• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب الرُّخْصَةِ فِي الْعَلَمِ وَخَيْطِ الْحَرِيرِ
۱۲-باب: کپڑے پر ریشمی بیل بوٹوں اور ریشمی دھاگوں کا استعمال جائز ہے​


4054- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ أَبُو عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي السُّوقِ اشْتَرَى ثَوْبًا شَأْمِيًّا، فَرَأَى فِيهِ خَيْطًا أَحْمَرَ، فَرَدَّهُ، فَأَتَيْتُ أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا جَارِيَةُ، نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَأَخْرَجَتْ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةَ الْجَيْبِ وَالْكُمَّيْنِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ۔
* تخريج: م/اللباس ۲ (۲۰۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۲۱)، وقد أخرجہ: ق/اللباس ۱۸ (۳۵۹۴)، حم (۶/۳۴۸، ۳۵۳، ۳۵۴، ۳۵۵) (صحیح)
۴۰۵۴- عبداللہ ابو عمر مولی اسماء بنت ابی بکر کا بیان ہے: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بازار میں ایک شامی کپڑا خریدتے دیکھا انہوں نے اس میں ایک سرخ دھاگہ دیکھا تو اسے واپس کر دیا تو میں اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو وہ (اپنی خادمہ سے) بولیں بیٹی! رسول اللہ ﷺ کا جبہ مجھے لا دے، تو وہ نکال کر لائیں وہ ایک طیالسی ۱؎ جبہ تھا جس کے گریبان اور دونوں آستینوں اور آگے اور پیچھے ریشم ٹکا ہوا تھا۔
وضاحت ۱؎ : ایک اونی منقش کپڑا۔


4055- حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنَ الْحَرِيرِ، فَأَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ وَسَدَى الثَّوْبِ فَلا بَأْسَ [بِهِ]۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۱۳، ۳۲۱) (صحیح)
دون قولہ: ''فأما العلم...''
۴۰۵۵- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے کپڑے سے جو خالص ریشمی ہو منع فرمایا ہے، رہا ریشمی بوٹا اور ریشمی کپڑے کا تانا تو کوئی مضائقہ نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب فِي لُبْس الْحَرِيرِ لِعُذْرٍ
۱۳-باب: عذر کی وجہ سے ریشمی کپڑا پہننے کا بیان​


4056- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِعَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَلِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا۔
* تخريج: خ/الجھاد ۹۱ (۲۹۱۹)، واللباس ۲۹ (۵۸۳۹)، م/اللباس ۳ (۲۰۷۶)، ن/الزینۃ من المجتمع ۳۸ (۵۳۱۲)، ق/اللباس ۱۷ (۳۵۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۹)، وقد أخرجہ: ت/اللباس ۲ (۱۷۲۲)، حم (۳/۱۲۷، ۱۸۰، ۲۱۵، ۲۵۵، ۲۷۳) (صحیح)
۴۰۵۶- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ
۱۴-باب: عورتوں کے لئے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان​


4057- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ [يَعْنِي الْغَافِقِيَّ] أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه يَقُولُ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي >۔
* تخريج: ن/الزینۃ ۴۰ (۵۱۴۷)، ق/اللباس ۱۹ (۳۵۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۶، ۱۱۵) (صحیح)
۴۰۵۷- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فر مایا: ''یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں''۔


4058- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيَّانِ، قَالا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بُرْدًا سِيَرَاءَ، قَالَ: وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ۔
* تخريج: خ/اللباس ۳۰ (۵۸۴۲ تعلیقًا)، ن/الزینۃ من المجتبی ۳۰ (۵۲۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۳)، وقد أخرجہ: ق/اللباس ۱۹(۳۵۹۸) (صحیح)
۴۰۵۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ریشمی دھاری دار چادر پہنے دیکھا۔
راوی کہتے ہیں: سیراء کے معنی ریشمی دھاری دا ر کپڑے کے ہیں۔


4059- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ -يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ- حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَنْزِعُهُ عَنِ الْغِلْمَانِ، وَنَتْرُكُهُ عَلَى الْجَوَارِي، قَالَ مِسْعَرٌ: فَسَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ عَنْهُ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۶۱) (صحیح)
۴۰۵۹- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو( اسے پہنے دیکھتے تو انہیں) چھوڑ دیتے تھے۔
مسعر کہتے ہیں :میں نے عمروبن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی مسعرنے جب یہ حدیث عبدالملک بن میسرہ زرّاد کوفی سے عمرو بن دینار کے واسطہ سے روایت کرتے سنی تو انہوں نے براہ راست عمرو بن دینار سے اس کے بارے میں پوچھا توعمرو نے لاعلمی کا اظہار کیا ممکن ہے انہیں یہ حدیث یاد نہ رہی ہو وہ بھول گئے ہوں، واللہ اعلم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب فِي لُبْسِ الْحِبَرَةِ
۱۵-باب: دھا ری دا ر لا ل چادر پہننے کا بیان​


4060- حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْنَا لأَنَسٍ -يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ-: أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، أَوْ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَ: الْحِبَرَةُ۔
* تخريج: خ/اللباس ۱۸ (۵۸۱۲)، م/اللباس ۵ (۲۰۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۹۵)، وقد أخرجہ: ت/اللباس ۴۵ (۱۷۸۷)، الشمائل ۸ (۶۰)، حم (۳/۱۳۴، ۱۸۴، ۲۵۱، ۲۹۱) (صحیح)
۴۰۶۰- قتادہ کہتے ہیں: ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا؟ تو انہوں نے کہا: دھاری دا ر یمنی چادر ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حبرہ : یمن کے اچھے کپڑوں کو کہتے تھے ، اور یہاں اس سے یمن کی لال رنگ کی خط دار چادر جو سوت یا کتان کی ہوتی تھی مرادہے ، اور اس کا شمارعرب کے بہترین کپڑوں میں تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب فِي الْبَيَاضِ
۱۶-باب: سفید کپڑوں کا بیان​


4061- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا [مِنْ] خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ: يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۳۸۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۳۴) (صحیح)
۴۰۶۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مر دوں کو کفنائو اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ ہے کیو نکہ وہ نگاہ کو تیز کر تا اور (پلکو ں کے) بال اگاتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب فِي غَسْلِ الثَّوْبِ وَفِي الْخُلْقَانِ
۱۷-باب: کپڑے دھونے کا اور پرانے کپڑوں کا بیان​


4062- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ (ح) وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، نَحْوَهُ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَرَأَى رَجُلا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ، فَقَالَ: <أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ؟ >، وَرَأَى رَجُلا آخَرَ [وَ] عَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ: <أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَائً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ >۔
* تخريج: ن/الزینۃ من المجتبی ۶ (۵۲۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۵۷) (صحیح)
۴۰۶۲- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: ''کیا اسے کوئی ایسی چیزنہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کر لے ؟'' ، اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا:''کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھولے ؟''۔


4063- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ: < أَلَكَ مَالٌ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟ > قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، قَالَ: < فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ >۔
* تخريج: ن/الزینۃ ۵۲ (۵۲۲۵)، الزینۃ من المجتبی ۲۸ (۵۲۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۴۷۳، ۴/۱۳۷) (صحیح الإسناد)
۴۰۶۳- مالک بن نضلۃ الجشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: '' کیا تم مال دا ر ہو؟''، میں نے عرض کیا: جی ہا ں مالدار ہوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ''کس قسم کا مال ہے؟''، تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام (ہر طرح کے مال سے ) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:''جب اللہ نے تمہیں مال ودولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چا ہئے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب فِي الْمَصْبُوغِ بِالصُّفْرَةِ
۱۸-باب: پیلے یا گیرو ے رنگ سے رنگے ہوئے کپڑوں کا بیان​


4064- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ [الْقَعْنَبِيُّ]، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ زَيْدٍ -يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ- أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْبُغُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَصْبُغُ بِهَا، وَلَمْ يَكُنْ شَيْئٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهَا، وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ۔
* تخريج: خ/اللباس ۳۷ (۵۸۵۲)، م/الحج ۵ (۱۱۸۷)، ن/الزینۃ ۱۷ (۵۰۸۸)، ق/اللباس ۳۴ (۳۶۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۲۸) (صحیح الإسناد)
۴۰۶۴- زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیو ں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب فِي الْخُضْرَةِ
۱۹-باب: سبز (ہرے) رنگ کا بیان​


4065- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ- حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ ﷺ فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ۔
* تخريج: ت/الأدب ۴۸ (۲۸۱۳)، ن/العیدین ۱۵ (۱۵۷۳)، الزینۃ من المجتبی ۴۲ (۵۳۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۲۶، ۲۲۷، ۲۲۸) (صحیح)
۴۰۶۵- ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ پر دو سبز رنگ کی چادریں دیکھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب فِي الْحُمْرَةِ
۲۰-باب: لال رنگ کا بیان​


4066- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ، فَقَالَ: < مَا هَذِهِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ؟ > فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ، فَقَذَفْتُهَا فِيهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: <يَاعَبْدَاللَّهِ! مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ؟ > فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: < أَلا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ، فَإِنَّهُ لابَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ >۔
* تخريج: ق/اللباس ۲۱ (۳۶۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۴، ۱۹۶) (حسن)
۴۰۶۶- عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے؟‘‘، میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو نا پسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ’’عبداللہ! وہ چادر کیا ہوئی؟‘‘، تو میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے اسے تنو رمیں ڈال دیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں‘‘۔


4067- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ هِشَامٌ -يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ-: الْمُضَرَّجَةُ الَّتِي لَيْسَتْ بِمُشَبَّعَةٍ وَلا الْمُوَرَّدَةُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۱۱) (صحیح)
۴۰۶۷- ہشام بن غاز کہتے ہیں کہ وہ مضرجہ(چادر) ہوتی ہے جو درمیانی رنگ کی ہو نہ بہت زیادہ لال ہو اور نہ بالکل گلا بی ۔


4068- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ شُفْعَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ: أُرَاهُ، وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٌ، فَقَالَ: < مَا هَذَا؟> فَانْطَلَقْتُ فَأَحْرَقْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ؟ > فَقُلْتُ: أَحْرَقْتُهُ، قَالَ: <أَفَلا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ ثَوْرٌ عَنْ خَالِدٍ فَقَالَ: مُوَرَّدٌ، وَطَاوُسٌ قَالَ: مُعَصْفَرٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۴۰۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۲۴) (ضعیف)
۴۰۶۸- عبداللہ بن عمروبن العا ص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (نا گواری کے اندا ز میں)فرمایا :’’یہ کیا ہے ؟‘‘، تو میں نے جاکر اسے جلادیا پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ’’تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟‘‘، تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورّد(گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طائوس نے معصفر(کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔


4069- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ -يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ- حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ، فَسَلَّمَ [عَلَيْهِ]، فَلَمْ يَرُدَّ [عَلَيْهِ] النَّبِيُّ ﷺ ۔
* تخريج: ت/الأدب ۴۵ (۲۸۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۱۸) (ضعیف)
(سند میں ابویحیی القتات لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
۴۰۶۹- عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا ۔


4070- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ -يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى رَوَاحِلِنَا وَعَلَى إِبِلِنَا أَكْسِيَةً فِيهَا خُيُوطُ عِهْنٍ حُمْرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَلا أَرَى هَذِهِ الْحُمْرَةَ قَدْ عَلَتْكُمْ؟ > فَقُمْنَا سِرَاعًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى نَفَرَ بَعْضُ إِبِلِنَا، فَأَخَذْنَا الأَكْسِيَةَ فَنَزَعْنَاهَا عَنْهَا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۶۳) (ضعیف الإسناد)
۴۰۷۰- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں (پالانوں) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے‘‘ (ابھی تو زین پوش سر خ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگوگے) تو رسول اللہ ﷺ کی یہ با ت سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا ۔


4071- حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ ابْنُ عَوْفٍ [الطَّائِيُّ]: وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ -يَعْنِي ابْنَ زُرْعَةَ- عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ الأَبَحِّ السَّلِيحِيِّ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَتْ: كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَنَحْنُ نَصْبُغُ ثِيَابًا لَهَا بِمَغْرَةٍ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ، فَأَخَذَتْ فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَجَعَ، فَاطَّلَعَ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا دَخَلَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۶۹) (ضعیف الإسناد)
۴۰۷۱- حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے: میں ایک دن ام المو منین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیر وے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ نا گوار لگا ہے، چنانچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
۲۱-باب: لال رنگ کااستعمال جائز ہے​


4072- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَائِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، وَرَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ۔
* تخريج: خ/المناقب ۲۳ (۳۵۵۱)، اللباس ۳۵ (۵۸۴۸)، ۶۸ (۵۹۰۱)، م/الفضائل ۲۵ (۲۳۳۷)، ت/اللباس ۴ (۱۷۲۴)، الأدب ۴۷ (۲۸۱۱)، المناقب ۸ (۳۶۳۵)، الشمائل ۱ (۶۲)، ۳ (۶۴)، ن/الزینۃ من المجتبی ۵ (۵۲۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۶۹)، وقد أخرجہ: ق/اللباس ۲۰ (۳۵۹۹)، حم (۴/۲۸۱، ۲۹۵)، وأعاد المؤلف بعضہ فی الترجل (۴۲۸۴) (صحیح)
۴۰۷۲- براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی ۔


4073- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِمِنًى يَخْطُبُ عَلَى بَغْلَةٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ، وَعَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه أَمَامَهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۷۷) (صحیح)
۴۰۷۳- عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں ایک خچر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ پر لال چادر تھی اور علی رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آپ کی آواز دوسروں تک پہنچا رہے تھے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی آپ جو کہتے ہیں اسے بلند آواز سے پکار کر کہہ دیتے تاکہ آپ کی باتیں لوگوں کو پہنچ جائیں۔
 
Top