19- بَاب فِي الْجَهْمِيَّةِ
۱۹-باب: جہمیہ کا بیان ۱ ؎
4721- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَائَلُونَ حَتَّى يُقَالَ هَذَا: خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ >۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۱۱ (۳۲۷۶)، م/الإیمان ۶۰ (۱۳۴)، ن/ الیوم واللیلۃ (۶۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۳۱) (صحیح)
۴۷۲۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگ ایک دوسرے سے برا برسوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا : اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے : میں اللہ پر ایمان لا یا '' ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : جہمیہ:اہل بدعت کا ایک مشہور فرقہ ہے جواللہ کی صفات کا منکر ہے اور قرآن کو مخلوق کہتا ہے ، ائمہ دین کی بہت بڑی تعداد نے ان کی تکفیرکی ہے۔
وضاحت ۲؎ : اگر آدمی کو کوئی اس طرح کا شیطانی وسوسہ لاحق ہو تو اس کو دور کرنے اور ذہن سے جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لا چکا ہوں، صحیحین کی روایت میں ہے: میں اللہ و رسول پر ایمان لاچکا ہوں۔
4722- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ- قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ- قَالَ: حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَميْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: < فَإِذَا قَالُوا ذَلِكَ فَقُولُوا: {اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} ثُمَّ لِيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثًا وَلْيَسْتَعِذْ مِنَ الشَّيْطَانِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، ن/ عمل الیوم واللیۃ (۶۶۱)، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۷۸) (حسن)
۴۷۲۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ، پھر اس جیسی روایت ذکر کی ، البتہ اس میں ہے ، آپ نے فرمایا: ''جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو:
{اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} ( اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎ ، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ) پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھو کے اور شیطان سے پناہ مانگے''۔
وضاحت ۱؎ : احد وہ ہے جس کا کوئی مثیل و نظیر نہ ہو ، صمد وہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں۔
4723- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: < مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟ > قَالُوا: السَّحَابَ، قَالَ: < وَالْمُزْنَ > قَالُوا: وَالْمُزْنَ، قَالَ: <وَالْعَنَانَ > قَالُوا: وَالْعَنَانَ- قَالَ أَبو دَاود: لَمْ أُتْقِنِ الْعَنَانَ جَيِّدًا- قَالَ: $ هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ؟ > قَالُوا: لا نَدْرِي، قَالَ: < إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ أَوِ اثْنَتَانِ أَوْ ثَلاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، ثُمَّ السَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ > حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ: <ثُمَّ فَوْقَ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَائٍ إِلَى سَمَائٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلافِهِمْ وَرُكَبِهِمْ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَائٍ إِلَى سَمَائٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِمُ الْعَرْشُ مَا بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَائٍ إِلَى سَمَائٍ، ثُمَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ ۔
* تخريج: ت/تفسیر الحاقۃ ۶۷ (۳۳۲۰)، ق/المقدمۃ ۱۳ (۱۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۰۶، ۲۰۷) (ضعیف)
( اس کے راوی ''عبداللہ بن عمیرہ'' لین الحدیث ہیں)
۴۷۲۳- عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحا ء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ،جس میں رسول اللہ ﷺ بھی موجود تھے ، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: ''تم اسے کیا نام دیتے ہو؟ ''، لوگوں نے عرض کیا: سحاب( بادل )،آپ ﷺ نے فرمایا : ''اور مزن بھی''، لوگوں نے کہا: ہاں مزن بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اورعنان بھی''، لوگوں نے عرض کیا: اورعنان بھی، (ابو داود کہتے ہیں: عنان کو میں اچھی طرح ضبط نہ کرسکا) آپ ﷺ نے پوچھا: ''کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے ؟'' ، لوگوں نے عرض کیا : ہمیں نہیں معلوم، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسا فت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے'' ، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سات آسمان گنائے ، ''پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے ، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے ، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے ، جس کے نچلے حصہ اور اوپر ی حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی ، پھر اس کے اوپر اللہ تعالی ہے''۔
وضاحت ۱؎ : یعنی فرشتے ان کی شکل میں ہیں۔
4724- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالا: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۴) (ضعیف)
۴۷۲۴- اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔
4725- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۷۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۴) (ضعیف)
۴۷۲۵- اس سند سے بھی سماک سے اسی لمبی حدیث کا مفہوم مروی ہے ۔
4726- حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍالرِّبَاطِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ أَحْمَدُ: كَتَبْنَاهُ مِنْ نُسْخَتِهِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جُهِدَتِ الأَنْفُسُ، وَضَاعَتِ الْعِيَالُ، وَنُهِكَتِ الأَمْوَالُ، وَهَلَكَتِ الأَنْعَامُ، فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا، فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < وَيْحَكَ!! أَتَدْرِي مَا تَقُولُ؟ > وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: < وَيْحَكَ!! إِنَّهُ لا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ!! أَتَدْرِي مَا اللَّهُ، إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا > وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ: < وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ > قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: < إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ > وَسَاقَ الْحَدِيثَ، و قَالَ عَبْدُالأَعْلَى وَابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الصَّحِيحُ، وَافَقَهُ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ كَمَا قَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا، وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِالأَعْلَى وَابْنِ الْمُثَنَّى وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۹۶) (ضعیف)
(ابن اسحاق مدلس ہیں، نیز سند میں اختلاف ہے)
۴۷۲۶- جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اورکہا : اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے ، گھر بار تبا ہ ہو گئے ، مال گھٹ گئے ، جا نور ہلا ک ہو گئے ، لہٰذا آپ ہمارے لئے با رش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اوراللہ کو سفا رشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارا برا ہو، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟''، پھر رسول اللہ ﷺ سبحا ن اللہ کہنے لگے، اور برا بر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ ﷺ کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا: ''تمہارا برا ہو اللہ کواس کی مخلوق میں سے کسی کے دربارمیں سفارشی نہیں بنایا جاسکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے ، تمہارا برا ہو! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے ، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے (آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طو ر پر اشارہ کیا) اور وہ چر چر اتا ہے جیسے پالا ن سوا ر کے بیٹھنے سے چر چرا تا ہے، ( ابن بشار کی حدیث میں ہے) اللہ تعالی اپنے عرش کے اوپر ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے ۲؎ ''، اور پھر پوری حدیث ذکر کی ۔
عبدالا علی، ابن مثنّٰی اور ابن بشا رتینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمدبن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے ۔
البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے ، اس پر ان کی مو افقت ایک جماعت نے کی ہے ، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے ، اور عبدالاعلی ، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے ، ایک ہی نسخے سے ہے۔
4727- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۸۶) (صحیح)
۴۷۲۷- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: '' مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فر شتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : عمدہ گھوڑے کی چال سے جیسا کہ دوسری حدیث میں مروی ہے،اس حدیث کا مقصود حاملین عرش کا طول وعرض اور عظمت وجثہ بتانا ہے، اور ستر کاعدد بطور تحدید نہیں ہے بلکہ اس سے کثرت مراد ہے۔
4728- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ -يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ- حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {سَمِيعًا بَصِيرًا} قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: قَالَ الْمُقْرِءُ: [يَعْنِي {إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ} يَعْنِي أَنَّ لِلَّهِ سَمْعًا وَبَصَرًا] .
قَالَ أَبو دَاود: وَهَذَا رَدٌّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۶۷) (صحیح الإسناد)
۴۷۲۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیرکہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کوآیت کریمہ
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا}۔۔۔ {سَمِيعًا بَصِيرًا} ۱؎ تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، (یعنی شہادت کی انگلی کو) ، ابو ہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔
ابن یونس کہتے ہیں :عبداللہ بن یزید مقری نے کہا: یعنی
{إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ} پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ جہمیہ کا ردّ ہے ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو ۔۔۔۔۔۔اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے'' (سورۃ النساء : ۵۸)
وضاحت ۲؎ : اس حدیث میں جہمیہ کا رد بلیغ ہے، جہمیہ اللہ کے لئے صفت سمع وبصر کی نفی کرتے ہیں، رسول اکرمﷺ نے انگوٹھا اور انگلی رکھ کر ان کی تردید فرمادی، جہمیہ تشبیہ سے بچنے کے لئے ایسا کہتے ہیں، جب کہ اس میں تشبیہ ہے ہی نہیں، مقصود صفت سمع (سننا) صفت بصر(دیکھنا) کا اثبات ہے، یہ مقصود نہیں کہ اس کی آنکھ وکان ہماری آنکھ اور کان جیسے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ کان اس کی عظمت وجلال کے لائق ہیں، بلا کسی کیفیت تشبیہ، وتمثیل اور تعطیل کے سبحانہ تعالیٰ۔