80- بَاب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ
۸۰-باب: اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟
2472- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ، وَلايُعَرِّجُ، يَسْأَلُ عَنْهُ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: قَالَتْ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۱۵) (ضعیف)
(اس کے راوی'' لیث بن ابی سلیم ''ضعیف ہیں)
۲۴۷۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹہرے اس کا حال پوچھتے۔
2473- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ- عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتِ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَعُودَ مَرِيضًا، وَلا يَشْهَدَ جَنَازَةً، وَلا يَمَسَّ امْرَأَةً، وَلا يُبَاشِرَهَا، وَلا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلا لِمَا لابُدَّ مِنْهُ، وَلا اعْتِكَافَ إِلابِصَوْمٍ، وَلااعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ.
قَالَ أَبو دَاود: غَيْرُ عَبْدِالرَّحْمَنِ لا يَقُولُ فِيهِ: < قَالَتِ السُّنَّةُ >.
قَالَ أَبو دَاود: جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴) (حسن صحیح)
۲۴۷۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر صیام کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔
ابوداود کہتے ہیں:عبدالرحمن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ''قَالَتْ:
السُّنَّةُ'' کا لفظ نہیں ہے۔
ابوداود کہتے ہیں:انہوں نے اسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قراردیا ہے۔
2474- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ [بْنُ بُدَيْلٍ] عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِي اللَّه عَنْه جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < اعْتَكِفْ وَصُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴)، وقد أخرجہ: خ/الاعتکاف ۱۶ (۲۰۴۳)، م/الأیمان والنذور ۷ (۱۶۵۶)، ت/الأیمان والنذور ۱۱ (۱۵۳۹)، ن/الکبری/ الاعتکاف (۳۳۵۵)، كلهم رووا هذا الحديث بلفظ: ''أوف بنذرك''۔ (صحیح) دون قوله: ''أو يومًا'' وقوله: ''وصم''
(سب کے یہاں صرف ''اپنی نذر پوری کر '' کا لفظ ہے اوربس)
۲۴۷۴- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا :'' اعتکاف کرو اور صیام رکھو''۔
2475- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ [يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ] عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَاللَّهِ؟ قَالَ: سَبْيُ هَوَازِنَ أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ ، قَالَ: وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴) (صحیح)
۲۴۷۵- اس سند سے بھی عبد اللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ (عمر رضی اللہ عنہ ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے ''الله أكبر'' کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ ﷺ نے آزاد کردیا ہے، کہا :یہ لونڈی بھی( تو انہیں میں سے ہے) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کردیا۔
وضاحت ۱؎ : مطلب یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ سے جب یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے تو اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ لونڈی جو میرے پاس ہے وہ بھی تو انہیں قیدیوں میں سے ہے پھر تم اسے کیسے روکے ہوئے ہو۔