• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اردو ترجمہ سنن ابو داود



مقدمه

از: ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی​
الحمدلله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، أما بعد:
فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، {خَلَقَ الإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [سورة العلق: 1-5]، وقال تعالى: {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لايَعْلَمُونَ} [سورة الزمر: 9]۔

اللہ رب العزت کی بے پایاں حمد و ثنا ہے کہ اس نے ہمیں دینی اور دنیوی نعمتوں کے ساتھ ایک عظیم نعمت عطا فرمائی جو آپ کے سامنے ہے، یہ ہمارے ’’تعارفِ اسلام‘‘ کے عظیم منصوبے کی پہلی کتاب ہے، جو ہم اُردو داں طبقے کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ اس کتاب اور اس سلسلے کی دوسری کتابوں کو قبول عام بخشے، اس کا فیض عام ہو اور اسلام کا صحیح تعارف ہم سب کے لئے آخرت میں کامیابی و کامرانی کی دلیل بن جائے، آمین۔
اسلام کے فہم و تعارف کے بنیادی مراجع و مآخذ مندرجہ ذیل ہیں:
۱- کتاب اللہ العزیز اور اس کی وہ تفاسیر جو قرآن و احادیثِ صحیحہ و آثار سلف کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہیں
۲- احادیثِ صحیحہ و آثارِ صحابہ و تابعین و سلف صالحین
۳- سیرتِ نبویہ شریفہ
۴- ائمۂ دین و فقہاء اسلام کی مؤلفات
برصغیر میں اردو زبان میں (۲۰۰) سال سے اسلام کے تعارف کا کام ہو رہا ہے، دعوت و تبلیغ اور اسلامی تعلیمات کے فروغ سے متعلق مساعی کا ایک طویل سلسلہ ہے، ادارے اور افراد اپنی بساط، اپنے منہج و مطمحِ نظر اوراہداف و مقاصد کے مطابق حسب توفیق اس خدمت کو انجام دے رہے ہیں (شکر اللہ سعیہم وأجزل لہم المثوبۃ)، لیکن برصغیر میں ہونے والی اِن مساعی کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ اسلام کے صحیح تعارف کے سلسلے میں ہمیں بڑی مشکلات کا سامنا ہے، ہماری مساجد، ہمارے مدارس و جامعات، ہمارے دعوتی و تبلیغی مراکز، ہماری صحافت گروہ بندی، تحزب، تقلید، اور تصوف کے اثراتِ بد سے اسلام کے تعارف کی ذمہ داری سے حقیقی معنوں میں عہدہ برآ ہونے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
ملک کا حکمراں اور اکثریتی طبقہ اور اس کے رجحانات، خیالات، منصوبوں اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات سے ملتِ اسلامیہ اس وقت تک نبرد آزما نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنی صحیح صف بندی اور صحیح بنیاد پر اصلاح و تربیت کے عمل سے نہ گزرے۔

احادیث ملاحظہ کریں

طہارت کے احکام و مسائل

صلاۃ کے احکام و مسائل

صف کے احکام و مسائل

سترہ کے احکام و مسائل

صلاۃ شروع کرنے کے احکام و مسائل

رکوع اور سجود کے احکام و مسائل

جمعہ کے احکام و مسائل

صلاۃِ استسقا اور اس کے احکام و مسائل

صلاۃ کسوف کا بیان

سفر میں صلاۃ کے احکام و مسائل

تہجد (قیام اللیل) کے احکام و مسائل

ماہ رمضان کے احکام مسائل

قرآن کی تلاوت و ترتیل اور اسکے حزب (حصے) مقرر کرنے کے احکام و مسائل

وتر کے احکام و مسائل

قرآن پڑھنے کے ثواب کا بیان

زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل

لقطہ کے احکام و مسائل

حج اور عمرہ کے مناسک (احکام و مسائل)

نکاح کے احکام ومسائل

طلاق کے احکام و مسائل

صیام کے احکام و مسائل

جہاد کے احکام و مسائل

قربانی کے احکام و مسائل

شکار کے احکام و مسائل

وصیت کے احکام و مسائل

میراث کے احکام و مسائل

خراج، فیٔ اور سلطنت کے احکام و مسائل

جنازہ کے احکام و مسائل

قسم اور نذر کے احکام و مسائل

خرید و فروخت کے احکام و مسائل

مزدوری اور کرایہ سے متعلق احکام و مسائل

قضا کے احکام و مسائل

علم کے آداب و مسائل

پینے کے احکام و مسائل

کھانے کے احکام و مسائل

طب کے احکام و مسائل

غلام آزاد کرنے کے احکام و مسائل

قرآن کے حروف اور قرأتوں کا بیان

غسل خانے اور نہانے کے احکام و مسائل

کنگھی کرنے کے احکام و مسائل

انگوٹھی کے احکام و مسائل

فتنوں اور لڑائیوں کا بیان

خروج مہدی کا بیان

لڑائیوں کا بیان

حدود کے احکام و مسائل

دیت کے احکام و مسائل

سنت وعقائد کے احکام و مسائل

آداب و اخلاق کا بیان

نیند سے متعلق احکام و مسائل
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دعوتی و تعلیمی کاموں کے تجزیئے کے بعد جو بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ صرف اس ملک ہی میں نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی ان میدانوں میں ہونے والے تجربات کو نقد و نظر کی کسوٹی پر پرکھنا بے حد ضروری ہو گیا ہے۔
ہماری اساسِ دین کتاب اللہ اور سنتِ صحیحہ ہے، جس کی تبلیغ و دعوت ہم پر فرض ہے، اور فہمِ اسلام میں سلف کے فہم و تعامل کی پابندی کلیدی اہمیت کی حامل شرط ہے۔
ہندوستان میں شاہ ولی اللہ دہلوی (رحمہ اللہ) (م ۱۱۷۶؁ھ) نے فارسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ اور موطا امام مالک کی شرح اور فنِ اصول تفسیر میں ایک مختصر جامع ’’الفوز الكبير‘‘ نامی رسالہ تحریر فرما کر عام مسلمانوں کی ان کی مادری زبان میں رہنمائی کا کام شروع کیا، اس کام کو آپ کے علم کی وارث اولاد نے آگے بڑھایا، شاہ عبد العزیز (رحمہ اللہ) کی تصنیفات بالخصوص تفسیرِقرآن، اور شاہ عبد القادر(رحمہ اللہ) کا اردو ترجمۂ قرآن پھر شاہ ولی اللہ (رحمہ اللہ) کے نامور پوتے امامِ عصر و مجددِ دین شاہ اسماعیل (رحمہ اللہ) کی مصلحانہ اور مجاہدانہ کوششوں نے دعوت و تبلیغ کے کام کو گھر گھر پہنچا دیا، اور عملاً اردو زبان مسلمانوں کی دینی زبان قرار پائی۔
علامہ نواب صدیق حسن قنوجی بھوپالی (رحمہ اللہ) (م ۱۳۰۷؁ھ) نے عربی اردو اور فارسی زبانوں میں خود سینکڑوں کتابیں تصنیف فرمائیں اور کتاب و سنت اور منہجِ سلف صالحین کی اشاعت فرمائی، نیز ائمہ حدیث وفقہ کی کتابوں کی اشاعت فرما کر انہیں سارے عالم میں پھیلایا اور علماءِ حق کی جماعت کی ہمت افزائی فرمائی، چنانچہ آپ کی رہنمائی سے علامہ نواب وحید الزمان حیدر آبادی اورعلامہ بدیع الزمان حیدرآبادی (رحمہما اللہ) نے صحاح ستہ اور موطا کو اردو کا جامہ پہنایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
میاں نذیر حسین محدث دہلوی (رحمہ اللہ) (م ۱۳۲۰؁) اور ان کے باکمال مشاہیر تلامذہ نے کتاب و سنت کی اشاعت اور منہجِ سلف کی ترویج، احیاء سنت اور ردّ بدعات و شرکیات کا کام مختلف انداز سے کیا، جن میں کتابوں کی تصنیف و تالیف اور ان کی اشاعت کا کام دین کی مؤثر اور مفید خدمت ہے۔
اگر ہم اسلام کے تعارف میں ہونے والی خدمات کا جائزہ مذکورہ بالا معروضات کے حوالے سے لیں تو اسلام کے صحیح تعارف کا حجم اور وزن واضح ہو جائے گا۔
اس وقت ہمارا دینی، تعلیمی اوردعوتی ڈھانچہ تقلید و تحزب پر قائم ہے، نیز عربی زبان سے ناآشنائی اور دعوت کے کام میں نااہل لوگوں کی شرکت بھی ایک بڑا مرض ہے، دعوت، تعلیم اور صحافت سے متعلق لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام کے مآخذ و مصادر سے استفادے میں کوتاہی کا شکار ہے، مشہور مراجع اور مستند مآخذ میں اس کے یہاں فرق و تمییز نہیں، صحیح و ضعیف احادیث و آثار کا اس کو پتہ نہیں، فقہی مسالک کی پابندی سے مزید بُعد پیدا ہو رہا ہے، معاشرتی پابندیوں کا خوف اور بائیکاٹ کا ڈر بھی صحیح اسلام پر عمل کی راہ میں رکاوٹ ہے، لوگوں کی ایک بڑی تعداد حق کی تلاش میں ہے، لیکن اسے یا توحق مل ہی نہیں رہا ہے، یا یہ کہ حقیقت و خرافات کے گڈمڈ ہونے سے صحیح اسلام تک پہنچنا ایک بڑا مسئلہ ہو گیا ہے، صحیح مراجع بھی لوگوں کو دستیاب نہیں ہیں، علماءِ حق کے تعاون کے بغیر اسلامی مراجع و مآخذ سے استفادہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، ایسی حالت میں عربی مراجع سے استفادہ میں بھی بڑے اشکالات ہیں چہ جائیکہ عربی زبان و اسلامیات سے نابلد افراد اردو یا ہندی کتابوں سے اسلام سیکھیں۔
اگر اردو مؤلفین کی ایک فہرست تیار کی جائے اور ان کی مؤلفات سے ان کی صلاحیت و قابلیت کا چارٹ تیارکیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس شعبہ میں قابل اعتماد افراد کی بڑی کمی ہے۔
بازار میں حدیث کی کتابوں کے تراجم موجود ہیں جن میں اسلام کے صحیح تعارف میں صحیح بخاری و صحیح مسلم صحت و جامعیت کے اعتبار سے سب سے بہتر کتابیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سنن اربعہ (سنن ابو داود، سنن ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ) کی بیشتر احادیث میں صحیح و ضعیف کی نشاندہی نہیں ہے اس لئے ان سے استفادہ میں محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے، تفسیری مواد میں تراجم کی حد تک زیادہ تحریف و تاویل کی گنجائش نہیں ہے، لیکن تفسیر و حواشی میں قرآن کی تعلیمات کو اپنے مذہب وعقیدہ کے مطابق بنانے کی کوششوں کا حال پڑھے لکھے لوگوں پر مخفی نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

اسلامی علوم ومعارف کی اردو اور دوسری زبانوں میں اشاعت کا عظیم علمی و دعوتی منصوبہ​

اگست ۱۹۹۷؁ء میں دار الدعوۃ (نئی دہلی) کے قیام اور اس کے مقاصد پر دہلی ہی میں ایک سیمینار کے ذریعہ اس کا تعارف کرایا جا چکا ہے، سیمینار کا عنوان تھا ’’عصر حاضر میں اسلام کا صحیح تعارف‘‘ ، فاضل شرکاء نے اپنے مقالات اور تجاویز کے ذریعے اس منصوبے کی تصویب و تائید فرمائی جس سے ہمارے عزائم کو تقویت ملی اور عملی طور پر اس کام کے لئے جد و جہد کا آغاز ہوا، فالحمد للہ۔
دار الدعوۃ نے صحیح اسلام کے تعارف کے عنوان سے جو پروگرام مرتب کیا ہے وہ مختصراً اس طرح ہے:
* تفسیر میں:
۱- علامہ شیخ عبدالرحمن سعدی کی تفسیر (تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان) کا اردو اور ہندی ترجمہ، (الحمد للہ اُردو ایڈیشن زیرِ طباعت ہے)
۲- تفسیر وحیدی، تألیف علامہ وحید الزمان حیدرآبادی۔ (زیرطباعت)
۳- تفسیر شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور تفسیر امام ابن القیم کی اشاعت (زیر تالیف وترجمہ)۔
* حدیث میں:
’’حدیث انسائیکلوپیڈیا اُردو‘‘ کی تدوین و اشاعت، اس منصوبے میں مندرجہ ذیل آٹھ کتابیں ہیں:
(۱) صحیح بخاری (۲) صحیح مسلم (۳) سنن نسائی (۴) سنن ابی داود
(۵) سنن ترمذی (۶) سنن ابن ماجہ (۷) موطا مالک (۸) سنن دارمی
(الحمد للہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور سنن ابو داود کا یہ ایڈیشن اس منصوبہ کی پہلی کتاب ہے)
* سیرت نبویہ و تاریخ اسلام میں:
محدثین کے اصول جرح و تعدیل اور تنقیدی اصول کی بنیاد پر ہونے والے قدیم و جدید علمی کام سے استفادہ کرکے ایسی کتابوں کی تیاری و اشاعت کا کام جس سے اس میدان میں اردو میں ایک مفید اضافہ ہو گا، ان شاء اللہ۔
* معارف شیخ الاسلام ابن تیمیہ و علامہ ابن القیم و امام محمد بن عبدالوہاب (رحمہم اللہ):
اسلام کی شرح و تفسیر اور صحیح ترجمانی کے باب میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، امام ابن القیم، اور مجددِ دین شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب -رحمہم اللہ- کے علوم و معارف کی اہمیت و افادیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، ان کی تاثیر اور افادیت میں بھی کسی کو کلام نہیں، آج عالم اسلام میں حقیقی دینی بیداری کی بنیاد یہی کتابیں ہیں، اس لئے اردو داں طبقے کے لئے ان افادات کی اہمیت پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں مولانا ابو الکلام آزاد (رحمہ اللہ ) کی جد و جہد اور سوچ کا ذکر بے جا نہ ہو گا، موصوف کے نزدیک اسلامیان ہند کے لئے معارف ابن تیمیہ و ابن قیم کو اردو میں منتقل کرنے کی بڑی اہمیت تھی، چنانچہ آپ کی ہمت افزائی پر مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے بعض رسائل کو اردو کا جامہ پہنا کر شائع کیا ،جب مولانا محمد بن ابراہیم جونا گڑھی (رحمہ اللہ) نے تفسیر ابن کثیر اور اِعلام الموقعین لابن القیم کو اردو کا جامہ پہنایا اور اس کی اشاعت کرکے اردو لٹریچرمیں مفید اضافہ فرمایا تو مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ نے دو خط لکھ کر انہیں ہدیۂ تبریک پیش کیا، اس کام کی اہمیت کو واضح کیا اور اپنے تعاون کی بھی پیشکش کی۔
برصغیر کی متنوع دعوتی و دینی اور تعلیمی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ اسلامی لیٹریچر میں بوجوہ چند وہ صلاحیت نہیں نظر آتی جو اس وقت امت کی ضرورت کو پوری کر سکے۔
اردو ہندی اور علاقائی زبانوں میں دار الدعوۃ کے اس علمی و دعوتی منصوبے کو دعوت اسلامی کی حقیقی ضروریات کی تکمیل میں اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہو گی، ان شاء اللہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مذکورہ سیمینار کے سال ڈیڑھ سال کے بعد ابتدائی طور پر ’’حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو‘‘ پر کام شروع ہوا، چونکہ صحیحین (بخاری، مسلم) کی احادیث اور موطا امام مالک کی اکثر احادیث صحیح اور ثابت شدہ ہیں، اور امت کے ہر طبقے میں مقبول و مستند، اس لئے ان کے تراجم اور تعلیق و حواشی کا کام مؤخر کر دیا گیا اور سنن اربعہ پر کام شروع کیا گیا، سب سے پہلے مجلس علمی دار الدعوۃ نے ’’سنن ابن ماجہ‘‘ پر کام شروع کیا اور سارے مراحل سے گزر کر یہ کام بالآخر مکمل ہوا، اس کے بعد مجلس نے سنن ابی داود کا کام مکمل کیا، اور الحمدللہ ’’سنن نسائی‘‘ اور ’’سنن ترمذی‘‘ پر بھی کام مکمل ہو چکا ہے اور بقیہ کتابوں پر کام تیزی سے جا ری ہے۔
چونکہ ابتدا ہی سے یہ بات طے کر لی گئی تھی کہ اس نئی اشاعت میں ہر حدیث کی مختصر تخریج بھی شامل رہے گی یعنی اس بات کی نشاندہی کی جائے گی کہ یہ حدیث دوسری حدیث کے مستند مآخذ و مراجع میں اور کہاں کہاں پائی جاتی ہے، نیز اس حدیث کا صحت اور ضعف کے اعتبار سے کیا رتبہ اور درجہ ہے، اردو ترجمہ میں عصر حاضر کے ہندوستانی مسلمانوں کی اردو فہمی کے معیار کو بھی مد نظر رکھنا ہے اور دورِ جدید کی ٹیکنالوجی (کمپیوٹر و انٹرنٹ) کے ذریعہ اس کی اشاعت کا کام بھی ہونا ہے، اس لئے بظاہر کام کی تکمیل میں کافی وقت لگا، لیکن الحمدللہ اب تک ادارہ کی پالیسی یہ رہی ہے کہ جب تک موجودہ امکانات و وسائل کے مطابق مطلوبہ ہدف پورا نہ کر لیا جائے کام کو فائنل نہ کیا جائے، اور اب تک ایسا ہی ہوتا آیا ہے، اور اب ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ایک ایک کتاب قارئین تک پہنچاتے جائیں۔ (والحمدلله الذي بنعمته تتم الصالحات).
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

اردو زبان میں علمی و تحقیقی کتابوں کی اشاعت کی اہمیت:​

تحقیق و تخریج اور علمی مباحث کے لئے عربی زبان کو اولیت حاصل ہے اور سارا کام اسی زبان میں صدیوں سے ہو رہا ہے، خود ہندستانی علماء کی اہمیت کی حامل تصنیفات عربی زبان ہی میں ملک و بیرون ملک پڑھی جاتی ہیں، اور آج بھی زوروں پر یہ سلسلہ جاری ہے، راقم الحروف کا سارا کام خود عربی زبان ہی میں ہے، لیکن تہذیب و تمدن اور ثقافت و علم کے میدان میں بے انتہا ترقی کے اس دور میں جب کہ مختلف زبانوں میں اسلامی علوم و ثقافت کی منتقلی کا کام جاری ہے اور یہ دینی معلومات مختلف اور تیز وسائلِ ابلاغ کے ذریعہ ہر طرح کی استعداد و صلاحیت والوں تک پہنچ رہی ہیں، اس لئے اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ اسلام کے مستند مآخذ و مراجع اور پختہ کار ائمۂ اہلِ سنت کی تالیفات کو اُردو اور علاقائی زبانوں میں اس انداز سے منتقل کیا جائے کہ اختصار و ایجاز کے ساتھ علمی مباحث کا خلاصہ بھی قارئین کے سامنے آ جائے، بالخصوص عام انسانوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کے سلسلہ میں مطلوبہ صحیح اور مفید معلومات اس انداز سے فراہم کر دی جائیں کہ جس سے علمی طور پر ذہن اور قلب کو اطمنان حاصل ہو جائے، اس لئے کہ کتاب و سنت میں کتاب اللہ کے ثبوت کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی کوئی اختلاف کی بات مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی، جبکہ قرآن کی شرح و تفسیر کی حامل احادیث نبویہ کے بارے میں ہمیشہ سے صحت و ضعف کے مسائل میں اختلاف رہا ہے۔
ہم نے اپنے اس منصوبے میں مذکورہ بالا بات کی اہمیت کے پیش نظر ہر حدیث پر صحت و ضعف کا حکم لگا کر اور حسب ضرورت اس کی توجیہ و تعلیل کر کے اِن احادیث پر ائمۂ محدثین کے اقوال کا خلاصہ عام قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے، جبکہ سو سال سے زیادہ کے عرصہ سے حدیث کی متعدد کتابیں پبلک میں رائج ہیں اور ان میں صحیح و ضعیف کی نشاندہی نہیں ہے، جس سے عوام ہی نہیں بلکہ خواص بھی استفادہ نہیں کر سکتے ۔
اس کے ساتھ ساتھ متن حدیث کی صحت اور حدیث کے دوسرے مآخذ و مراجع میں اس حدیث کے موجود ہونے سے کتاب کی افادیت دوچند ہو جاتی ہے، ضرورت پر مفید حواشی کے اضافہ سے قارئین کرام کے دینی فہم میں اضافہ ہو گا، ان شاء اللہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
احادیث کی تصحیح و تضعیف کا فائدہ اور مقصد:
علماء حدیث نے اصول حدیث کی کتابوں میں صاف لفظوں میں یہ تحریر فرما دیا ہے کہ محدثین نے علم حدیث کے قواعد و ضوابط اور جرح و تعدیل کے مسائل کو مرتب ہی صرف اس واسطے کیا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مقصد اور فائدہ حدیث کی صحت و ضعف کی تشخیص ہے تاکہ ثابت شدہ احادیث پر عمل کیا جائے اور غیر ثابت شدہ ضعیف، منکر اور موضوع احادیث سے اعراض و اجتناب کیا جائے۔
حافظ عراقی فرماتے ہیں : ’’بيان صحته أو حسنه أو ضعفه فإن ذلك هو المقصود الأعظم عند أبناء الآخرة، بل وعند كثير من المحدثين‘‘ (مقدمة كتاب المغني عن حمل الأسفار، 1 / 2).
یعنی: ’’آخرت کے طلبگاروں کے نزدیک بلکہ اکثر محدثین کے یہاں حدیث کا صحیح یا حسن یا ضعیف ہونا ہی علمِ اصولِ حدیث کا سب سے بڑا مقصد ہے‘‘۔
حافظ سیوطی نے (الفیۃ الحدیث) کے مقدمہ میں فرمایا ہے:
علم الحديث ذو قوانين تحد يدرى بها أحوال متن وسند
فذانك الموضوع والمقصود أن يعرف المقبول والمردود

’’علم حدیث جس کے قوانین اور اصول محدَد ہیں، ان کے ذریعہ متن حدیث اور سند حدیث کے احوال کا پتہ چلایا جاتا ہے، اور ان قوانین کا موضوع اور مقصد بس یہی ہوتا ہے کہ اس سے حدیث کے قبول اور ردّ کا علم حاصل ہو جائے‘‘۔
حافظ سیوطی فرماتے ہیں: ’’علم حدیث کی غرض و غایت اور اس کا اصلی مقصود یہ ہے کہ احادیث کے قبول یا ردّ ہونے کا علم حاصل ہو جائے تاکہ صحیح اور ثابت احادیث پر عمل کیا جائے اور ضعیف اور ساقط احادیث کو چھوڑ دیا جائے‘‘ (تدریب الراوی ، ۱؍۲۶)۔
ائمۂ حدیث نے انتہائی بالغ نظری سے ان اصول و ضوابط کو بنایا اور ان کے ذریعہ سے متن احادیث اور رجالِ احادیث کی تحقیق کا کام کیا، اور شروع زمانہ سے آج تک یہ کام برابر جاری ہے، اور ان عظیم کوششوں سے نہ یہ کہ علم حدیث زندہ ہے بلکہ اسلام کی حقانیت پر یہ ایک واضح اور مسلسل دلیل ہے،{إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون}.
ہم نے انتہائی اختصار سے ایک یا دو لفظوں میں ہر ہر حدیث کی صحت اور ضعف کی نشاندہی کی ہے، اہل علم جانتے ہیں کہ ایک ایک حدیث پر ایک ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے، ہم نے تو نئے اور پرانے ناقدین حدیث اور حاذقین فن کے علوم کا خلاصہ پیش کر دیا ہے، جس سے ہر سطح اور صلاحیت کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور اہل علم تخریج میں مذکور مآخذ کی طرف رجوع کر کے اس کی تفصیل بھی معلوم کر سکتے ہیں۔
حدیث کی تصحیح و تضعیف کی نشاندہی درحقیقت اتمام حجت کی ایک اہم کڑی ہے، اب یہ ناظرین کا کام ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو حرز جان بناتے ہیں یا اپنی پرانی روش ہی پر قائم رہتے ہیں، وما علينا إلا البلاغ.
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

کیمیائے سعادت:​

اللہ رب العزت نے دنیا و آخرت میں کامیابی کو ایمان اور عمل صالح سے مشروط کر دیا ہے، سورہ (العصر) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَالْعَصْرِ، إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ، إِلا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ}.
(زمانے کی قسم! بے شک انسان سراسر نقصان اور گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت و تلقین کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی)
فلاح و نجات کے لئے کتاب و سنت کی اتباع اور اللہ و رسول کی اطاعت واجب ہے، اس موضوع کو کتاب و سنت میں طرح طرح سے واضح کیا گیا ہے، کہیں اطاعت و اتباع کا حکم دے کر، کہیں اتباع اور اطاعت کی مخالفت کے عواقب بتا کر، کہیں دوسری قوموں کے انحراف اور اس کے نتیجے میں ان کے قعر مذلت میں چلے جانے کی بات بتا کر، کہیں صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لئے سعادت دارین کی خوش خبری دے کر۔
خلاصہ یہ کہ دین اسلام کا اصل ماخذ کتاب اور سنت صحیحہ ہے، نیز کتاب و سنت کو جس نہج پر سلف صالحین نے سمجھا اور جس طرح ان تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزاری ہم اسی طریقہ پر چل کر اپنے آپ کو کامیاب و کامران کر سکتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے: {فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} (تو جسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے)، (سورۃکہف:۱۱۰)
تابعی جلیل فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد اخلاص و للہیت اور اتباعِ سنت ہے، یعنی کسی بھی عمل کی عند اللہ قبولیت کی دو شرطیں ہیں: پہلی یہ کہ وہ کام اللہ کی رضا جوئی کے لئے کیا جائے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ سنتِ محمدیہ کے مطابق ہو، اسی کو موصوف نے ’’أخلصه وأصوبه‘‘ کی تعبیر سے واضح کیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب و سنت پر چلنے کو ہمارے لئے نسخہ کیمیا بتایا : « تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسكتم بهما: كتاب الله وسنتي»، (اے مسلمانو! میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں، اگر ان دونوں کو پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت اور میرا طریقہ)۔
ایک مسلمان کے لئے سب سے بڑا تحفہ یہی ہے کہ عقیدۂ توحید کے ساتھ اس کی رہنمائی سنت صحیحہ کی طرف کر دی جائے، ہماری اِن کتابوں کے ذریعہ ان شاء اللہ توحید اور سنت کی شاہراہ پر چلنا عام مسلمانوں کے لئے آسان ہو جائے گا، صرف سچی طلب، صالح نیت اور عزم و حوصلہ کی بات ہے۔
 
Top