17- بَاب وَقْتِ السُّحُورِ
۱۷-باب: سحری کھانے کے وقت کا بیان
2346- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَمْنَعَنَّ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلالٍ، وَلابَيَاضُ الأُفْقِ الَّذِي هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ >۔
* تخريج: م/الصیام ۸ (۱۰۹۴)، ت/الصوم ۱۵ (۷۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۲۴)، وقد أخرجہ: ن/الصیام ۱۸ (۲۱۷۳)، حم (۵/۷، ۹، ۱۳، ۱۸) (صحیح)
۲۳۴۶- سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی ( صبح کاذب) ہی باز رکھے ، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے''۔
2347- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلالٍ مِنْ سُحُورِهِ؛ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوْ قَالَ يُنَادِي، لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ، وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا - قَالَ مُسَدَّدٌ: وَجَمَعَ يَحْيَى كَفَّيْهِ - حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا > وَمَدَّ يَحْيَى بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۳ (۶۲۱)، الطلاق ۲۴ (۵۲۹۸)، أخبارالآحاد ۱ (۷۲۴۷)، م/الصوم ۸ (۱۰۹۳)، ن/الأذان ۱۱ (۶۴۲)، ق/الصوم ۲۳ (۱۶۹۶) (تحفۃ الأشراف: ۹۳۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۶، ۳۹۲، ۴۳۵) (صحیح)
۲۳۴۷- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: '' تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تا کہ تم میں قیام کرنے ( تہجد پڑھنے) والا تہجد پڑھنا بند کردے، اور سونے والا جاگ جائے ، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے ''۔
مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہو جائے (یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے)۔
2348- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي قَيْسُ ابْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < كُلُوا وَاشْرَبُوا، وَلا يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الأَحْمَرُ > [قَالَ أَبودَاود: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْيَمَامَةِ]۔
* تخريج: ت/الصوم ۱۵ (۷۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۳) (حسن صحیح)
۲۳۴۸- طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' کھائو پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھائو، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہوجائے''۔
2349- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، الْمَعْنَى، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: {حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} قَالَ: أَخَذْتُ عِقَالا أَبْيَضَ وَعِقَالا أَسْوَدَ، فَوَضَعْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَضَحِكَ فَقَالَ: < إِنَّ وِسَادَكَ لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ، إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ >، وَقَالَ عُثْمَانُ: < إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ > ۔
* تخريج: خ/الصوم ۱۶(۱۹۱۶)، وتفسیر البقرۃ ۲۸ (۴۵۰۹)، م/الصیام ۸ (۱۰۹۰)، ت/تفسیر البقرۃ ۱۷ (۲۹۷۰م)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۷۷)، دي/الصوم ۷ (۱۷۳۶) (صحیح)
۲۳۴۹- عدی بن حا تم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ
{حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} ۱؎ نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسّی لے کر اپنے تکیے کے نیچے (صبح صادق جاننے کی غرض سے) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا ، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، ''تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے''۔
عثمان کی روایت میں ہے:'' اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے''۔
وضاحت ۱؎ : ''یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے'' (سورۃ البقرۃ:۱۸۷)