں ہوگے: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔

    کتاب ہذا میں کوشش کی گئی ہے کہ رائج معنی سے ہٹ کرفقہ وتاریخ فقہ کا صحیح معنی ومفہوم متعین کیا جائے۔اور وہ اثرات زائل کئے جائیں جو کسی بھی صورت میں فقہ کے معنی کو محدود کرتے یا مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں۔

    اس میدان کے شہسوار کون ہیں؟ ان کی خصوصیات کیا ہیں؟ زبان رسالت نے علم اور اس کے درجات جس طرح واضح کئے ہیں ان کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

    یہی وہ اسلامی فقہ ہے جس کی تلاش آج ہمارے لئے بھول بھلیوں کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔اس کے برعکس رواجی فقہ اور اس کی تاریخ بظاہر واضح اور روشن ہے مگر اس کے حقائق دبیز پردوں میں مستور ۔ جنہیں بغور پڑھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریخ در اصل مسالک ومذاہب کی تاریخ ہے اپنے فضائل اور ترجیحات کی تاریخ ہے۔ مسلک کی خدمت و محنت تو اس تاریخ میں نظر آتی ہے مگردین کی خدمت کہاں؟ لگتا یہی ہے کہ چوتھی صدی کے وقوف کے بعد ہم سعی نہیں کر سکے بلکہ جہاں کھڑے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ ہاں ان حضرات میں جو مخلص تھے ان کا تحریری وعملی سرمایہ ہمارے لئے نعمت عظمیٰ سے کم نہیں۔اللہ ان پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے۔آمین۔
     
  6. ‏جولائی 11، 2014 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فقہ اسلامی کے اصل مصادر کون سے ہیں ؟ اور ان کے تابع کون کون سے؟ ان کا مختصر تعارف بعض ضمنی مباحث کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

    فقہ اسلامی کی تدوین عمومی انداز میں ہوئی اور اسے ہی پسند کیا گیا۔ یعنی مختلف فقہاء کی کاوشوں میں جہاں مخصوص ذہن کار فرما نظر نہ آیا اسے فقہ اسلامی نے اپنے اندر سمولیا مگر جہاں یہ رنگ غالب نظر آیا وہاں فقہ اسلامی نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ اس لئے کہ فقہ اسلامی وسعت کے اعتبار سے اپنا اونچا مقام رکھتی ہے وہ اپنے آپ کو محدود رکھنا توکیا دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔ اس لئے اس میں ہر وہ مثبت کاوش شامل ہوئی جو فقہ اسلامی کو ذاتی سوچ اور مذہبی رجحانات سے پاک نظر آئی۔ فقیہ محترم کی ہر وہ رائے، اجتہاد یا استنباط وقیع حیثیت اختیار کر گیا جو کتاب وسنت اور مقاصد شریعت سے مطابقت رکھتا تھا۔ اس لئے کسی مجتہد کو عقل کل کا دعوی تھا نہ علم کلی کا۔ اور نہ ہی کسی کے بارے میں ایسی مبالغہ آرائی کا جواز ہے۔ فقہاء صحابہ ہوں یا فقہاء سبعہ، اسی طرح فقہاء اربعہ ہوں یا دیگر فقہاء ان سب نے بہ اخلاص اپنی اجتہادی کوششوں کو جاری وساری رکھا اس ضمن میں اگر کہیں علمی سہو، لا علمی یا خطا کا علم ہوا بھی تو انہوں نے خود اصلاح کرلی یا ان کی جب اصلاح کی گئی تو ان کی متواضع طبیعت نے اپنی اس اصلاح کو رب ذوالجلال کے حضور شکرانہ ادا کرکے قبول کیا۔ اورامت کو ایک خاموش سبق بھی دے دیا کہ اس راہ کے مسافروں کا یہی چلن ہوا کرتا ہے: کہ
    {وفوق کل ذی علم علیم}۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ دین میں ہر عالم سے بڑھ کر ایک عالم ہوا کرتا ہے۔
    فتویٰ وافتاء بھی ایک موثر معاشرتی قوت وضرورت بن کر ابھرے جو سائل کی دینی تشفی کا سامان تھے اور عامۃ الناس کی شعوری بیداری کا ایک ذریعہ بھی۔ یہ منصب جلیلہ جسے حاصل ہوتا وہ طویل عرصہ کی مطالعاتی وتدریسی محنت ومشقت کا ذہنی ثمرہ ہوتا۔ اس میں ہر نووارد کی مفتی کی گنجائش نہ ہوتی اور نہ ہی اپنی فقہ پڑھنے کے بعد اسے اس کا اہل سمجھا جاتا تھا۔ علم ودلائل سے پختہ ان کے فتاوی جہاں جان رکھتے وہاں علماء وخواص بھی ان کے قدر دان ہوتے۔ ان پر عمل ہوتا اور عمل کروایاجاتا۔ جس کی وجہ افتاء وفتوی کی دینی، علمی وفقہی پختگی تھی۔
     
  7. ‏جولائی 11، 2014 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    شریعت اور فقہ اسلامی کی تعریف ووضاحت کے لئے یہ چند صفحات طلبہ کی ذہنی بالیدگی کے لئے لکھے گئے ہیں تاکہ ان میں اپنی تاریخ اور فقہ اسلامی کی ہر دور میں ضرورت کا احساس جاگ سکے اور اصول فقہ کو بھی ضمناً سمجھ سکیں۔ کوشش ہماری یہی رہی ہے کہ اس موضوع کو قرآن وسنت کے ساتھ ہی منسلک رکھا جائے اور اسلامی فقہ کا وہ خالص انداز طلبہ کے سامنے لایا جائے جس پر چل کر امت مسلمہ خالص دین پر قائم ہوسکے اور تفرقہ وتعصب سے پرے بھی۔اس منہج کو سنبھالا دینے کے لئے اس ارشاد رسول کو حرز جان بنانا ہوگا: کہ
    إِنَّہُ مَنْ یَعِشْ مِنْ بَعْدِیْ۔۔۔۔۔ میرے بعد جو جئے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا۔ ایسی صورت میں میری جانی بوجھی سنت کو تھام لینا۔
    ایسے حالات میں فقہ اسلامی کیا تقاضا کرتی ہے اور ایک بندہ خدا کو حد اعتدال پر لانے کے لئے کیا لائحہ عمل دیتی ہے۔ کچھ ایسے امکانات ابھی تک باقی ہیں جو مایوسی سے نکال کر امید کی روشن کرن فروزاں کرتے ہیں۔ کتاب کا آخری باب ان سوالوں کا جواب ہے۔

    اس کتاب میں فقہی اصطلاحات ، اور فقہی مواد کی ترتیب وتنظیم کو سہل انداز سے قابل فہم بنانے کی بھی کوشش کی گئی ہے اور استدلال میں قرآنی آیات وصحیح وحسن احادیث کو یا صحابہ کرام کے موثوق آثار کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہ بھی امید کرتے ہیں کہ طلبہ دین اپنی علمی اور فنی نصیحتوں کو بھی پیش کرنے میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خیر کے تمام کاموں کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رضا سے ہرطالب حق کو سرفراز فرمائے۔ آمین۔

    کتاب کی تصنیف میں جن مصادر ومآخذ سے مدد لی گئی ہے ان کا چونکہ کتاب میں جابجا حوالہ دے دیا گیا ہے اس لئے الگ کتابی فہرست بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

    وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
     
  8. ‏جولائی 11، 2014 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    انتساب

    اپنی شریک حیات کے نام
    جنہوں نے اپنے فہم دین کی روش کو بغیر کسی تعصب یا تعلّی کے
    قرآن اور سنت رسول ﷺکے ساتھ وابستہ کرلیا۔
     
  9. ‏جولائی 11، 2014 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ رَضِیَ اللّٰہَ عَنْہُ قَالَ:
    وَعَظَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ مَوْعِظَۃً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوبُ، قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ، إِنَّ ہٰذِہِ مَوْعِظَۃً مُوَدِّعٍ فَمَا تَعْہَدُ إِلَینَا؟ فَقَالَ: قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَائِ، لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا، لاَ یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْ إِلَّا ہَالِکٌ، وَمَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرَی اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ، وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ، وَعَلَیْکُمْ بِالطَّاعَۃِ وَإِنَّ عَبْدًا حَبَشِیًّا، وَعَضُّوا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٍ۔ أخرجہ أحمد:۴؍۱۲۶


    سیدنا عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے: جناب رسالت مآب ﷺ نے ہمیں ایک ایسا وعظ ارشاد فرمایا کہ ہماری آنکھیں نم ہوگئیں اور دل پسیج سے گئے۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپﷺ کا یہ وعظ الوداعی ساوعظ لگتا ہے۔ آپ ہم سے کیا توقع کرسکتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں روشن شاہراہ پہ چلا دیا ہے جس کی تاریکی بھی اس کی روشنی کی مانند ہے۔ میرے بعد اگر کوئی اس راہ سے بھٹکا تو وہ خود ہی تباہ ہوگا۔ سنو! میرے بعد جو زندہ رہا وہ بہت سے اختلافات کو اپنے درمیان دیکھے گا ۔ اس وقت تم لوگ میری اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی معروف سنت کو تھام لینا۔ اپنے آپ کو اطاعت امیر کا خوگر بنانا خواہ تمہارا وہ امیر حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ اطاعت کو اپنی ڈاڑھوں سے پکڑ لینا۔ اور ہاں اپنے آپ کو نئی نئی گھڑی نیکیوں سے بھی باز رکھنا اس لئے کہ ہر بدعت گمراہی ہوتی ہے۔
     
  10. ‏جولائی 18، 2014 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    الحمد للہ، کتاب مکمل ہوئی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں