- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
3- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارَبَةِ
۳-باب: اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان
4364- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُكْلٍ، أَوْ قَالَ مِنْ عُرَيْنَةَ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِلِقَاحٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ ﷺ خَبَرُهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ فِي آثَارِهِمْ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيئَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسُمِرَ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلا يُسْقَوْنَ، قَالَ أَبُو قِلابَةَ: فَهَؤُلاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۔
* تخريج: خ/الوضوء ۶۶ (۲۲۳)، الجہاد ۱۵۲ (۳۰۱۸)، م/القسامۃ ۲ (۱۶۷۱)، الطب ۶ (۲۰۴۲)، ن/الطہارۃ ۱۹۱ (۳۰۶)، المحاربۃ ۷ (۴۰۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۵)، وقد أخرجہ: ت/الطہارۃ ۵۵ (۷۲)، الأطعمۃ ۳۸ (۱۸۴۵)، حم ( ۳ / ۰۷ ۱، ۱۷۷، ۱۹۸، ۲۰۵، ۲۸۷) (صحیح)
۴۳۶۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ٔ عکل، یا قبیلہ ٔ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو مدینہ کی آب وہوا انہیں راس نہ آئی ،رسول اللہ ﷺ نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاںدلوائیں، اور انہیںحکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ ( اونٹنیاں لے کر ) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرمﷺکو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چنانچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑکر لے آیا گیا، آپ ﷺ نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی ۔
4365- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ، فَكَحَلَهُمْ، وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَمَا حَسَمَهُمْ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۵) (صحیح)
۴۳۶۵- اس سند سے بھی ایوب سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ ﷺ نے سلائیوں کو گرم کرنے کا حکم دیاتو وہ گرم کی گئیں، پھر انہیں آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں پھیر دیں، ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالے، اور ان کو یکبارگی ہی نہیں مار ڈالا۔
4366- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا (ح) وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ- عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً، فَأُتِيَ بِهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذَلِكَ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا} الآيَةَ.
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۳۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۵) (صحیح)
۴۳۶۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے تعاقب میں کچھ مخبر بھیجے تو انہیں پکڑ کر لایاگیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت کریمہ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا} ۱؎اتاری۔
وضاحت ۱؎ : جواللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کردئے جائیں (سورۃ المائدۃ:۳۳)
4367- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَقَتَادَةُ وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمْ يَكْدِمُ الأَرْضَ بِفِيهِ عَطَشًا حَتَّى مَاتُوا ۔
* تخريج: ت/ الطہارۃ ۵۵ (۷۲)، ن/ المحاربۃ ۷ (۴۰۳۹) (تحفۃ الأشراف: ۳۱۷، ۱۱۵۶) (صحیح)
۴۳۶۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں انس کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین کو اپنے منہ سے کاٹتا تھا یہاں تک کہ وہ سب ( پیاس سے تڑپ تڑپ کر ) مرگئے۔
4368- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، نَحْوَهُ، زَادَ: ثُمَّ نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ [وَلَمْ يَذْكُرْ < مِنْ خِلافٍ > وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَسَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ عَنْ ثَابِتٍ جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ، لَمْ يَذْكُرَا < مِنْ خِلافٍ > وَلَمْ أَجِدْ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ < قَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلافٍ > إِلا فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ] ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۴۳۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۷۷) (صحیح)
۴۳۶۸- اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے ’’پھر آپ نے مثلہ سے منع فرمادیا‘‘ اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔
شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر ۔
4369- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبِدْاللَّهِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، قَالَ أَحْمَدُ: هُوَ -يَعْنِي عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ نَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ ﷺ فَاسْتَاقُوهَا، وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مُؤْمِنًا، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُخِذُوا، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، قَالَ: وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ، وَهُمِ الَّذِينَ أَخْبَرَ عَنْهُمْ أَنَسُ ابْنُ مَالِكٍ الْحَجَّاجَ حِينَ سَأَلَهُ۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۷ (۴۰۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۷۵، ۱۸۸۹۸) (حسن صحیح)
۴۳۶۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ کرانہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتدہو گئے، اور آپ ﷺ کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑ ے گئے، توآپ ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کوخبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا ۔
4370- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا قَطَّعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ عَاتَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا} الآيَةَ ۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۷ (۴۰۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۷۵، ۱۸۸۹۸) (ضعیف)
۴۳۷۰- ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان لوگوں کے (ہاتھ پاؤں ) کاٹے جنہوں نے آپ کے اونٹ چرائے تھے اور ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائیاں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سلسلہ میں عتاب فرمایا: اورآیت محاربہ{إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا} ۱؎اخیر تک نازل فرمائی۔
وضاحت ۱؎ : جواللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کردئے جائیں یا سولی پر چڑھا دئے جائیں (سورۃ المائدۃ:۳۳)
4371- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا(ح) وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ، يَعْنِي حَدِيثَ أَنَسٍ۔
* تخريج: خ/ الطب ۶ (۵۶۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۹۱) (ضعیف)
۴۳۷۱- محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ یہ حدود کے نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے یعنی انس رضی اللہ عنہ کی روایت ۔
4372- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ} إِلَى قَوْلِهِ {غَفُورٌ رَحِيمٌ} نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ ۱؎، فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَهُ۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۷ (۴۰۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۵۱) (حسن )
۴۳۷۲- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ}۔۔۔ {غَفُورٌ رَحِيمٌ} تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کرلے تو ایسا نہ ہوگا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : سنن نسائی میں یہاں عبارت اس طرح ہے : ’’فمن تاب منهم قبل أن يقدر عليه لم يكن عليه سبيل، وليست هذه الآية للرجل المسلم، فمن قتل وأفسد في الأرض وحارب الله ورسوله ثم لحق بالكفار قبل أن يقدر عليه لم يمنعه ذلك أن يقام فيه الحد الذي أصابه‘‘۔
وضاحت ۲؎ : یہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب ہے، جمہور علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، نیز اس کے راوی علی بن حسین کے بارے میں کلام ہے، ان کا حافظہ کمزور تھا اس لئے انہیں وہم ہوجاتاتھا ۔