- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
14- بَاب فِي شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلالِ رَمَضَانَ
۱۴-باب: رمضان کے چاند کی رویت کے لئے ایک شخص کی گواہی کافی ہے
2340- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ- (ح) وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ -يَعْنِي الْجُعْفِيَّ- عَنْ زَائِدَةَ، الْمَعْنَى، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلالَ، قَالَ الْحَسَنُ [فِي حَدِيثِهِ]: يَعْنِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: < أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < يَا بِلالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا >۔
* تخريج: ت/الصوم ۷ (۶۹۱)، ن/الصوم ۶ (۲۱۱۵)، ق/الصیام ۶ (۱۶۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۰۴، ۱۹۱۱۳)، وقد أخرجہ: دي/الصوم ۶ (۱۷۳۴) (ضعیف)
(عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے ، نیز سماک کے اکثر تلامذ نے اسے ''عن عکرمہ عن النبی ﷺ ...'' مرسلا روایت کیا ہے)
۲۳۴۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے ، ( راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا) تو آپ ﷺ نے اس اعرابی سے پوچھا: ''کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟''، اس نے جواب دیا : ہاں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا:''کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟''، اس نے جواب دیا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل صیام رکھیں ''۔
2341- حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلالِ رَمَضَانَ مَرَّةً فَأَرَادُوا أَنْ لا يَقُومُوا وَلا يَصُومُوا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ الْحَرَّةِ، فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلالَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < أَتَشْهَدُ أَنْ لاإِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ > قَالَ: نَعَمْ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلالَ، فَأَمَرَ بِلالا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۰۴، ۱۹۱۱۳) (ضعیف)
۲۳۴۱- عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند(کی رویت) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ صیام رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آگیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چنانچہ اسے نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں لے جایا گیا ، آپ نے اس سے سوال کیا: '' کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں؟''، اس نے کہا :ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چنانچہ آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کوحکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کردیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور صیام رکھیں۔
ابوداود کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
2342- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ السَّمْرَقَنْدِيُّ، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ، قَالا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ -هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ- عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَرَائَى النَّاسُ الْهِلالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۴۳)، وقد أخرجہ: دي/الصوم ۶ (۱۷۳۳) (صحیح)
۲۳۴۲- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی ( لیکن انہیں نظر نہ آیا) اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی صیام رکھا اور لوگوں کو بھی صیام رکھنے کا حکم فرمایا۔