20- بَاب فِي الْحُمْرَةِ
۲۰-باب: لال رنگ کا بیان
4066- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ، فَقَالَ: < مَا هَذِهِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ؟ > فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ، فَقَذَفْتُهَا فِيهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: <يَاعَبْدَاللَّهِ! مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ؟ > فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: < أَلا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ، فَإِنَّهُ لابَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ >۔
* تخريج: ق/اللباس ۲۱ (۳۶۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۴، ۱۹۶) (حسن)
۴۰۶۶- عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے؟‘‘، میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو نا پسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ’’عبداللہ! وہ چادر کیا ہوئی؟‘‘، تو میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے اسے تنو رمیں ڈال دیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں‘‘۔
4067- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ هِشَامٌ -يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ-: الْمُضَرَّجَةُ الَّتِي لَيْسَتْ بِمُشَبَّعَةٍ وَلا الْمُوَرَّدَةُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۱۱) (صحیح)
۴۰۶۷- ہشام بن غاز کہتے ہیں کہ وہ مضرجہ(چادر) ہوتی ہے جو درمیانی رنگ کی ہو نہ بہت زیادہ لال ہو اور نہ بالکل گلا بی ۔
4068- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ شُفْعَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ: أُرَاهُ، وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٌ، فَقَالَ: < مَا هَذَا؟> فَانْطَلَقْتُ فَأَحْرَقْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ؟ > فَقُلْتُ: أَحْرَقْتُهُ، قَالَ: <أَفَلا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ ثَوْرٌ عَنْ خَالِدٍ فَقَالَ: مُوَرَّدٌ، وَطَاوُسٌ قَالَ: مُعَصْفَرٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۴۰۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۲۴) (ضعیف)
۴۰۶۸- عبداللہ بن عمروبن العا ص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (نا گواری کے اندا ز میں)فرمایا :’’یہ کیا ہے ؟‘‘، تو میں نے جاکر اسے جلادیا پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ’’تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟‘‘، تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورّد(گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طائوس نے معصفر(کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔
4069- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ -يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ- حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ، فَسَلَّمَ [عَلَيْهِ]، فَلَمْ يَرُدَّ [عَلَيْهِ] النَّبِيُّ ﷺ ۔
* تخريج: ت/الأدب ۴۵ (۲۸۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۱۸) (ضعیف)
(سند میں ابویحیی القتات لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
۴۰۶۹- عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا ۔
4070- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ -يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى رَوَاحِلِنَا وَعَلَى إِبِلِنَا أَكْسِيَةً فِيهَا خُيُوطُ عِهْنٍ حُمْرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَلا أَرَى هَذِهِ الْحُمْرَةَ قَدْ عَلَتْكُمْ؟ > فَقُمْنَا سِرَاعًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى نَفَرَ بَعْضُ إِبِلِنَا، فَأَخَذْنَا الأَكْسِيَةَ فَنَزَعْنَاهَا عَنْهَا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۶۳) (ضعیف الإسناد)
۴۰۷۰- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں (پالانوں) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے‘‘ (ابھی تو زین پوش سر خ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگوگے) تو رسول اللہ ﷺ کی یہ با ت سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا ۔
4071- حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ ابْنُ عَوْفٍ [الطَّائِيُّ]: وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ -يَعْنِي ابْنَ زُرْعَةَ- عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ الأَبَحِّ السَّلِيحِيِّ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَتْ: كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَنَحْنُ نَصْبُغُ ثِيَابًا لَهَا بِمَغْرَةٍ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ، فَأَخَذَتْ فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَجَعَ، فَاطَّلَعَ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا دَخَلَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۶۹) (ضعیف الإسناد)
۴۰۷۱- حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے: میں ایک دن ام المو منین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیر وے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ نا گوار لگا ہے، چنانچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے ۔